03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کوشرط کےساتھ معلق کرنا      
90196طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میں اپنی بیوی پر شک میں مبتلا تھا کہ اس کے مردوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ شک کی وجوہات اگر بیان کرنے لگوں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی، اس لیے تفصیلات کو یہیں چھوڑ رہا ہوں۔ پھر ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: "تم میرے پیٹھ پیچھے زنا کرتی ہو۔" اس نے کہا: "ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔" میں نے کہا: "اگر ایسا ہے تو مجھے بتا دو، ورنہ میں اپنے منہ سے ایسے الفاظ نکال لوں گا جن کی وجہ سے تم بہت بڑی مشکل میں پڑ جاؤ گی۔" اس نے کہا: "ایسا نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں، میں کوئی غلط کام نہیں کرتی۔" پھر میں نے اسے کہا: "تمہارے پاس تین دن ہیں، آرام سے سوچ کر مجھے جواب دے دینا، اس کے بعد تمہارے پاس کوئی آپشن باقی نہیں رہے گا۔" اس نے کہا: "جی ٹھیک ہے، آپ کہہ دیں۔" چنانچہ تین دن بعد میں نے یہ کہا: "میرا نکاح میں آنے کے بعد (یعنی شادی کے بعد) اگر تم نے زنا کیا ہے یا کسی مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھے ہیں تو تم آزاد ہو، تم میرے نکاح سے فارغ ہو۔" اور میں نے یہ الفاظ کہتے ہوئے کہا: "میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہا ہوں۔" یہ الفاظ میں نے تین بار کہے۔ اس کے بعد میری بیوی نے رونا شروع کر دیا۔ میں نے پوچھا: "جب تم نے زنا کیا ہی نہیں تو ہمارا نکاح باقی ہے، تو پھر روتی کیوں ہو؟" اس پر اس نے خاموشی اختیار کی اور بات ختم ہو گئی۔ پھر اسی طرح ڈیڑھ سال گزر گیا۔ ہم ساتھ رہتے رہے اور میں نے بھی یہ سوچ لیا کہ شاید میرا وہم ہے اور ایسی کوئی بات نہیں۔ لیکن میرا دل مطمئن نہ ہوا۔ پھر ایک دن کچھ ایسے واقعات ہوئے جن کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، مگر ان سے میرا شک اور بڑھ گیا۔ میں نے ایک خفیہ آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس خریدی اور اسے گھر میں چھپا دیا اور خود دفتر چلا گیا۔ جب میں دفتر سے واپس آیا اور وہ آڈیو سنی تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ اس میں ایسی نامناسب آوازیں ریکارڈ ہوئی تھیں جو یہاں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ اس ریکارڈنگ کے بعد میرا شک بالکل واضح ہو گیا کہ میری بیوی نے میری غیر موجودگی میں واقعی زنا کیا ہے۔ جب میں نے اپنی بیوی سے پوچھا: "تم نے ایسا کیوں کیا؟" تو اس نے کہا: "فینٹسی (مزے) کے لیے۔" لیکن پھر اچانک اپنے بیان سے مکر گئی اور قسمیں کھانے لگی کہ: "نہیں، میں نے ایسا نہیں کیا۔ یہ میری آواز نہیں، یہ بچوں کے سونے کی آوازیں ہیں۔" مگر اس کے چہرے سے صاف جھوٹ عیاں ہو رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد میں نے اپنی بیوی سے دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کر لیا اور یہ سوچ کر اپنے دل کو مطمئن کیا کہ ازدواجی تعلقات دوبارہ قائم کرنے سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔ یہ میری لاعلمی تھی، لیکن دل سے میں پھر بھی اسے قبول نہ کر سکا۔ بالآخر میں نے اسے پاکستان بھیج دیا اور میں اکیلا رہنے لگا۔ پھر دو مہینے گزر گئے۔ اس دوران میری والدہ نے مجھے سمجھایا کہ اگر اس نے واقعی ایسا کیا ہے جیسا تم کہہ رہے ہو تو اب دوبارہ نہیں کرے گی۔ بچوں کا خیال کرو اور اسے واپس قبول کر لو۔ میں نے بھی بچوں کی خاطر اسے دوبارہ بلا لیا۔ اس کے بعد بھی ہم تقریباً آٹھ ماہ ساتھ رہے۔ میں نے گھر میں کیمرہ بھی لگا دیا۔ پھر ایک اور دن میرے پڑوسی نے بتایاا کہ آپ کی بیوی کے کچھ لڑکوں سے تعلقات ہیں اور اس نے اور بھی کئی باتیں بتائیں۔ وہ باتیں ایسی تھیں جو پہلے ہی مجھے پتا تھیں، اس لیے میرا شک اور بھی پختہ ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود یہ عورت اپنی روش پر قائم رہی اور سدھرنے کا نام نہ لیا نہ میرا خیال ہے نہ بچوں کا۔ اس لیے میں نے دوبارہ اسے پاکستان واپس بھیج دیا۔ نہ میں نے اس پر ہاتھ اٹھایا، نہ کوئی نقصان پہنچایا بلکہ عزت کے ساتھ اسے بھیج دیا۔ پھر کچھ عرصے بعد میں نے بند کمرے میں یہ کہا: "میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں۔" یہ الفاظ میں نے صرف ایک بار کہے۔ پھر ان کلمات کے بیس دن بعد میں پاکستان گیا اور اپنی بیوی سے دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کیا۔ یہ سوچ کر کہ ازدواجی تعلق قائم کرنے سے عورت نکاح میں واپس آ جاتی ہے۔ مگر میں نے دل سے اسے پھر بھی قبول نہیں کیا اور بالآخر ہمیشہ کے لیے اپنا تعلق مکمل طور پر ختم کر لیا۔ اب اس سے صرف بچوں کے حوالے سے بات چیت رہ گئی ہے۔ جب میری بیوی نے دیکھا کہ یہ شخص اب مجھے کسی صورت قبول نہیں کر رہا تو اس نے کہا: "میں نے آپ کا دل دکھایا ہے، آپ مجھے معاف کر دیں۔" لیکن اس نے کبھی کھل کر یہ نہیں کہا کہ میں نے واقعی زنا کیا تھا یا نہیں۔ صرف معافی مانگی۔ -میری ناقص سمجھ کے مطابق شریعت کا اصول شریعت کے مطابق اگر شوہر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو: 1. یا تو وہ چار گواہ پیش کرے (جو میں نہیں لا سکا)، 2. یا پھر اپنی آنکھوں سے بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے (جو کہ میں نے نہیں دیکھا، میں نے صرف آڈیو ریکارڈنگ سنی جو شرعی طور پر حجت نہیں مانی جاتی)، 3. یا پھر بیوی خود اقرار کرے (جیسا کہ اس نے شروع میں کہا کہ "فینٹسی کے لیے کیا"، لیکن بعد میں اپنے بیان سے مکر گئی)۔ یعنی پہلے اس نے اقرار کیا، پھر انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ میرے پڑوسی نے بھی بیوی کے بارے میں کئی باتیں بتائیں جو ناجائز تعلقات کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔ پھر بیوی کا مجھ سے معافی مانگنا اور کہنا کہ مجھے ایک موقع دے دو، جبکہ میں پہلے ہی کئی مواقع دے چکا تھا، اور میرا دل بھی اس کی طرف سے ہٹ چکا تھا۔

