| 88488 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص نے کچھ عرصہ قبل ایک سپر مارکیٹ کھولنے کا ارادہ کیا۔ امت مسلمہ کے حالات اور غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ کی وجہ سے کاروبار کی ابتدا سے یہ نیت تھی کہ سپر مارکیٹ میں صرف پاکستانی اشیاء یا دیگر اسلامی ممالک سے درآمد کردہ اشیاء رکھے گا، غیر ملکی اشیاء بالخصوص اسرائیلی و امریکی پراڈکٹس نہیں رکھے گا۔ جگہ خریدی ، سب خرچہ کیا اور ماہر افراد سے مشاورت کے بعد کام شروع کیا۔ کچھ وقت کے بعد اندازہ ہوا کہ ایک بڑی سپر مارکیٹ میں جن اشیاء کی طلب زیادہ ہوتی ہے، ان میں 70 سے 75 فیصد اشیاء وہ ہیں، جو غیر ملکی ہیں یا پھر جن اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔ اب مشکل یہ در پیش ہے کہ غیر ملکی اشیاء کی متبادل ملکی پراڈکٹس اول تو دستیاب نہیں ہیں یا پھر معیاری نہیں ہیں، جن کی وجہ سے صارف ان کی ڈیمانڈ زیادہ نہیں کرتا ہے۔ اب اگر وہ صاحب غیر ملکی اشیاء نہیں رکھتے ہیں تو کاروبار سراسر گھاٹے میں جا رہا ہے۔ چند ماہ کاروبار کی مندی کی یہ صورت رہی تو کروڑوں کے نقصان کا اندیشہ ہے۔اس صورت حال کے پیش نظر درج ذیل امور کے بارے میں رہنمائی فرمادیں۔
آیا ایسی صورت حال میں امریکی و اسرائیلی پراڈکٹس کا کاروبار کیا جا سکتا ہے ؟ ان کی خرید و فروخت سے کمائے جانے والا نفع حلال ہو گا؟ان اشیاء کے کاروبار سے وہ کافروں کی معاونت کرنے والا تو شمار نہیں ہو گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن(ملکی یا غیر ملکی) کمپنیوں کی جائزمصنوعات آپ اپنے اسٹور پر رکھ کر بیچتے ہیں، اگروہ کمپنیاں اپنی آمدنی مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتی ہیں توایسی صورت میں ایسی کمپنیوں کی مصنوعات ان سے خرید کر آگے بیچنا،ایمانی غیرت کےسراسر خلاف ہے،لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے،لیکن اس سے حاصل ہونے والی آمدن حرام نہیں ہوگی۔
بہرحال ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایسی متبادل کمپنیوں کو تلاش کرکےان سے مال خریدنا چاہیے،جو اپنی آمدنی مسلمانوں کے خلاف استعمال نہ کرتی ہوں۔
نیزاس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ مذکورہ بنیادپر کسی کمپنی کا بائیکاٹ کرنے سے قبل ماہرین کے ذریعےاچھی طرح تحقیق کرلینی چاہیے کہ آیا وہ کمپنی حقیقت میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہے یا نہیں؟کیوں کہ بسا اوقات بغیر تحقیق کے بھی مختلف مصنوعات یا کمپنیوں کو بائیکاٹ کی لسٹ میں شامل کردیا جاتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (4/ 268)
قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر.
المائدہ، الآیۃ: 2
"وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" .
ترجمہ:"اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو "۔
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
03.ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


