| 90185 | طلاق کے احکام | طلاق سے رجو ع کا بیان |
سوال
میری بیوی (........) گزشتہ تقریباً 14 سال سے میرے نکاح میں ہے اور ہمارے چار بچے ہیں (دو بیٹے اور دو بیٹیاں)۔ کچھ عرصہ قبل میں نے دوسری شادی کی، جس کی وجہ سے میری پہلی بیوی ناراض ہو کر گھر چھوڑ کر چلی گئی، جبکہ ایک چھوٹی بیٹی کو میں نے اس کے پاس بھجوا دیا۔ اس دوران میری بیوی مجھ سے مسلسل طلاق کا مطالبہ کرتی رہی، جس پر میں نے آخرکارمورخہ 26-02-2025 کو ایک طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد بھی ہماری WhatsApp پر بات چیت جاری رہی۔ میں نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر طلاق کے تقریباً 45 دن میں واضح الفاظ میں اپنی بیوی سے کہا: "آپ میری بیوی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی، ان شاء اللہ" اس بات کے گواہ درج ذیل ہیں: میرے سسر صاحب میرے تایا سسر میری بہنیں میرے بہنوئی بعد ازاں تقریباً 80 دن کے بعد میرے سسر صاحب نے کہا کہ آپ آ کر اپنی بیوی کو لے جائیں۔ میں لینے گیا، لیکن میری بیوی ساتھ آنے پر راضی نہ ہوئی۔ اسی رات اس کا پیغام آیا کہ: "میں اب آپ کی بیوی نہیں رہی، مجھے تین حیض آ چکے ہیں" میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں نے عدّت کے اندر رجوع کے واضح الفاظ کہہ دیے تھے، تو کیا رجوع شمار ہوگا؟ موجودہ صورتحال میں کیا میری بیوی اب بھی میرے نکاح میں ہے ۔
تنقیح : سائل اور اس کے سسر سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ ۴۵ دن میں رجوع کر لیا تھا اور عدت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن ۸۰ دن بعد جب لینے گیا اس وقت عدت ختم ہو چکی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کی عدت تین ماہواریاں ہیں ، اس کے گزرنے سے پہلے اگر رجوع کر لیا جائے تو نکاح برقرار رہتا ہے ۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں عدت کے دوران رجوع کی وجہ سے مذکورہ عورت آپ کے نکاح میں باقی ہے ۔
حوالہ جات
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص61):
أقل الحيض ثلاثة وأكثره عشرة وأقل ما بين الحيضتين خمسة عشر يوما ""ولا حد لأكثره" لأنه قد يمتد أكثر من سنة.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 32):
أقل الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليها وأكثره عشرة أيام" وهو حجة على الشافعي رحمه الله تعالى في التقدير بيوم وليلة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 403):
(قوله: ثم إنما تعتبر المدة) يعني أن في المسائل التي يقبل فيها قولها " انقضت عدتي ": لا بد من كون المدة تحتمل ذلك، ثم إنما يشترط احتمال المدة ذلك إذا كانت العدة بالحيض فلو كانت العدة بوضع الحمل ولو سقطا مستبين الخلق فلا تشترط مدة.
عادل ارشاد
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
/7ذی قعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


