| 90806 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
انڈرویئر پر اگر مذی اور پیشاب کےقطرے لگ جائیں تو کیا انڈرویئر کو دھوئے بغیر صرف وضو کرکے نماز پڑھی جا سکتی ہے ۔مذی منی اور پیشاب وغیرہ کی کتنی مقدار معاف ہے؟ میں نے سنا ہے کہ ایک ہتھیلی کے برابر معاف ہے ۔کیا ہتھیلی سے مراد صرف رقبہ / پھیلاؤ ہے یا مقداربھی ہے؟ اور کیا یہ رقبہ یا مقدار پورے لباس کے لیے یا صرف شلوار/ پینٹ کے لیے ہے ؟میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جو مقدار معاف ہے وہ بے شک پورے لباس پر تھوڑی تھوڑی لگی ہو، لیکن وہ مجموعی طور پر ایک ہتھیلی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ کیا یہ بات درست ہے ؟انڈر وئیر پر اگر مذی منی اور پیشاب وغیرہ کی نجاست لگی ہو تو کیا صرف انڈرویئر کے ناپاک حصے کو دھونا ضروری ہے یا پھر اس ناپاک حصے سے ٹچ ہونے والے پینٹ کےحصے کو بھی دھونا ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذی اور پیشاب نجاست غلیظہ ہیں، کپڑے پر لگنے سے کپڑا ناپاک ہوجاتا ہے، لہٰذا انڈرویئر کو دھوئے بغیر اس میں نماز نہیں ہوگی ۔ نجاست غلیظہ کے معاف ہونے کی مقدار یہ ہے کہ وہ نجاست ایک درہم کی مقدار یا اس سے کم ہو ، اگرچہ اس کا حکم بھی یہ ہے کہ اس کو دھو لینا چاہیے، لیکن اگر لا علمی میں نماز پڑھ لی تو وہ نماز ہوجائیگی ۔ نجاست غلیظہ بہنے والی ہو تو اس میں پھیلاؤ کا اعتبار ہے جس کی تقریبی پیمائش 0.95مربع انچ ہے۔ اگر مختلف جگہ پر نجاست لگی ہو اور کل مقدار اس سے زیادہ بنتی ہو تو ان کپڑوں میں نماز نہیں ہوگی ۔اگر ا نڈرویئر پر لگی نجاست گیلی ہو اور پینٹ پر بھی اس کا اثر آجائے تو پھر پینٹ کو بھی دھونا ضروری ہے اور اگر ناپاکی خشک ہو تو پینٹ کو دھونا ضروری نہیں ہے ۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 43):
الثوب إذا تنجس ووجب غسله ثلاث مرات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (1/ 316):
(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض،
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 45):
المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف،
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
01/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