خلاصہ سوال: 1. شروع میں جو میں نے تین کلمات اپنی زبان سے کہے تھے: "اگر تم نے شادی کے بعد زنا کیا یا کسی مرد سے ناجائز تعلقات رکھے ہیں تو تم آزاد ہو، میرے نکاح سے فارغ ہو" — کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی تھی؟ 2. اس کے بعد جب میں نے بند کمرے میں کہا: "میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں" — اور اس کے کچھ دن بعد میں نے اس سے ازدواجی تعلق قائم کر لیا، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ 3. میں پچھلے دو سال سے اسی الجھن میں ہوں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟ اگر ہوئی تو کس نوعیت کی طلاق تھی؟ کیا دوبارہ نکاح کی ضرورت ہے یا رجوع کافی ہے؟ 4-اور کیا اب دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں ہے؟ میں گزشتہ دو سال سے اسی پریشانی اور الجھن میں مبتلا ہوں اور اب اس مسئلے کا واضح شرعی حل جاننا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم میرے اوپر بیان کردہ پورے واقعہ اور درج شدہ سوالات کی روشنی میں قرآن و سنت کے مطابق رہنمائی فرما دیں اور گزارش ہے کہ میرا سوال اور آپ کا فتویٰ ایک ہی پی ڈی ایف فائل میں مجھے ارسال فرما دیں تاکہ میں اسے محفوظ رکھ سکوں والسلام ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے طلاق کو ان الفاظ کے ساتھ معلق کیا:"میرے نکاح میں آنے کے بعد اگر تم نے زنا کیا ہے یا کسی مرد سے ناجائز تعلقات رکھے ہیں تو تم آزاد ہو، میرے نکاح سے فارغ ہو"تو اس تعلیق کا تعلق اس زمانے سے ہے جو نکاح کے بعد سے لے کر تعلیق کے وقت تک ہے۔ اگربیوی اس مدت میں زناکااقرارکرےیاشوہرکےپاس اس مدت کےلیےقابل اعتماد ثبوت ہوتو طلاق واقع ہوجائےگی ۔تاہم چونکہ اس مدت میں نہ بیوی نے بدکاری  کااعتراف کیاہےاور نہ ہی کوئی یقینی ثبوت ملاہے  اس لیے شرط کے موجودنہ ہونے کی بنا پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ بعد میں جو شواہد یا ثبوت سامنے آئے ہیں وہ زمانہ تعلیق کے بعد کے ہیں اس لیے وہ اس تعلیق میں داخل نہیں اور ان کی بنا پر مذکورہ طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

البتہ شوہر  کچھ عرصے کےبعد بند کمرے میں جو الفاظ  کہہ چکےہے "میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں"اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی  ،چونکہ شوہر نےعدت میں ہی بیوی سے تعلق قائم کرلیا تو اس سےرجوع  ثابت ہوجائےگا اس لیے اب بھی نکاح بدستور قائم ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (1/ 420)

إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص ‌وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (3/ 355)

‌(وتنحل) ‌اليمين (‌بعد) ‌وجود (‌الشرط ‌مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي:(3/ 247)

باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها....(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح.... (واحدة رجعية، وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا).

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (3/ 397)

‌‌[باب الرجعة ]بالفتح وتكسر يتعدى ولا يتعدى (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقةإذ لا رجعة في عدة الخلوة ابن كمال....وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس ولو منها اختلاسا، أو نائما، أو مكرها أو مجنونا۔

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

08/ذوالقعدہ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب