| 92133 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ایک مسئلہ درکار ہے۔ خاوند نے اپنی بیوی کو فون کال پر کچھ ایسے الفاظ کہے ہیں جن کے بارے میں ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا ان سے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں۔
شوہر کے الفاظ یہ ہیں:"باقی تیرا میرا خدا ضامن، میں پہلے بھی آپ کو کہہ چکا ہوں، اور پھر کہہ رہا ہوں: تیرا میرا کوئی تعلق نہیں، کوئی تعلق نہیں۔ آپ کو میں نے اس جہاں سے فارغ کیا، فارغ کیا، فارغ کیا۔ آپ جا سکتی ہو جہاں دل کرے۔"براہِ کرم مکمل وائس سن کر اس مسئلے کا شرعی حکم بیان فرما دیں کہ مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟
تنقیح : سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ میاں بیوی کے درمیان کئی دن سے لڑائی چل رہی تھی، جس موقع پر خاوند نے غصہ کی حالت میں طلاق کی نیت سے اپنی بیوی کو یہ مذکورہ الفاظ کہے تھے۔ نیز اس سے پہلے بھی یہی الفاظ بیوی کو حالتِ غصہ میں طلاق کی نیت سے کہے جا چکے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے طلاق کی نیت سے بیوی سےکہا : " تیرا میرا کوئی تعلق نہیں ، کوئی تعلق نہیں "تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ۔ اس کے بعد دوسری مرتبہ جو الفاظ کہے ہیں، ان سے طلاقِ بائن واقع نہیں ہوگی۔لہذا صورت مسئولہ میں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے۔اگر میاں بیوی دوبارہ باہمی رضامندی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کے سامنے تجدید نکاح کرنا ضروری ہے۔ البتہ شوہر کو آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔
حوالہ جات
احسن الفتاوی(188/5:
"بندہ کا خیال بھی یہی ہے کہ عرف میں یہ لفظ"تو فارغ ہے" صرف طلاق ہی کے لیے مستعمل ہے،اس لیے عند القرینہ بلا نیت بھی اس سے طلاق بائن واقع ہو جائے گی ۔
الفتاوى الهندية (1/ 374)
ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية .
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 296):
كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 74):
واعلم أن الصريح يلحق الصريح والبائن عندنا، والبائن يلحق الصريح لا البائن إلا إذا كان معلقا.
الفتاوى الهندية (1/ 375)
ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى ولو قالت المرأة لزوجها لست لي بزوج فقال الزوج صدقت ونوى به الطلاق يقع في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في فتاوى قاضي خان.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
08/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


