| 88748 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
میری دو بیٹیاں ہیں، جو بالغ ہوچکی ہیں مگر ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ میرے پاس کچھ سونا تھا جو میں نے ان دونوں کو دے دیا بچپن میں اب ان کی ملکیت ہیں۔ میرا اپنا کوئی ذاتی گھر نہیں ہے۔ اپنے والدین کے گھر میں رہتی ہوں۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔ اس سونے کی زکوٰۃ کس پر لازم ہوگی؟ والدین یا بیٹیوں پر؟ اگر بیٹیوں پر زکوٰۃ لازم ہو تو جب ان کے پاس کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے، پڑھائی/تعلیم ابھی چل رہی ہے تو وہ زکوٰۃ کیسے دیں گی؟ ایسی صورت میں شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلے اصولی طور پر یہ بات سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی مسلمان عاقل بالغ، صاحب نصاب ہو اور اس نصاب پر ایک قمری سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ ادا کرنا لازم ہوجاتا ہے اور نصاب کی تفصیل یہ ہے کہ اموالِ زکوۃ میں سے اگرصرف سونا ملکیت میں ہو تو ساڑھے سات تولہ سونے پر اور اگر کوئی دوسرا مالِ زکوۃ بھی ساتھ ہو تو تمام اموالِ زکوۃ کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہونے پر زکوۃ دینا لازم ہوتا ہے خواہ پھر سونا ساڑھے سات تولہ ہو یا کم ہو۔دیگر اموالِ زکوۃ میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس مالیت کی نقد رقم یا اس مالیت کا وہ سامان ِتجارت (جسے خریدتے وقت ارادہ ہو کہ فروخت کردیں گے اور یہ ارادہ سال پورا ہونے تک باقی ہو)شامل ہیں۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کی بیٹیاں بلوغت کے بعد تمام تر تصرفات کے اختیارات کے ساتھ اس سونے کی باقاعدہ مالک تھیں اور ہر قمری سال پور اہونے پر وہ اپنے ذمے میں لازم واجبات(گزشتہ سالوں کی واجب ہونے والی غیر ادا شدہ زکوۃ) کو منہاکرنے کے بعد مذکورہ بالا تفصیلات کی روشنی میں صاحب ِنصاب بنتی تھیں تو ان پر ہر ہر سال کی زکو ۃ دینا لازم ہے۔،خواہ پھر اس کے لیے وہ اپنا سونا فروخت کریں یا کسی سے قرض وصول کریں یا کوئی دوسرا ان کی اجازت سے ان کی طرف سے ادا کردے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 95)
الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


