| 92094 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میں مسمّی سید محمد یوسف ولد سید حسین مرحوم اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں 25 مارچ 1977ء کو دبئی آیا ہوں اور تاحال ادھر مقیم ہوں۔ میں چونکہ بھائیوں میں بڑا تھا، اس لیے یہاں محنت مزدوری کرتا رہا۔ میرے چار بھائی ہیں، ان کی پڑھائی اور گھر کا خرچ سب میں نے برداشت کیا۔ بھائیوں کی شادی، ان کے اخراجات، سونا وغیرہ بھی میں نے خود اپنی جیب سے ادا کیا۔
پھر میں نے گھر کے لیے زمین خریدی۔ والد صاحب چونکہ حیات تھے، اس لیے میں نے زمین کی رجسٹری ان کے نام پر کرادی۔ گھر کا خرچ بھی بھیجتا رہا اور ساتھ ساتھ گھر کی تعمیر بھی جاری تھی۔ میں نے مکمل طور پر اپنے ذاتی پیسوں سے گھر کی زمین بھی خریدی اور تعمیر کی لاگت کا پورا خرچ بھی برداشت کیا۔ اس کی تعمیر میں کسی نے بھی اپنی ایک اینٹ بھی نہیں لگائی۔ میری فیملی میرے ساتھ ہی تھی۔ میں اپنے گھر والوں، بشمول بھائی بہن اور والدین، کے لیے خرچ بھیجتا تھا۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد میں نے جائیداد بھی خریدی۔ اس میں کسی کا بھی مالی تعاون نہیں تھا، مگر میں نے اس جائیداد میں سب بھائیوں کو شامل کیا۔ ابھی چونکہ میں ریٹائرڈ ہوں اور کام کاج نہیں کرتا، میرے چار بھائیوں میں سے دو نے اپنے لیے گھر تعمیر کیے، جبکہ دو ابھی بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں ان کو کہتا ہوں کہ اپنے لیے گھروں کا بندوبست کرو۔ میں ابھی نئے گھر کی تعمیر کا خرچ برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ گھر مکمل میرے پیسوں سے بنا ہے، زمین بھی میں نے خریدی ہے اور تعمیر بھی میں نے کی ہے۔
میرے بھائی تعمیر کے بعد ہی اس میں مقیم ہیں۔ میں تو کبھی دو سال یا تین سال بعد جاتا تھا اور دو مہینے گزار کر واپس آتا تھا۔ مکان کی تعمیر کو تقریباً 36 سال ہوچکے ہیں، مگر وہ دو بھائی ابھی بھی نکلنے کو تیار نہیں اور اپنے حصے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ دو بھائی چلے گئے، اب آپ لوگ بھی نکل جائیں۔ یہ میری ہی خریدی ہوئی زمین ہے اور مکمل آبادی میں نے کی ہے۔ جائیداد، کھیت وغیرہ بھی میں نے اپنی رقم سے خریدے ہیں، مگر میں نے ان کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔
اب مفتیان کرام سے یہ گزارش ہے کہ کیا بڑے بھائی کی کمائی میں بھائیوں کا حصہ ہوسکتا ہے؟ تعمیر بھی زمین بھی سب میں نے اپنی رقم سے کی ہے۔ میں ان کو کہتا ہوں کہ اگر تم لوگ مکان خالی نہیں کرو گے تو میں جائیداد میں بھی آپ کو حصہ نہیں دوں گا۔ وہ جائیداد بھی 95 فیصد میں نے اپنی ذاتی رقم سے خریدی ہے۔ ورنہ دنیا میں مقدمہ لڑنا نہیں چاہتا، مگر آخرت میں اللہ کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کروں گا۔
میں ایک اور وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ الحمدللہ ابھی تک میرے بھائیوں نے ایک پیسے سے بھی میری مدد نہیں کی، جبکہ تین بھائی ان میں صاحبِ حیثیت ہیں۔ ان سے میرا ایک مطالبہ ہے کہ یہ گھر میرا اور میرے بچوں کا حق ہے، یہ میں آپ لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ پس چونکہ ابھی بوڑھا ہوگیا ہوں اور مجھ میں کمانے کی طاقت نہیں ہے، اس لیے مفتیان کرام سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں اپنا فتویٰ دے کر مشکور فرمائیں اور میری رہنمائی فرمائیں۔
ایک اور بات کی وضاحت چاہتا ہوں کہ میرے دو بھائیوں نے اپنا گھر بنایا اور والد کی وفات کے بعد وہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری ملکیت ہے، کیونکہ یہ ہم نے اپنے ذاتی پیسوں سے بنایا ہے، اور جو گھر اور جائیداد میں نے خریدی اور اپنی رقم لگائی، اس میں سب بھائی شریک ہوں۔
تنقیح:سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اور دبئی میں مزدوری کر رہےہیں ۔ اسی مزدوری کی رقم سے انہوں نے) 1977ء) میں ایک زمین خریدی۔ زمین خریدتے وقت ان کے والد صاحب اور بھائی بھی ساتھ تھے، لیکن سائل نے یہ صراحت نہیں کی کہ زمین ان کی ذاتی ملکیت ہوگی۔ چنانچہ والد صاحب نے زمین خریدی اور رجسٹری اپنے نام کروالی۔ بعد ازاں سائل نے اپنی رقم سے اس زمین پر گھر تعمیر کروایا اور تعمیر کے تمام اخراجات بھی خود برداشت کیے۔
سائل نے یہ بھی وضاحت کی کہ زمین خریدنے سے پہلے ان کی شادی ہوچکی تھی، اور زمین خریدتے وقت سائل کی اہلیہ ان کے والدین کے پاس ہی رہتی تھیں۔ بعد میں جب سائل گھر تعمیر کروانے کے لیے رقم بھیجتے تھے، اس وقت ان کے اہل وعیال سائل ہی کے پاس دبئی میں رہتے تھے۔
مزید یہ کہ سائل کے بیان کے مطابق انہوں نے اپنے بھائیوں کے تعلیمی اخراجات بھی برداشت کیے، ان کی شادیوں کے اخراجات بھی خود پورے کیے اور شادی کے موقع پر انہیں زیورات بھی دیے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد سائل اور ان کے بھائیوں نے مزید ایک زمین خریدی، جس کے تقریباً 95 فیصد اخراجات سائل نے ادا کیے۔ تاہم، وہ زمین تمام بھائیوں نے باہمی رضامندی سے تقسیم کرلی۔
اب مذکورہ پہلے والے گھر کے بارے میں اختلاف ہے۔ دو بھائی اپنی رضامندی سے الگ گھر بناکر چلے گئے، جبکہ دو بھائی اب بھی اسی گھر میں رہتے ہیں اور اس میں اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ سائل کا کہنا ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے نہ زمین خریدنے میں کوئی رقم دی اور نہ گھر کی تعمیر میں حصہ لیا، اس لیے وہ انہیں گھر خالی کرنے کا کہتا ہے، لیکن وہ انکار کرتے ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعاً مذکورہ گھر میں ان دونوں بھائیوں کا کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
نیز سائل کے حوالے سے اس کے بھائی سے بھی رابطہ ہوا۔ وہ بھائی جو اس کے ساتھ گھر میں رہتا ہے، کہتا ہے کہ جس زمین پر گھر بنا ہے، وہ ہمارے والد صاحب کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور جو گھر بنا ہے، والد صاحب اس کو اپنا ذاتی گھر سمجھتے تھے۔ جب سائل دبئی میں ہوتے تھے تو وہ گھر بنانے کے لیے پیسے بھیجتے تھے اور ہم یہاں کام کرتے تھے۔ وہ کہتا ہے کہ گھر کی تعمیر سے لے کر مکمل ہونے تک میں نے گھر میں کام کیا ہے، اور دوسرے بھائی اگرچہ اس وقت چھوٹے تھے لیکن وہ بھی اپنے بس کے مطابق اس میں کام کرتے تھے۔
سائل نے نہ زمین خریدتے وقت اور نہ گھر بناتے وقت ایسی کوئی صراحت کی تھی کہ یہ میرا ہوگا، بلکہ سب اسے مشترکہ تصور کرتے تھے۔ سائل کے بھائی نے یہ بھی کہا کہ جب گھر بن گیا تو ہمارے والد صاحب نے اس گھر کے کمرے بھی ہمارے بھائیوں پر تقسیم کیے تھے اور یہ وصیت کی تھی کہ ہر ایک کا یہ فلاں فلاں کمرہ ہوگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں اگر واقعۃ زمین خریدتے وقت اور اسی زمین پر گھر بنانے کے لیے آپ نے اپنے والد کو جو رقم دی تھی وہ رقم دیتے وقت آپ نے کوئی صراحت نہیں کی تھی اور نہ کوئی معاہدہ کیا تھا تو یہ رقم آپ کی طرف سے بطورِ تبرع و احسان شمار ہوگی۔ لہٰذا یہ مذکورہ زمین اور گھر مکمل طور پر آپ کے والد صاحب کی ملکیت ہیں اور اب جب آپ کے والدصاحب وفات پا چکے ہیں تو یہ مذکورہ زمین اور گھر مرحوم والد کی تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے ساتھ مل کر مرحوم کے تمام ورثہ میں شرعی طور پر بقدرِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔ تاہم آ پ کے ان ورثہ پر احسانات ہیں ،لہذا ورثہ میں سے کوئی آپ کو رضامندی سے بطورِ تبرع و احسان کچھ رقم یا اضافی حصہ دیتے ہیں تو یہ احسان کا بدلہ اور پسندیدہ عمل ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (502/6)
مطلبٌ : اجْتَمَعَا فِي دَارٍ وَاحِدَةٍ وَاكْتَسَبَا وَلَا يَعْلَمُ التَّفَاوَتْ فَهُوَ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ .تنبيه : يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز . فأجاب بأنه بينهما سوية وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ. وقدمنا أن هذا اليس شركة مفاوضة ما لم يصر حا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها، ثم هذا غير الابن مع أبيه الما في الفنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن هما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له ، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان. وفي الخانية : زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله، واختلفوا في المتاع فهو للأب و للبنين الثياب التي عليهم لا غير، فإن قالواهم أو امرأته بعد موته إن هذا استفدناه بعد موته فالقول هم ، وإن أقروا أنه كان يوم موته فهو ميراث من الأب.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488):
ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة؛ لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك، والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له، أي للزوج عليها أي على الزوجة؛ لأنه غير متطوع، فيرجع عليها لصحة الأمر، فصار كالمأمور بقضاء الدين. وإن عمرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة، وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق، فلا يكون له الرجوع عليها به. وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه، فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه، فيبقى على ملكه فيكون غاصباً للعرصة وشاغلاً ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين.
لكن بقي صورة، وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد: ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها، ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.
كتاب درر الحكام في شرح مجلة الأحكام) ج3 - ص421 –(
١ - اتحاد الصنعة، فإذا كان الأب مزارعا والابن صانع أحذية فكسب الأب من المزارعة والابن من صنعة الحذاء، فكسب كل منهما لنفسه وليس للأب المداخلة في كسب ابنه لكونه في عياله…..٢ فقدان الأموال سابقا. إذا كان للأب أموال سابقة كسبها ولم يكن معلوما للابن أموال بأن ورث من مورثه أموالا معلومة فيعد الابن في عيال الأب
٣ - أن يكون الابن في عيال أبيه، أما إذا كان الأب يسكن في دار والابن في دار أخرى وكسب الابن أموالا عظيمة فليس للأب المداخلة في أموال ابنه بداعي أنه ليس للابن مال في حياة أبيه.
كذلك لو كان إخوة أربعة في عائلة واحدة وسعوا في تكثير وتنمية الأموال الموروثة عن أبيهم فتقسم الأقسام بينهم بالسوية ولا ينظر إلى اختلاف عملهم أو اختلاف رأيهم وتعبير (ولده) ليس احترازيا فالحكم في الزوجة والإخوة على الوجه المذكور أيضا وذلك لو عمل أحد في صنعة مع زوجته الموجودة في عيال واكتسبا أموالا فكافة الكسب للزوج وتعد الزوجة معينة (الهندية) أما إذا كان للزوجة كسب على حدة فكافة الكسب لها ولا تعد معينة للزوج، كذلك لو كان في عيال أحد ولد له وإخوان وعملوا في صنعة واكتسبوا أموالا فكافة الكسب لذلك الشخص ويكون هؤلاء معينين له.
كما أنه إذا غرس شجرا فأعانه ولده الذي في عياله في الغرس فيكون كامل الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده في ذلك الشجر.
الفتاویٰ الخیریۃ لنفع البریۃ، کتاب الدعویٰ، ۲/۶۵
قول علمائنا: أبٌ وابنٌ يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال ثم اجتمع لهما مالٌ يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله ــ مقيدٌ بشروط، منها: اتحاد الصنعة، وعدم مالٍ سابقٍ لهما، وكون الابن في عيال أبيه؛ فإذا عُدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب.
(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الشرکۃ، ۴/۳۰۷)
ما يقع كثيرًا في الفلاحين ونحوهم: أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة، ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء ونحو ذلك ... وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها، مع كون التركة كلها عروضًا لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أنها ليست شركة مفاوضة، خلافًا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له، بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية.
(بدائع الصنائع، کتاب الشرکۃ، ۶/۶۵)
وأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعًا واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛ لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية، ولم يوجد.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
06/ربیع الثاني /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


