03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی تقسیم
92253میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عرضِ خدمت ہے کہ میرے والدِ مرحوم کی کل وراثت دو کروڑ اکتالیس لاکھ روپے ہے، اور لواحقین میں ایک بیوہ، چار بیٹے، چار بیٹیاں اور دو بہنیں ہیں۔ برائے کرم شریعت کی روشنی میں ہر وارث کے شرعی حصے کی وضاحت فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم والد کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ( اگر  کسی وارث نے یہ خرچہ بطورِ تبرع ادا نہ کیا ہو) نکالا جائے گا۔ اس کے بعد مرحوم کاقرضہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی (3/1) تک اسے نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ باقی بچے گا، اسے مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ورثاء، یعنی ایک بیوہ، چار بیٹے اور چار بیٹیوں میں شرعی اصول کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

صورتِ مسئولہ میں تمام قابلِ تقسیم ترکہ کو 96 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے:

1۔ بیوہ (والدہ) کو 12 حصے ملیں گے، جو کل ترکے کا 12.5%بنتے ہیں۔ اگر کل ترکہ دو کروڑ اکتالیس لاکھ روپے (2,41,00,000 روپے) ہو تو بیوہ کو 30,12,500 روپے ملیں گے۔

2۔ چاروں بیٹوں کے مجموعی طور پر 56 حصے، یعنی کل ترکے کا %58.3333، اور مجموعی رقم 1,40,58,333.33 روپے بنتی ہے۔ ہر ایک بیٹے کو 14 حصے ملیں گے، جو کل ترکے کا 14.5833%بنتے ہیں۔ ایک بیٹے کا حصہ 35,14,583.33 روپے بنتا ہے۔

3۔ چاروں بیٹیوں کے مجموعی طور  28 حصے، یعنی کل ترکے کا %29.1667، اور مجموعی رقم 70,29,166.67 روپے بنتی ہے۔ ہر ایک بیٹی کو 7 حصے ملیں گے، جو کل ترکے کا 7.2917%بنتے ہیں۔ ایک بیٹی کا حصہ 17,57,291.67 روپے بنتا ہے۔

4۔ مرحوم کی دونوں بہنیں بیٹوں کی موجودگی کی وجہ سے شرعاً محجوب ہوگی  ، لہٰذا انہیں میراث میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

مورثِ اعلیٰ کا چارٹ — کل ترکہ: 96 عددی حصے

نمبر شمار

ورثاء9 

عددی حصے  96

فیصدی حصے 100 

رقم2,41,00,000 روپے   

1

بیوہ

12

%12.5000

30,12,500

2

بیٹا

14

%14.5833

35,14,583.33

3

بیٹا

14

14.5833%

35,14,583.33

4

بیٹا

14

14.5833%

35,14,583.33

5

بیٹا

14

14.5833%

35,14,583.33

6

بیٹی

7

7.2917 %

17,57,291.67

7

بیٹی

7

7.2917 %

17,57,291.67

8

بیٹی

7

7.2917 %

17,57,291.67

9

بیٹی

7

7.2917 %

17,57,291.67

 

 

 

حوالہ جات

قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ .........وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... }             [النساء: 12, 11]

اسداللہ بن قوت خان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

16/ ربیع الثانی /8144 ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب