03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحلیل زوج کی ایک صورت (حلالہ کی ایک صورت)
91766نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں نے آپ سے پہلے ایک مسئلہ پوچھا تھا، جس کا حوالہ نمبر 89895 تھا۔ اس وقت آپ نے مجھے بتایا تھا کہ میرا سابقہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنی بیوی کا نکاح ایک دوسرے شخص کے ساتھ کروایا۔ اس موقع پر میں خود بھی موجود تھا، ایک مولوی صاحب بھی تھے اور نکاح پڑھانے والے صاحب بھی موجود تھے۔ نکاح کے بعد اس شخص نے میری سابقہ بیوی کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور ان کے درمیان ہم بستری بھی ہوئی۔ پھر بعد میں اس نے اسے طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد دو دن بعد اسے حیض آیا، پھر ایک مہینے بعد دوبارہ حیض آیا، اور ایک مہینے بعد تیسری مرتبہ حیض آیا۔ اس طرح اس کی عدت کے تین حیض مکمل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ دوبارہ نکاح کر لیا۔ یہ سب صرف بچوں کی خاطر کیا گیا تھا۔ آپ کے پاس موجود سابقہ حوالہ میں پوری تفصیل بھی درج ہے۔ نوٹ: اس شخص نے میری بیوی کے ساتھ صرف تقریباً آدھا گھنٹہ گزارا تھا، اور ہم بستری کے دوران کنڈوم استعمال کیا گیا تھا۔ اب براہِ کرم مجھے یہ بتا دیجیے کہ کیا میرا دوبارہ کیا گیا نکاح درست ہو گیا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسا  طے کر کے کروانا حرام تھا ،تاہم  جب شوہر ثانی نے بیوی سے ہمبستری  کے بعد طلاق دے دی ،تووہ  عورت عدت  گزارنے کے بعد  آپ کے لیے حلال ہوگئی ہے  اور   آپ کا ان سے دوبارہ نکاح کرنا درست ہے ۔ کنڈوم کے استعمال سے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 473):

«وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

أما الإنزال فليس بشرط للإحلال وإذا وطئها إنسان بالزنا أو بشبهة لا تحل لزوجها لعدم النكاح .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 413):

(والإيلاج في محل البكارة يحلها والموت عنها لا) كما في القنية. واستشكله المصنف، وفي النهر: وكأنه ضعيف لما في التبيين: يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين بلا حائل يمنع الحرارة، وكونه عن قوة نفسه فلا يحلها من لا يقدر عليه إلا بمساعدة اليد

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 413):

أما التحليل فقد شدد الشرع في ثبوته، ولذا قالوا: إن شرعيته لإغاظة الزوج عومل بما يبغض حين عمل أبغض ما يباح فلذا اشترطوا فيه الوطء الموجب للغسل بإيلاج الحشفة بلا حائل في المحل المتيقن احترازا عن المفضاة والصغيرة من بالغ، أو مراهق قادر عليه بعقد صحيح لا فاسد ولا موقوف ولا بملك يمين.

وسیم اکرم بن  محمد ایوب  

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 21/صفر المظفر  /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب