| 90097 | شرکت کے مسائل | شرکت متناقصہ کا بیان |
سوال
میرے والدین نے گھر کی تعمیر کے لیےمیزان بنک سے قرضہ لینا ہے ،جس کے مطابق اگر ہم 50 لاکھ کا قرضہ لےلیں تو مقررہ وقت میں وہ قرضہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں انہیں اضافی رقم جو کہ بنک کے مطابق کوئی گھر کا کرایہ وغیرہ کے نام پر ادا کرنا پڑےگا۔سوال یہ ہے کہ یہ جو اضافی رقم جائے گی کیا یہ سود میں آےگی نیز یہ کہ یہ قرضہ پر دی گئ اضافی رقم کیوں سود نہ ہوگی(ہمارے ایک عزیز کہتے کہ یہ بس نام تبدیل کیا ہواہے ،مگر یہ سود ہی ہوتاہے)۔ایک تفصیلی رائے اور وضاحت درکار ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کا سوال ایک غلط فہمی پر مبنی ہے کہ سودی بینکوں کی طرح اسلامی بینک بھی قرض دیتے ہیں اور قرض پر کسی قسم کا اضافہ لینا حرام ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بینک قرض نہیں دیتے بلکہ شرکت ،خرید وفروخت اور کرایہ داری جیسے تجارتی عقود کے ذریعہ اپنے کسٹمر سے معاملہ کرتے ہیں ۔لہذا آپ کے سوال کی درست تعبیر یہ ہوگی کہ کیا اسلامی بینک سے فائنانس حاصل کرنا درست ہے یا نہیں ؟اصل سوال کا جواب یہ ہے کہ کیونکہ اسلامی بینک مستند علمائے دین کے تشکیل کردہ نظام کے تحت فائنانس کرتے ہیں نیز ان کی تجارتی سرگرمیوں کی منظم نگرانی اورشرعیہ آڈٹ کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔لہذا ان سے ہوم فائنانس لینا درست ہے ۔یہ فائنانس شرکت متناقصہ کےعقد کےتحت ہوتی ہےجوکہ ایک شرعی عقد ہے۔اس کی تفصیل کےلیےکسی مستند مفتی سے بالمشافہ ملاقات کرکےسمجھاجاسکتاہے۔اس میں اضافی رقم کرائے کی مد میں لی جاتی ہے ۔یہ سود نہیں ہوتا۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهيةمعاصرة (ص:347،348)
ولكن يختلف تكييفُ الودائع الثّابتة وحسابات التّوفير في البنوك الإسلامية عن تكييفها في البنوك التّقليدية،فإِنْ هذه الودائع قروض أيضا في البنوك التّقليدية قُدّمت إليها على أساس الفائدة الرّبوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الرَّبويّة،بل إِنّما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضاً،وإنَّما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحقٌ حِصّة مشاعة من ربح البنك،وتتحمّل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك،فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحهاء إلا إذا حصل هناك تعد من قِيّل البنك،فإنه يضمن بقدر التَعذّي .
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
02/ذوالقعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


