| 90261 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
میرے ماموں جان جن کا نام محمد یوسف ہے، انہوں نے اور ان کے ایک دوست جن کا نام محمد نعمت ہے دونوں نے مل کر ایک 4 مرلہ کا پلاٹ مسجد کی نیت سے لیا، اور جامع مسجد عمر حیات کے نام سے اس کی بنیاد رکھی گئی۔ نعمت صاحب نے اپنے حصے کے دو مرلہ مسجد کے نام وقف کر دیے تھے۔ حافظ یوسف صاحب نے تاخیر سے کام لیا وقف کرنا تھی مگر وقف نہیں کیا۔ انہوں نے حافظ نواز کو جو حافظ یوسف کے داماد ( بیٹی کے خاوند ) ہے، 2002ء میں مسجد کے معاملات کی سپرد داری دے دی۔ جس کی باقاعدہ رسم مسجد کے نمازی حضرات کے سامنے ہوئی اور حافظ یوسف نے مدرسے کے معاملات اپنے بیٹے حافظ اشرف بن محمد یوسف کے سپرد کر دیے۔ بعد میں حافظ یوسف صاحب 2018 میں دارِ فانی سے رحلت فرما گئے۔ اس کے بعد سے نومبر2025ء تک مسجد کے معاملات حافظ نواز چلا رہے ہیں؛ جس میں خادم کی تنخواہ، مسجد کے بجلی، پانی، سوئی گیس کے بل اور ہر طرح کے تعمیری اخراجات حافظ نواز اور مسجد کے نمازی حضرات مل کر ادا کر رہے ہیں۔ رہنمائی درکار ہے کہ حافظ یوسف صاحب نے 2 مرلہ جگہ جو مسجد کے نام سے خریدی تھی جبکہ اس کی تعمیر اہل علاقہ کے تعاون سے ہوئی تھی، حافظ اشرف جو حافظ یوسف کے بیٹے ہے، مسجد کی وراثت کروا کر مسجد پر قبضہ کرنا چاہ رہے ہیں۔ آیا مسجد کی وراثت ہوسکتی ہے یا نہیں؟ براہ ِکرم رہنمائی فرما ئیں؟ جبکہ نمازی حضرات حافظ اشرف کی امامت کے حق میں نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حافظ اشرف اپنے مدرسے کے معاملات کو چلائے، جیسا کہ حافظ یوسف اپنی حیات میں عمل درامد کروا کر گئے تھے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مالکِ زمین کی اجازت سے متعین زمین پر مسجد تعمیر کرکے اس میں لوگوں کا باجماعت نماز ادا کرنے سے وہ جگہ ہمیشہ کے لیےمسجد بن جاتی ہے۔ اس کے بعد زبان سے یا تحریری طور پر وقف کرنا ضروری نہیں ۔ لہذا اب اس زمین میں ہبہ یا بیع یا وراثت جاری نہیں ہوسکتی ۔
صورتِ مسئولہ میں جب محمد یوسف اور محمد نعمت نے ایک معلوم و متعین جگہ مسجد کی نیت سے خرید کر تعمیر کی، پھر اس مسجد میں لوگوں نے باجماعت نماز ادا کر نا شروع کردی، تو اس پر مسجد کے تمام احکام لاگو ہوں گے۔ بعد میں حافظ محمد یوسف کا تحریری طور پر وقف کرنا ضروری نہیں تھا ۔لہذا ان کے تحریراً وقف نہ کرنے سےمسجد کے وقف پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ چنانچہ حافظ اشرف کا اپنے والد کے وقف کردہ مسجد کی دو مرلے زمین میں وراثت کا مطالبہ کرنا درست نہیں، اور نہ ہی ان کو تولیت کا حق ہے خصوصاً جب حافظ محمد یوسف نے مسجد کے امور حافظ نواز کے سپرد کردیے تھے۔ حافظ اشرف کو اس مسئلے سے متعلق مغالطہ ہوا ہے۔ البتہ اگر اس کے بعد بھی حافظ اشرف مسجد کے امور میں دخل اندازی کرتے ہیں یا مسجد میں وراثت کا مطالبہ کرتے ہیں، تو مسجد کمیٹی یا اہلِ محلہ کو یہ حق حاصل ہے کہ ضابطے کے مطابق انہیں اس سے روکیں ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني (6/ 205):
وأما القبض والتسليم شرط لصيرورته مسجدا عند أبي حنيفة ومحمد، وعند أبي يوسف ليس بشرط، حتى إن عنده يصير مسجدا بمجرد البناء، وعندهما لا يصير مسجدا بمجرد البناء ما لم يوجد القبض والتسليم، وبالصلاة بجماعة يقع القبض والتسليم بلا خلاف، حتى إنه إذا بنى مسجدا، وأذن للناس بالصلاة فيه، فصلى فيه جماعة، فإنه يصير مسجدا ويشترط مع ذلك أن تكون الصلاة بأذان وإقامة جهرا لا سرا ،حتى لو صلى جماعة بغير أذان وإقامة سرا لا جهرا، لا يصير مسجدا عندهما، ولا يقع القبض والتسليم بالصلاة وحده عند محمد، وعن أبي حنيفة روايتان: في رواية الحسن لا يقع القبض والتسليم، وفي رواية غيره يقع القبض والتسليم.
فإن جعل مؤذنا وإماما وهو رجل واحد، فأذن وأقام وصلى وحده صار مسجدا بالاتفاق؛ لأن أداء صلاته كالجماعة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 269):
فأفاد بالاقتصار على الشروط الثلاثة أنه لا يحتاج في جعله مسجدا إلى قوله: وقفته ونحوه؛ لأن العرف جار بالإذن في الصلاة على وجه العموم والتخلية بكونه وقفا على هذه الجهة فكان كالتعبير به.
رد المحتار ط: الحلبي (4/ 356):
(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله: جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه).
(قوله : بالفعل) أي بالصلاة فيه، ففي شرح الملتقى إنه يصير مسجدا بلا خلاف، ثم قال عند قول الملتقى، وعند أبي يوسف يزول بمجرد القول، ولم يرد أنه لا يزول بدونه؛ لما عرفت أنه يزول بالفعل أيضا بلا خلاف اهـ.
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
14/ذو القعدہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


