| 90924 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
میری ماضی کی زندگی غفلت اور جہالت میں گزری۔ 2021 میں توبہ کی تو مجھے احساس ہوا کہ شاید ماضی میں مجھ سے بعض کفریہ الفاظ صادر ہوئے ہوں، لیکن وہ یاد نہیں تھے۔ اس وقت میں نے ان تمام کفریہ الفاظ سے توبہ کی، خواہ وہ مجھے یاد تھے یا یاد نہیں تھے، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان سے بیزاری کا اظہار کیا۔ پھر کلمہ اور ایمانِ مفصل پڑھ کر تجدیدِ ایمان بھی کی، اور اس کے بعد نماز وغیرہ کی پابندی کرتا رہا۔اب کئی سال بعد ماضی کا ایک واقعہ یاد آیا۔ تقریباً 2011 یا 2012 میں، جب میری عمر 12 یا 13 سال تھی اور میں مدرسے میں پڑھتا تھا، تو کبھی قرآنِ کریم پڑھتے ہوئے وقت گزاری کے لیے ایک چھوٹا کاغذ صفحے پر رکھ کر اسے انگلی سے مارتا تھا اور دل میں یہ تصور کرتا تھا کہ اگر کاغذ فلاں جگہ تک پہنچ گیا تو اتنے "رن" بن گئے۔ میرا مقصد قرآنِ کریم کا مذاق اڑانا نہیں تھا ،بلکہ محض وقت گزاری اور کھیل تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس حرکت کی وجہ سے کیا صرف توبہ کافی ہے، یا توبہ کے ساتھ دوبارہ تجدیدِ ایمان بھی ضروری ہے؟ کیا مجھے دوبارہ کلمہ پڑھ کر تجدیدِ ایمان کرنی ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صرف احتمالات کی بنا ء پر تو انسان کافر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی وجہ سے تجدید ایمان ضروری ہوتا ہے۔ پھر آپ نے تمام احتمالی کفریہ الفاظ اور گناہوں سے توبہ بھی کر لی ہے، لہٰذا آپ کو مزید وسوسے کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔
باقی آپ کو جو واقعہ یاد آیا ہے وہ اگرچہ قرآن کریم کے ادب میں کوتاہی ضرور ہے، لیکن آپ کی کم عمری اور واقعے کی غیر سنگین نوعیت کی وجہ سے کفر کا ارتکاب نہیں ہوا تھا ۔تاہم آئندہ قرآن کریم کے ادب کا خیال رکھیں اور کچھ صدقہ خیرات بھی کریں تاکہ دلی اطمینان حاصل ہو۔ تجدید ایمان بغیر کسی وسوسے اور وہم کے کبھی کبھی کر لینا مستحب ہے، البتہ اس سلسلے میں غلو اور وسوسے میں پڑنا پسندیدہ نہیں ہے۔
حوالہ جات
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحاً عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ يَوْمَ لا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنا أَتْمِمْ لَنا نُورَنا وَاغْفِرْ لَنا إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [التحريم: 8]
إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ ما دُونَ ذلِكَ لِمَنْ يَشاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [النساء: 48]
الفقه الأكبر (ص43):
لا يكفر مسلم بذنب ما لم يستحله
عابدين ثابتين على الحق ومع الحق نتولاهم جميعا ولا نذكر أحدا من أصحاب رسول الله إلا بخير ولا نكفر مسلما بذنب من الذنوب وإن كانت كبيرة إذا لم يستحلها ولا نزيل عنه اسم الإيمان ونسميه مؤمنا حقيقة ويجوز ان يكون مؤمنا فاسقا غير كافر.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 322):
رجل وضع رجله على المصحف إن كان على وجه الاستخفاف يكفر وإلا فلا، كذا في الغرائب.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
07/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


