| 90189 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کو اس کے والدین نے موبائل استعمال کرنے سے منع کیا تھا، حالانکہ موبائل اسی کی ملکیت ہے۔ اس نے والدین کے سامنے بھی موبائل استعمال کیا، لیکن بعد میں انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ شخص موبائل استعمال کرے تو کیا یہ والدین کی نافرمانی شمار ہوگی اور کیا اس پر گناہ ہوگا؟ جبکہ اس نے اپنی والدہ سے اس کی اجازت بھی لے لی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدین نے بظاہر غیر ضروری استعمال سے ہی روکا ہوگا، لہذا مناسب استعمال کی گنجائش ہوگی اور یہ استعمال نافرمانی میں شمار نہیں ہوگا۔ تاہم جائزامور میں بھی حتیٰ الامکان والدین کی اطاعت سعادت کی بات ہے ۔
حوالہ جات
{وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ } [المؤمنون: 3]
{وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا } [الإسراء: 24]
امداداللہ الفینوی
تخصص فی الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
9/ذیقعدہ/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


