| 91273 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مقیم ہوں۔ میں یہاں ایک مسلمان شخص کے ساتھ فریج ریپیئر کا کام کرتا ہوں۔ میرا کام صبح آٹھ بجے شروع ہوتا ہے، جس کے لیے میں تقریباً سات بجے اٹھتا ہوں۔ ہم دن میں تو نماز پڑھتے ہیں، لیکن اکثر اوقات جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے، بلکہ انفرادی طور پر پڑھ لیتے ہیں۔ اور اگر کام بہت زیادہ ہو تو کبھی کبھار نماز بھی چھوٹ جاتی ہے، یعنی قضا ہو جاتی ہے۔رات کو میں تقریباً گیارہ یا بارہ بجے، اور کبھی کبھار ایک یا دو بجے سوتا ہوں، جس کی وجہ سے فجر کی نماز ہمیشہ قضا ہو جاتی ہے، کیونکہ تھکاوٹ اور پورا دن کام کرنے کی وجہ سے صبح اٹھ نہیں پاتا، جسم میں اتنی ہمت ہی نہیں ہوتی۔
آپ کی رائے میں مجھے یہ کام جاری رکھنا چاہیے، جس میں فجر اور کبھی کبھار باقی نمازیں بھی مصروفیت کی وجہ سے قضا ہو جاتی ہیں، یا کوئی اور کام ڈھونڈنا چاہیے، جس میں نمازوں کو ان کے اوقات پر پڑھ سکوں؟
دوسرا ایک راستہ یہ ہے کہ فوڈ ڈیلیوری کا کام شروع کر لوں۔ اس کام کو میں اپنی مرضی سے شروع بھی کر سکتا ہوں اور اپنی مرضی سے ختم بھی کر سکتا ہوں۔ اس میں وقت کی کوئی پابندی نہیں، جبکہ میں نمازوں کو ان کے اوقات پر بھی پڑھ سکتا ہوں۔اس میں مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے تمام ریسٹورنٹس حلال نہیں ہیں۔ زیادہ گمان ہے کہ مجھے حرام کھانا بھی ڈیلیور کرنا پڑے۔ یہاں آرڈر Uber App کے ذریعے ملتے ہیں، اس لیے ہمارے پاس یہ اختیار نہیں ہوتا کہ پہلے دیکھ سکیں کہ جو کھانا میں نے ڈیلیور کرنا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔اس کام کی ایک خوبی یہ ہے کہ میں نمازوں کو ان کے اوقات پر ادا کر سکتا ہوں۔ جب نماز کا وقت آئے گا تو میں ایپ بند کر کے نماز پڑھ سکتا ہوں۔
میں نے دونوں کام آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ پہلا کام حلال ہے، لیکن اس میں مصروفیت کی وجہ سے نمازیں قضا ہو جاتی ہیں۔ دوسرا کام میرے نزدیک مشتبہ ہے، لیکن اس میں نمازیں اپنے وقت پر ادا ہو سکتی ہیں۔آیا مجھے اپنا پہلا کام جاری رکھنا چاہیے یا دوسرا اختیار کرنا چاہیے؟ فی الحال میرے پاس یہی دو آپشن ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کو پہلا کام ہی جاری رکھنا چاہیے اور ساتھ ساتھ نمازوں کی پابندی بھی کرنی چاہیے۔ نماز دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے پہلا رکن ہے۔ وقت پر اس کی ادائیگی کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ نماز کو سستی، غفلت اور بغیر کسی معقول عذر کے کسی صورت میں مؤخر اور قضا کرنے کی اجازت نہیں۔ نماز میں سستی اور غفلت کو منافق کی علامت شمار کرکے اس کے لیے ہلاکت کی بددعا کی گئی ہے، نیز اس پر احادیث میں بے شمار وعیدیں آئی ہیں۔ اس لیے نماز میں کسی صورت غفلت اور سستی کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا لازم ہے۔
لہٰذا آپ موجودہ ملازمت جاری رکھیں، البتہ ایسی حلال اور جائز ملازمت کی تلاش بھی مسلسل جاری رکھیں جس میں نمازوں کی بروقت ادائیگی میں دشواری پیش نہ آئے۔ نیز اب تک نمازوں کے فوت ہونے پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ و استغفار کریں، جو نمازیں فوت ہوئی ہیں ان کی قضا پڑھیں، اور آئندہ نمازوں کی بروقت ادائیگی کا اہتمام کریں۔یہی کام درست ہے ۔تاہم شریک مسلمان سے مل کر ایسی صورت بنائی جائے ،جس میں دونوں کی نمازیں اور نیند پوری ہوسکیں ۔
رہی دوسری صورت تو اس کام میں آپ کو حرام اشیاء کے آرڈرز قبول نہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، بلکہ حلال و حرام ہر قسم کی اشیاء کی ڈیلیوری کرنا لازم ہے، اس لیے آپ کے لیے ایسی ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
قول الله تعالى : { فويل للمصلين الذين هم عن صلاتهم ساهون الذين هم يراءون ويمنعون الماعون } (سورة الماعون)
الجامع الصحيح سنن الترمذي (ج 5 / ص 7):
عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:﴿ بين الكفر والإيمان ترك الصلاة.
سنن أبي داود (1/ 121 ت محيي الدين عبد الحميد):
442 - حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا همام، عن قتادة، عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: (من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك)
مسند أحمد (45/ 357 ط الرسالة):
عن أم أيمن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: ( لا تترك الصلاة متعمدا، فإنه من ترك الصلاة متعمدا، فقد برئت منه ذمة الله ورسوله)
القرآن الکریم:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} (المائدة: 2).
فقه البیوع(2/1056):
أما الفنادق والمطاعم والخطوط الجویة التي تباع فیها الخمور والأشیاء المحرمة، فالأحسن لمسلم متدین أن یجتنب عن التعامل معها مهما وجد لذلك سبیلًا، وذلك لئلا یکون منه تشجیع لمن یتعاطون المحرمات، ولیظهر نفرته من ذلك. ولکن أموالها تدخل في الصورة الثالثة من القسم الثالث، وهو المختلط من الحلال والحرام. وحکمها أنه یسع التعامل معها في الأغذیة المباحة بیعًا وشراءً واتهابًا بقدر ما فیها من الحلال. وإن کان لایعرف قدر الحلال، فهو داخل في الصورة الرابعة من القسم الثالث، وحکمه انه یسع التعامل معها إن لم یغلب علی الظن أنه فوق الحلال.
أما قبول الوظائف في مثل هذه الفنادق والمطاعم، فإن کانت الوظیفة متمحضة لخدمة مباحة فهي جائزة، وتجری علی راتبها حکم المال الحلال، وإن کانت متمحضة للحرام، مثل بیع الخمر فهی حرام وراتبه حرام.وأما الوظائف المرکبة من الخدمات المباحة والخدمات المحظورة ، فلایجوز قبولها لاشتمالها علیٰ عمل محرم.و لکن إن قبل أحد مثل هذه الوظیفة، فما حکم الراتب الذی أخذه علیها؟ لم أجد فیها نقلاً فی کلام الفقهاء،إلا ماذکره ابن قدامة رحمه الله تعالیٰ:.....والحاصل أن الإجارة فی الخدمة المباحة إنما تصح إذا کانت أجرتها معلومة بانفرادها. ولاتصح فیماإذا لم تکن أجرتها معلومة. فإن کان کذلك فی خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك وشرکات التأمین، صارت أجرة الموظف فیها مرکبة من الحلال و الحرام. فدخلت فی الصورة الثالثة من القسم الثالث، وحل التعامل معه بقدر الحلال.أما إذا لم تعرف أجرة الخدمة المباحة علی حدتها، فالإجارة فاسدة، ولکن الأجیر یستحق أجر المثل فی الإجارات الفاسدة، کما صرح به ابن قدامة رحمه الله تعالیٰ بذلك فی إجارات فاسدة أخری. وعلیٰ هذا، فإن مایقابل أجر المثل للخدمة المباحة فی راتبه ینبغی أن یکون حلالاً. فصار راتبه مخلوطاً من الحلال والحرام فی هذه الصورة أیضاً. فینبغی أن یجوز معه التعامل بقدر الحلال.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
29/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


