03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ساس کے پاس بطور امانت رکھے ہوئے زیور کا حکم
90186امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

معزز علمائے کرام اور مفتیانِ عظام سے درج ذیل مسئلے کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے کہ اگر خاوند فوت ہو جائے، اور خاوند نے چونکہ کافی سال پہلے اپنی بیوی کو شادی پر ساڑھے سات تولے زیور پہنایا تھا ،اور وہ زیور اس کی بیوی نے اپنی ساس کے پاس بطور امانت  رکھا تھا، اور اس کے بعد ساس اور دیور اس پر قابض ہو گئے، بیوی وہ زیور مانگتی رہی لیکن انہوں نے زیور نہ دیا،  تب تو خاوند بھی زندہ تھا اور اب چونکہ خاوند تقریبا آٹھ ماہ پہلے فوت ہو چکا ہے، تو بیوی  دوبارہ مطالبہ کر رہی ہے کہ جو ساڑھے سات تولے زیور تھا وہ مجھے واپس کر دیں۔  

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ خاوند نے یہ زیور بیوی کو ہبہ کیا تھا اور بعد میں بیوی نے بطور امانت ساس کے پاس رکھوایاتھا ۔  بیوی خاوند  کی زندگی میں بھی ساس سے یہ زیور واپس لینے کا مطالبہ کرتی  رہی، لیکن ساس نے دینے سے انکار کیا تھا۔ خاوند بیوی سے یہ کہتا تھا کہ یہ آپ کی چیز تھی آپ نے کیوں ساس کے پاس رکھوائی؟ اور چونکہ اب ساس بھی فوت ہوگئی ہے، لہذا  اب دیور اس پر قابض ہوگیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ اگر واقعے کے مطابق ہے اور خاوند  نے یہ زیور اپنی بیوی کو ہبہ کردیا تھا،  تو یہ بیوی کی ملکیت ہے۔ بعد میں ساس كے پاس یہ زیور بطور امانت  رکھنے سے ان کی ملکیت ختم نہیں ہوئی۔ لہذا اگر دیور اس حقیقت کو جانتا ہے تو اس کا اس زیور پر غاصبانہ قبضہ رکھنا حرام ہے۔ تاہم اگر دیور اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا، تو بھابھی کے ذمے ہے کہ اپنی ملکیت کا ثبوت یا گواہ پیش کرے (کہ یہ زیور شوہر نے ان کو ہبہ کر دیا تھا اور انہوں نے ساس کے پاس بطور امانت رکھوایا تھا) اور اگر ان کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو، تو دیور اس بات پر قسم اٹھائے گا کہ ميرے علم میں نہیں کہ یہ زیور بھائی نے بھابھی کو ہبہ کیا ہو اور یہ زیور کسی بھی صورت میں بھابھی کی ملکیت ہو۔ لہذا  اگر بھابھی ثبوت پیش کردے یا دیور قسم نہ اٹھائے تو یہ زیور بھابھی کا قرار پائےگا، اور اگر وہ قسم اٹھالے تو بھابھی کا دعوی خارج ہوجائے گا، اور یہ زیور ساس کی ملکیت قرار پائے گا اور اسے ان کے  ترکے میں شامل کرکے تمام ورثہ میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

حوالہ جات

رد المحتار  ط:  الحلبي  (5/ 690):

"وشرعا: (تمليك العين مجانا)... (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك)...(وركنها) هو (الإيجاب والقبول) ...(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."

(قوله: هو الإيجاب) قلت: "فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك، كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء."

رد المحتار   ط : الحلبي  (5/ 662):

"(وركنها: الإيجاب صريحا) كأودعتك (أو كناية) كقوله لرجل:  أعطني ألف درهم أو أعطني هذا الثوب مثلا فقال: أعطيتك كان وديعة بحر ...لو وضع ثوبه بين يدي رجل ولم يقل شيئا، فهو إيداع... (ولو منعه الوديعة ظلما بعد طلبه) لرد وديعته، فلو حملها إليه لم يضمن ابن ملك بنفسه ولو حكما كوكيله بخلاف رسوله، ولو بعلامة منه على الظاهر (قادرا على تسليمها ضمن  )"

رد المحتار   ط:  الحلبي (6/ 420):

"لأن ‌اليد ‌دليل ‌الملك، ‌ولا ‌معتبر ‌بأكبر ‌الرأي ‌عند ‌وجود ‌الدليل ‌الظاهر."

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 206):

"القول في الدعاوي قول ‌من ‌يشهد ‌له ‌الظاهر."

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 497):

"اليمين تجب على ‌من ‌يشهد ‌له ‌الظاهر، ولهذا تجب على صاحب اليد."

 بدائع الصنائع(225/6):

"وأما حجة المدعي والمدعى عليه :فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام:البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه. جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه،والمعقول كذلك؛ لأن المدعي يدعي أمرا خفيا، فيحتاج إلى إظهاره، وللبينة قوة الإظهار؛لأنها كلام من ليس بخصم، فجعلت حجة المدعي،واليمين وإن كانت مؤكدة بذكر اسم الله عز وجل ،لكنها كلام الخصم،  فلا تصلح حجة مظهرة للحق، وتصلح حجة المدعى عليه؛ لأنه متمسك بالظاهر، وهو ظاهر اليد فحاجته إلى استمرار حكم الظاهر، واليمين وإن كانت كلام الخصم، فهي كاف للاستمرار، فكان جعل البينة حجة المدعي  وجعل اليمين حجة المدعى عليه وضع الشيء في موضعه ، وهو حد الحكمة."

محمد جمال

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

5/شوال1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب