| 92032 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
۱) ہمارے والد(محمدعمر) کے 1983ء میں انتقال کے وقت ہماری والدہ(زیب النساء)، سات بہنیں(ممتازبیگم،شحیم بیگم،نسیم بیگم،تبسم بیگم،شہنازبیگم،رضیہ بیگم اورعزیزہ بیگم) اور دو بیٹے(یونس خان،اصغرخان) یعنی نو بچے حیات تھے۔ نیز والد کے دو بھائی اور پانچ بہنیں، جو سب شادی شدہ تھے، حیات تھے۔
۲) والد(محمدعمر) کے انتقال کے بعد ہماری بڑی بہن (ممتازبیگم )کا انتقال ہوا، جن کی کوئی اولاد نہیں تھی اور وہ بیوہ تھیں۔
ورثہ: والدہ(زیب النساء)، چھ بہنیں(شحیم بیگم،نسیم بیگم،تبسم بیگم،شہنازبیگم،رضیہ بیگم اورعزیزہ بیگم)، دو بھائی(یونس خان،اصغرخان) ، دو بھانجے، دو بھانجیاں، دو بھتیجیاں، تین بھتیجے۔
۳) اس کے بعد ایک شادی شدہ بہن(رضیہ بیگم) کا انتقال ہوا۔
ورثہ: شوہر(فاروق)، ایک بیٹا(حسن)، ایک بیٹی(عائشہ)، والدہ(زیب النساء)، دو بھائی ،پانچ بہنیں، ایک بھانجا، ایک بھانجی، دو بھتیجیاں، تین بھتیجے۔
۴) اس کے بعد بڑے بھائی(یونس خان) کا انتقال ہوا۔
ورثہ: اہلیہ(نازیہ)، دو بیٹیاں(مریم اورخدیجہ)، ایک بیٹا(مصطفی)، والدہ(زیب النساء)، پانچ بہنیں، ایک بھائی، دو بھتیجے، دو بھانجے، دو بھانجیاں۔
۵)پھر والدہ(زیب النساء) کا انتقال ہوا،اس وقت ان کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا حیات تھا۔
ورثہ: پانچ بیٹیاں(شحیم بیگم،نسیم بیگم،تبسم بیگم،شہنازبیگم اورعزیزہ بیگم)، ایک بیٹا(اصغرخان)، دو نواسے، دو نواسیاں، دو پوتیاں، چار پوتے (جس میں مرحوم بیٹی کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی اور مرحوم بیٹے کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں بھی شامل ہیں)۔
۶)اس کے بعد ایک غیر شادی شدہ بہن(شہنازبیگم) کا انتقال ہوا۔
ورثہ: ایک کنواری بہن(شحیم بیگم) ، ایک بہن(عزیزہ بیگم) جس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی ہے، دو شادی شدہ بہنیں (نسیم بیگم،تبسم بیگم)جن کی کوئی اولاد نہیں، مرحوم بھائی کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں، ایک بھائی(اصغرخان) اور اس کے تین بیٹے۔
والدووالدہ اوروفات پاجانےوالےبھائی اوربہنوں کی وراثت کس حساب سے تقسیم ہوگی؟
تنقیح: میت کے بڑے بیٹے (یونس خان) کی اہلیہ (نازیہ) بھی ترکہ کی تقسیم سے پہلے وفات پا چکی ہیں اور اس کے ورثہ میں دو بیٹیاں (مریم و خدیجہ) اور ایک بیٹا (مصطفی) موجود ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید یہ جان لیں کہ میت کی نرینہ اولاد زندہ ہونے کی صورت میں اس کے بھائیوں، بہنوں، پوتوں، پوتیوں اور نواسوں، نواسیوں کو کچھ نہیں ملتا۔ اسی طرح اگر میت کے ورثہ میں بھائی موجود ہو تو اس کے بھتیجوں، بھتیجیوں اور بھانجوں، بھانجیوں کو کچھ نہیں ملتا۔ لہذا اس وضاحت کے مطابق مرحوم محمد عمر، مرحوم یونس خان اور مرحومہ رضیہ بیگم کے بھائیوں اور بہنوں کو ان کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ اسی طرح مرحومہ زیب النساء کے پوتوں، پوتیوں اور نواسوں، نواسیوں کو بھی اس کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ ان کے ورثہ میں نرینہ اولاد موجود ہے۔ نیز مرحومہ ممتاز بیگم اور مرحومہ شہناز بیگم کے ترکے میں بھی اس کے بھتیجوں، بھتیجیوں اور بھانجوں، بھانجیوں کو حصہ نہیں ملے گا کیونکہ ان کے ورثہ میں بھائی موجود ہے۔
۱)اس وضاحت کےبعد مرحوم محمدعمرکےترکےکی تقسیم درج ذیل ہے:
محمد عمر نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد اور ترکہ وغیرہ چھوڑا تھا، اس میں سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا اور اگر اس نے نمازیا روزے کے فدیے اور حج بدل کی یا کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوترکہ کےتہائی حصہ میں پورا کیا جائے گا۔
اس کے بعد جو ترکہ بچے گا تو اس میں سے اصغر خان کو% 15.26 ، شحیم بیگم کو %13.08 ،نسیم بیگم کو %13.08 ، تبسم بیگم کو %13.08 ، عزیزہ بیگم کو %13.08 ملےگا۔اسی طرح محمد عمر کے جو ورثہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے فوت ہوچکے ہیں تو ان میں سے رضیہ بیگم کے شوہر فاروق کو مرحوم محمد عمر کے ترکہ میں سے %2.15، ان کے بیٹے حسن کو %3.35 اور بیٹی عائشہ کو %1.67 حصہ ملےگا۔ اسی طرح مرحوم یونس خان کی بیٹیوں مریم اور خدیجہ میں سےہر ایک کو مرحوم محمد عمر کے ترکہ میں سے %3.59 ، %3.59 اور ان کے بیٹے مصطفی کو %7.18 حصہ ملے گا۔
مرحوم محمدعمرکےترکہ کی تقسیم کانقشہ درج ذیل ہے :
|
نمبر شمار |
زندہ ورثہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
اصغر خان |
% 15.26 |
|
2 |
شحیم بیگم |
%13.08 |
|
3 |
نسیم بیگم |
%13.08 |
|
4 |
تبسم بیگم |
%13.08 |
|
5 |
عزیزہ بیگم |
%13.08 |
|
6 |
فاروق خاوندرضیہ بیگم |
%2.15 |
|
7 |
حسن ،بیٹارضیہ بیگم |
%3.35 |
|
8 |
عائشہ،بیٹی رضیہ بیگم |
%1.67 |
|
9 |
مریم بنت یونس خان |
%3.59 |
|
10 |
خدیجہ بنت یونس خان |
%3.59 |
|
11 |
مصطفی بن یونس خان |
%7.18 |
|
|
مجموعہ |
100.00% |
۲ )اگر مرحومہ ممتازبیگم کےترکےمیں والد(محمدعمر)سےملنےوالےحصے کےعلاوہ بھی جائیدادموجودہےتواس کی تقسیم درج ذیل ہے:
ممتازبیگم نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد اور ترکہ وغیرہ چھوڑا تھا، اس میں سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا اور اگر اس نے نمازیا روزے کے فدیے اور حج بدل کی یا کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوترکہ کےتہائی حصہ میں پورا کیا جائے گا۔
اس کے بعد جو ترکہ بچے گا تو اس میں سے اصغر خان کو% 38.26 ، شحیم بیگم کو %13.19 ،نسیم بیگم کو %13.19 ، تبسم بیگم کو %13.19 ، عزیزہ بیگم کو %13.19 ملےگا۔اسی طرح ممتازبیگم کے جو ورثہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے فوت ہوچکے ہیں تو ان میں سے رضیہ بیگم کے شوہر فاروق کو ممتازبیگم کے ترکہ میں سے %2.08، ان کے بیٹے حسن کو %3.24 اور بیٹی عائشہ کو %1.62 حصہ ملےگا۔ اسی طرح مرحوم یونس خان کی بیٹیوں مریم اور خدیجہ میں سےہر ایک کو ممتازبیگم کے ترکہ میں سے %3.47 ، %3.47 اور ان کے بیٹے مصطفی کو %6.94 حصہ ملے گا۔
مرحومہ ممتازبیگم کےترکہ کی تقسیم کانقشہ درج ذیل ہے :
|
نمبر شمار |
زندہ ورثہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
اصغر خان |
% 38.26 |
|
2 |
شحیم بیگم |
%13.19 |
|
3 |
نسیم بیگم |
%13.19 |
|
4 |
تبسم بیگم |
%13.19 |
|
5 |
عزیزہ بیگم |
%13.19 |
|
6 |
فاروق خاوندرضیہ بیگم |
%2.08 |
|
7 |
حسن ،بیٹارضیہ بیگم |
%3.24 |
|
8 |
عائشہ،بیٹی رضیہ بیگم |
%1.62 |
|
9 |
مریم بنت یونس خان |
%3.47 |
|
10 |
خدیجہ بنت یونس خان |
%3.47 |
|
11 |
مصطفی بن یونس خان |
%6.94 |
|
|
مجموعہ |
100.00% |
۳ ) اگر مرحومہ رضیہ بیگم کے ترکے میں والد (محمد عمر) اور بہن (ممتاز بیگم) سے ملنے والے حصے کے علاوہ بھی جائیداد موجود ہے تو اس کی تقسیم درج ذیل ہے:
رضیہ بیگم نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد اور ترکہ وغیرہ چھوڑا تھا، اس میں سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا اور اگر اس نے نمازیا روزے کے فدیے اور حج بدل کی یا کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوترکہ کےتہائی حصہ میں پورا کیا جائے گا۔
اس کے بعد جو ترکہ بچے گا تو اس میں سے رضیہ بیگم کے شوہر فاروق کو %25، ان کے بیٹے حسن کو %38.88 اور بیٹی عائشہ کو %19.45 ،اوران کے بھائی اصغر خان کو% 5.55 ، اوربہنوں شحیم بیگم کو %2.78 ،نسیم بیگم کو %2.78 ، تبسم بیگم کو %2.78 ، عزیزہ بیگم کو %2.78 حصہ ملےگا۔
مرحومہ رضیہ بیگم کےترکہ کی تقسیم کانقشہ درج ذیل ہے :
|
نمبر شمار |
زندہ ورثہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
اصغر خان |
% 5.55 |
|
2 |
شحیم بیگم |
%2.78 |
|
3 |
نسیم بیگم |
%2.78 |
|
4 |
تبسم بیگم |
%2.78 |
|
5 |
عزیزہ بیگم |
%2.78 |
|
6 |
فاروق خاوندرضیہ بیگم |
%25 |
|
7 |
حسن ،بیٹارضیہ بیگم |
%38.38 |
|
8 |
عائشہ،بیٹی رضیہ بیگم |
%19.45 |
|
|
مجموعہ |
100.00% |
۴ ) اگر مرحوم یونس خان کے ترکے میں والد (محمد عمر) اور بہن (ممتاز بیگم) سے ملنے والے حصے کے علاوہ بھی جائیداد موجود ہے تو اس کی تقسیم درج ذیل ہے:
یونس خان نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد اور ترکہ وغیرہ چھوڑا تھا، اس میں سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا اور اگر اس نے نمازیا روزے کے فدیے اور حج بدل کی یا کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوترکہ کےتہائی حصہ میں پورا کیا جائے گا۔
اس کے بعد جو ترکہ بچے گا تو اس میں سے اس کی بیٹیوں مریم اور خدیجہ میں سےہر ایک کو %20.83 ، %20.83اور ان کے بیٹے مصطفی کو %41.66حصہ اوراس کےبھائی اصغر خان کو%5.55 ، اوربہنوں شحیم بیگم کو %2.78 ،نسیم بیگم کو %2.78 ، تبسم بیگم کو %2.78 ، عزیزہ بیگم کو %2.78 حصہ ملےگا۔
مرحوم یونس خان کےترکہ کی تقسیم کانقشہ درج ذیل ہے :
|
نمبر شمار |
زندہ ورثہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
اصغر خان |
%5.55 |
|
2 |
شحیم بیگم |
%2.78 |
|
3 |
نسیم بیگم |
%2.78 |
|
4 |
تبسم بیگم |
%2.78 |
|
5 |
عزیزہ بیگم |
%2.78 |
|
6 |
مریم بنت یونس خان |
%20.83 |
|
7 |
خدیجہ بنت یونس خان |
%20.83 |
|
8 |
مصطفی بن یونس خان |
%41.66 |
|
|
مجموعہ |
99.99% |
۵) اگر مرحومہ زیب النساء کے ترکے میں شوہر (محمد عمر) اور مرحومہ زیب النساء کی وفات سے پہلے فوت شدہ بیٹے اور بیٹیوں (یونس خان، ممتاز بیگم، رضیہ بیگم) سے ملنے والے حصے کے علاوہ بھی جائیداد موجود ہے تو اس کی تقسیم درج ذیل ہے:
زیب النساء نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد اور ترکہ وغیرہ چھوڑا تھا، اس میں سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا اور اگر اس نے نمازیا روزے کے فدیے اور حج بدل کی یا کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوترکہ کےتہائی حصہ میں پورا کیا جائے گا۔
