| 91230 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
"میں نے پلاٹ اس نیت سے خریدا تھا کہ میری پنشن کی رقم محفوظ رہے۔ البتہ اگر مناسب منافع مل جائے تو اسے فروخت کر دوں گا، لیکن بار بار خرید و فروخت (ٹریڈنگ) کا ارادہ نہیں تھا۔ اصل اور غالب نیت پنشن کی رقم کو محفوظ رکھنا تھی۔ تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مال تجارت وہ مال ہے جس کو بیچنے کی واضح نیت سے خریدا گیا ہو اور اب تک نیت برقرار ہوبار بار کی خرید وفروخت ضروری نہیں ہے ۔لہٰذا سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق کیونکہ بیچنے کا واضح ارادہ نہیں ہے بلکہ اصل مقصود پینشن کی رقم محفوظ کرنا ہے اس لیے اس پر زکوۃ لازم نہیں ہے ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(2/ 267):
أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض فتصير للتجارة بلا نية صريحا،
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 268):
والدار للعمارة فلا تصير للتجارة مع التردد إلا بالنية
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 274):
ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه كما لو نوى التجارة فيما خرج من أرضه كما مر۔
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 218):
(قوله وتشترط نية التجارة) لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه، وذلك هو نية التجارة، فلو اشترى عبدا مثلا للخدمة ناويا بيعه إن وجد ربحا لا زكاة فيه،
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
25/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


