| 90131 | علم کا بیان | تبلیغ کا بیان |
سوال
مفتی صاحب میں ایک مسئلےکی وجہ سے بہت دیر سے پریشان ہوں، میں کپڑے کی دکان میں کسی کے پاس ملازم ہوں، مجھے تقریباً 6سال ہو گئے ہیں لیکن اتنے زیادہ عرصے میں مجھے ابھی تک کپڑے کی کوئی سمجھ نہیں آئی، اور مزدوری بھی بہت تھوڑی ملتی ہے، میں اس کام کو چھوڑنا چاہتا ہوں، لیکن کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آگے کیا کروں۔ ہروقت پریشان رہتا ہوں، زندگی تنگ لگتی ہے،جسم میں بھی بہت سستی رہتی ہے، کسی کے پاس مزدوری کرنا بھی بہت مشکل لگتا ہے، بہت دعائیں کرتا ہوں لیکن کوئی سبب نہیں لگ رہا، میرے چھوٹے بچے بھی ہیں، میرا نظام بہت مشکل سے چل رہا ہے، قرض بھی دینا ہے میں اتنا زیادہ پریشان رہتا ہوں، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں اپنی یشانی کیسے بتاؤں؟ اور محتاجی کا خوف بھی رہتا ہے آپ سے درخواست ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں، مجھے کوئی ایسا وظیفہ یا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے اپنے خزانہ غیب سے آسانی والا کشادہ اور وسیع رزق دیں اور میرے سارے مسائل بھی حل کریں، مجھے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نا پھیلانا پڑے، مہربانی فرمائیں میرے مسئلے اور ڈپریشن کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے میری بہترین رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دنیا مؤمن کے لیے آزمائش کی جگہ ہے، اس میں اللہ تعالی کسی کو زیادہ مال دے کر آزماتا ہے اور کسی کو کم مال دے کر۔ آپ اس حالت میں اپنے سے کم معاشی حیثیت کے لوگوں پر نظر رکھیں اور اپنی جسمانی صحت، اولاد کی نعمت وغیرہ کو سوچ کر شکر ادا کیا کریں۔ کبھی کبھی بڑے ہسپتال کا چکر لگا کروہاں مریضوں کی تیمارداری کر لیا کریں۔ نیز رزقِ حلال کی وسعت کے لیے مسنون دعاؤں کا اہتمام کریں، تو ان شاء اللہ آپ کو اس عارضی مجاہدے پر دنیا و آخرت کی خیریں نصیب ہوں گی۔ ساتھ ہی ساتھ استغفار، کثرت سے تیسرا کلمہ، درود شریف کا ورد اور صبح وشام کی مسنون دعاؤں کا اہتمام بھی کریں۔ نیز فجر کے بعد سورتِ یاسین پڑھنے کا معمول بنائیں۔ اور اپنے معاش کے لیے جو بھی مناسب مشغلہ میسر آئے اس کو اختیار کریں، تو بہت جلد اس آزمائش کے دن ختم ہوجائیں گے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 114):
حدثنا أبو اليمان الحكم بن نافع: أخبرنا شعيب، عن الزهري قال: أخبرني عروة بن الزبير: أن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من مصيبة تصيب المسلم إلا كفر الله بها عنه حتى الشوكة يشاكها.»
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
2/ذو القعدہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