اس کے بعد جو ترکہ بچے گا تو اس میں سے اصغر خان کو% 33.33 ، شحیم بیگم کو %16.67 ،نسیم بیگم کو %16.67 ، تبسم بیگم کو %16.67 ، عزیزہ بیگم کو %16.67 ملےگا۔مرحومہ زیب النساء کے ترکہ کی تقسیم کا نقشہ درج ذیل ہے:
|
نمبر شمار |
زندہ ورثہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
اصغر خان |
% 33.33 |
|
2 |
شحیم بیگم |
%16.67 |
|
3 |
نسیم بیگم |
%16.67 |
|
4 |
تبسم بیگم |
%16.67 |
|
5 |
عزیزہ بیگم |
%16.67 |
|
|
مجموعہ |
100% |
۶) اگر مرحومہ شہناز بیگم کے ترکے میں والدین اورفوت شدہ بہن( ممتاز بیگم) سے ملنے والے حصے کے علاوہ بھی جائیداد موجود ہے تو اس کی تقسیم میں بھی یہی تفصیل ہےکہ حقوقِ ثلاثہ متقدمہ(تجہیزوتکفین کےمتوسط اخراجات،دَین اور وصیت ) کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا تو اس میں سے اصغر خان کو% 33.33 ، شحیم بیگم کو %16.67 ،نسیم بیگم کو %16.67 ، تبسم بیگم کو %16.67 ، عزیزہ بیگم کو %16.67 ملےگا۔مرحومہ شہناز بیگم کے ترکہ کی تقسیم کا نقشہ درج ذیل ہے:
|
نمبر شمار |
ورثہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
اصغر خان |
% 33.33 |
|
2 |
شحیم بیگم |
%16.67 |
|
3 |
نسیم بیگم |
%16.67 |
|
4 |
تبسم بیگم |
%16.67 |
|
5 |
عزیزہ بیگم |
%16.67 |
|
|
مجموعہ |
100% |
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (6/ 447)
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 73)
(قوله وإنما يعطي من ثلث ماله) أي فلو زادت الوصية على الثلث لا يلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة. وفي القنية: أوصى بثلث ماله إلى صلوات عمره وعليه دين فأجاز الغريم وصيته لا تجوز لأن الوصية متأخرة عن الدين ولم يسقط الدين بإجازته۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 604)
أما إذا لم يخرج وأوصى بأن يحج عنه وأطلق: أي لم يعين مالا ولا مكانا فإنه يحج عنه من ثلث ماله من بلده إن بلغ الثلث لأن الواجب عليه الحج من بلده الذي يسكنه وإلا فمن حيث يبلغ، وإن لم يمكن من مكان بطلت الوصية كما في اللباب۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 781)
(ويسقط بنو الأعيان) وهم الإخوة والأخوات لأب وأم بثلاثة (بالابن) وابنه وإن سفل (وبالأب) اتفاقا (وبالجد) عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى –۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 764)
(قوله ثم ذوي الأرحام) أي يبدأ بهم عند عدم ذوي الفروض النسبية والعصبات۔
الفتاوى الهندية (6/ 451)
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم۔
الفتاوى الهندية (6/ 448)
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين۔
الفتاوى الهندية (6/ 450)
الأخوات لأب وأم ...ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين۔
الفتاوى الهندية (6/ 449)
الأم ولها ثلاثة أحوال: السدس مع الولد وولد الابن أو اثنين من الإخوة والأخوات من أي جهة كانوا۔
الفتاوى الهندية (6/ 450)
وأما الربع ففرض صنفين فرض الزوج إذا كان للميت ولد أو ولد ابن وفرض الزوجة أو الزوجات إذا لم يكن للميت ولد ولا ولد ابن وأما الثمن ففرض الزوجة أو الزوجات إذا كان للميت ولد أو ولد ابن۔
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
07/ربیع الثانی/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


