| 92065 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک باپ کی چار بیٹیاں تھیں، کوئی بیٹا نہیں تھا۔ اس نے اپنی تمام بیٹیوں سے مشورہ کرکے سب سے چھوٹی نادار بیٹی کو اپنی زمین، جو 4 کنال 3 مرلے تھی، ہبہ کر دی (نقل منسلک ہے)۔ بندوبست میں یہی زمین 5 کنال 2 مرلے ثابت ہوئی، جو چھوٹی بیٹی نے اپنے چار بیٹوں کو ہبہ کر دی (نقل منسلک ہے) اور قبضہ بھی دے دیا۔
ہبہ کرنے والے باپ اور بیٹیاں، دونوں فوت ہو گئے ہیں۔ چھوٹی بیٹی، جس نے اپنے چار بیٹوں کو زمین ہبہ کی تھی، اس کے دو بیٹے بھی فوت ہو گئے ہیں، البتہ ان کی بیوگان اور یتیم بچے موجود ہیں۔
اب بیٹی کی بیٹیوں، جو شادی شدہ ہیں، نے اپنے حصے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے، جبکہ ماں کو فوت ہوئے 21 سال اور ہبہ کو 37 سال گزر چکے ہیں۔ انہوں نے کبھی ماں کی زندگی میں اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کیا۔
شرعی طور پر کیا ان بیٹیوں کا حصہ بنتا ہے، جن کا ہبہ میں نام بھی نہیں تھا؟ اگر ان کا حصہ بنتا ہے تو کتنا بنے گا؟ اور کیا سب بھائی اپنے اپنے حصے میں سے کچھ نہ کچھ دیں گے، جبکہ دو بھائی فوت ہو گئے ہیں؟
مزید یہ کہ اس حصے میں دو دکانوں میں بھی ہر بھائی کا حصہ ہے، جو سڑک کے ساتھ آگے کی طرف ہیں، اور ان کے پیچھے تین بھائیوں کے مکان ہیں۔ ان مکانوں کے ساتھ سے تمام بھائیوں کے مختلف حصوں میں پلاٹ ہیں، اور اس پلاٹ میں سے ایک پلاٹ میں ایک بھائی کا شلٹر بھی ہے۔اب شرعی طور پر یہ بتائیں کہ ان دکانوں، مکانوں اور شلٹر میں سے بہنوں کا کون سا حصہ بنے گا؟H
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جب چھوٹی بیٹی نادرا نے مذکورہ زمین اپنے چار بیٹوں کو باقاعدہ ہبہ کرکے ان کے قبضے میں دے دی، تو ہبہ مکمل ہوگیا اور وہ زمین ان چاروں بھائیوں کی ملکیت میں منتقل ہوگئی۔ لہٰذا مذکورہ زمین میں نادرا کی بیٹیوں کا کوئی حصہ نہیں تھا، نہ وہ اپنی والدہ کی زندگی میں اس زمین میں کسی حصے کا مطالبہ کرسکتی تھیں اور نہ ہی والدہ کے انتقال کے بعد انہیں اس زمین میں مطالبے کا شرعی حق حاصل ہے۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 696):
«وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (7/ 288):
«قوله فروع) يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط وفي فتاوى قاضي خان رجل أمر شريكه بأن يدفع إلى ولده مالا فامتنع الشريك عن الأداء كان للابن أن يخاصمه إن لم يكن على وجه الهبة وإن كان على وجهها لا لأنه في الأول وكيل عن الأب وفي الثاني لا وهي غير تامة لعدم الملك لعدم القبض وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ ربیع الثانی /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


