| 90925 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
میں یوکے میں رہتا ہوں۔ اگر امتحان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام (Jesus) کے بارے میں ایسا سوال آئے جو عیسائی عقیدے کے مطابق ہو، مثلاً "Jesus کب فوت ہوئے؟" جبکہ ہمارا اسلامی عقیدہ اس کے خلاف ہے، تو کیا صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نصاب کے مطابق جواب لکھنا، جبکہ دل میں اسے صحیح نہ سمجھا جائے، شرک یا کفر ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلامی عقائد کے خلاف لکھنا جائز نہیں البتہ ایسے موقع پر توریہ یا کنایات استعمال کیے جاسکتے ہیں مثلا آپ کے ذکر کردہ سوال کے جواب میں یہ لکھ دے کہ عیسائی مذہب کے مطابق عیسٰی علیہ السلام کی وفات فلاں وقت ہوئی ،تاکہ جواب بھی درست مانا جائے اور عقیدہ بھی خراب نہ ہو ۔
حوالہ جات
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ ما لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَاّ اتِّباعَ الظَّنِّ وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً (157) بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً [النساء: 158]
صحيح البخاري (2/ 774):
حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب: أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (والذي نفسي بيده، ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد).
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
07/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


