| 90252 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
ہمارے بعض مسلمان بھائی بیرونِ ملک مختلف کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں۔ کمپنی کی طرف سے ان کے لیے وقتِ کار مقرر ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات ان سے اضافی وقت (اوور ٹائم) کام لیا جاتا ہے۔ اس اضافی وقت کی اجرت نہ پہلے سے طے کی جاتی ہے اور نہ ہی کمپنی اس کی ادائیگی کرتی ہے، البتہ ملازمین مجبوری کے باعث اوور ٹائم کرتے ہیں۔ اگر ایک مہینے کے اوور ٹائم کا حساب لگایا جائے تو تقریباً سات سو (700)درہم بنتا ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ چونکہ اس اوور ٹائم کی اجرت پہلے سے متعین نہیں ہوئی، اس بنا پر بظاہر وہ اجرت کے مستحق نہیں ٹھہرتے، لیکن چونکہ وہ اجرت پر ہی خدمت انجام دیتے ہیں، اس لیے فقہی عبارت: "أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة فإنه يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة" کی بنا پر وہ اجرتِ مثل کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ تاہم اگر کمپنی اجرتِ مثل دینے پر آمادہ نہ ہو، تو کیا مسئلۃ الظفر کے تحت ملازمین اپنے حق (اجرتِ مثل)کے بقدر کسی طرح وصولی کر سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی نے اضافی کام کے عوض الگ سے تنخواہ طے نہ کی ہو، یا عرفاً اس کام پر اجرت نہ دی جاتی ہو ، تو اس اضافی کام کی اجرت کا استحقاق نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ملازم سمجھتا ہے کہ یہ ظلم ہے، تو وہ کمپنی چھوڑ سکتا ہے، یا نئے معاہدے پر اصرار کر سکتا ہے۔ خود سے اجرت طے نہیں کر سکتا۔
مذکورہ عبارت اس شخص سے متعلق ہے، جس سے سرے سے اجرت ہی طے نہ کی گئی ہو، جبکہ صورتِ مسئولہ میں ملازمین سے اجرت طے کی گئی ہے،گو وہ ان کے خیال میں کم ہے۔ لہذا یہ عبارت ان پر لاگو نہیں ہوتی۔
جب ملازمین کا کوئی زائد مالی حق کمپنی کے ذمے پیدا ہی نہیں ہوا ، تو مسئلۃ الظفر کا بھی ملازمین کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم ملازمین اپنے حقوق کے لیے کمپنی سے بات کر سکتے ہیں، لیکن خود سے تنخواہ میں اضافہ طے کرنے کی بنیاد پر کوئی حق وصول نہیں کرسکتے۔
حوالہ جات
رد المحتار ط : الحلبي (6/ 69):
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق
الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (1/ 648):
لو خدم أحد آخر بناء على طلبه من دون مقاولة على أجرة، فله أجر المثل إن كان ممن يخدم بالأجرة ،وإلا فلا، أي أنه لو خدم أحد آخر بطلبه من دون أن يتقاولا على أجرة أو يعقدا إجارة لمدة، فلذلك الشخص أجرته اليومية إن كان ممن يخدم بالأجرة، وكانت أجرته معلومة، وإذا لم تكن معلومة، فله أجر المثل بالغة ما بلغت على الرجل الذي استخدمه، ويأخذها من تركته إذا توفي إلا إذا اشترط عليه الاشتغال بدون أجرة " علي أفندي " وفقرة " إن كان ممن يخدم بالأجرة ... وإذا لم يكن ممن يخدم بالأجرة عد متبرعا في عمله وليس له أخذ شيء ما، ولا يشترط في من يخدم بالأجرة أن يكون قبل ذلك عمل عملا بالأجرة. وعليه لو خدم زيد الذي لم يسبق له أن اشتغل بالأجرة أحدا بطلبه من دون مقاولة أجرة، فإن كان ممن يخدم بدون أجرة عادة فليس له أجرة وإلا أخذ " أبو السعود العمادي ". ولا يعد الرجل الغني ممن يخدم بالأجرة، وبالعكس فالرجل الفقير الذي يسعى لقوته اليومي يعد ممن يخدم بالأجرة.
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/ذو القعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


