03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروباری منافع اور ترکہ کی شرعی تقسیم کا حکم
92064میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

گزارش ہے کہ درج ذیل وراثت کے مسئلہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائی جائے۔

چوہدری غلام محمد ولد چوہدری عمر بخش کا انتقال سن 1978ء میں ہوا۔ انتقال کے وقت مرحوم کے درج ذیل وارثین موجود تھے: دو بیویاں، دو بیٹیاں، دو سگے بھائی، تین سگی بہنیں، ایک سوتیلا (باپ شریک) بھائی۔

مسئلہ نمبر 1: کاروبار اور منافع کا معاملہ:

مرحوم کی زندگی میں ان کے کاروبار میں نوکر کی حیثیت سے ان کے سوتیلے بھائی کی اولادیں، جن کے نام نذیر، شریف اور صدیق ہیں، کام کیا کرتی تھیں۔ مرحوم کے انتقال کے بعد مذکورہ سوتیلے بھائی کی اولاد (نذیر، شریف، صدیق) مالک کی طرح کاروبار چلاتے رہے۔ تمام منافع خود لیتے رہے، جبکہ مرحوم کی دو بیویوں کو صرف خرچی کے طور پر کچھ رقم دیتے تھے۔اس تمام مدت میں وہ اس کاروبار کے منافع سے خود فائدہ اٹھاتے رہے، مزید کاروبار قائم کیے، اور جائیدادیں بھی بنائیں۔ آج، سن 2026ء میں بھی ان کے وہ کاروبار موجود ہیں جو مرحوم کے کاروبار کے منافع سے قائم کیے گئے تھے۔

1. کیا ان سوتیلے بھتیجوں کا اکیلے کاروبار کا منافع کھاتے رہنا شرعاً جائز تھا؟

2. کیا مرحوم کے سگے بہن بھائیوں اور دیگر شرعی ورثاء کو اس منافع سے محروم رکھنا جائز تھا؟

3. کیا ان پر گزشتہ منافعوں کا حساب دے کر شرعی ورثاء کو ان کا حق ادا کرنا لازم ہے؟

مسئلہ نمبر 2: زمین کی تقسیم کا معاملہ:

ایک زمین کی تقسیم میں لاعلمی کی وجہ سے مرحوم کے سگے بہن بھائیوں کی فہرست میں سوتیلے (باپ شریک) بھائی کا نام بھی شامل کر دیا گیا، اور اس بنیاد پر اس کے نام حصہ لگ گیا۔

سن 2023ء میں جب علم ہوا کہ شرعاً اس سوتیلے بھائی کا حصہ نہیں بنتا، تو اس کی اولادوں سے کہا گیا کہ وہ زمین واپس کریں۔ اس پر سوتیلے بھتیجوں نے جواب دیا کہ ہم مولانا مودودی رحمہ اللہ کے ماننے والے ہیں، اور ان کے مطابق حصہ بنتا ہے۔مزید یہ کہ سوتیلے بھتیجوں نے ہمیشہ مرحوم کے کاروبار کے منافع سے سگے بھائیوں کو محروم رکھا، غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا، حتیٰ کہ مرحوم کی وراثت کی بنیاد پر جو زمین ان کے والد کے نام لاعلمی سے لگی تھی، اس کے سلسلہ میں بھی مرحوم کی ایک بیوہ سے زبانی دعویٰ کرکے زائد رقم وصول کی، جو سگے بھائیوں کے حصے سے بھی زیادہ ہے۔

4. کیا سوتیلے (باپ شریک) بھائی کا اس صورت میں وراثت میں حصہ بنتا تھا یا نہیں؟

5. اگر غلطی سے زمین دے دی گئی ہو تو کیا اس کی واپسی لازم ہے؟

6. کیا سوتیلے بھتیجوں کا مذکورہ طرزِ عمل، زائد وصولی، اور دوسروں کے حقوق دبانا جائز ہے؟

7. اب شرعاً تمام ورثاء کے حقوق کیسے ادا کیے جائیں؟

براہ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1. سوتیلے بھتیجوں (نذیر، شریف، صدیق) کا مرحوم کے کاروبار پر خود ساختہ مالک بن کر تنہا اس کا منافع کھاتے رہنا شرعاً بالکل ناجائز، حرام اور غصب ہے۔

2. مرحوم کے سگے بہن بھائیوں، بیوہ اور بیٹیوں کو کاروبار کے منافع سے محروم رکھنا شدید ظلم اور دیگر ورثاء کے حقوق پر ناجائز قبضہ ہے۔

3. چونکہ یہ کاروبار مرحوم کا ترکہ تھا، اس لیے اس کاروبار کے بنیادی سرمائے اور اس کے منافع سے جو نئے کاروبار قائم کیے گئے یا جائیدادیں خریدی گئیں، ان تمام کا باقاعدہ حساب کرکے تمام شرعی ورثاء کو ان کے شرعی سہام کے مطابق حق ادا کرنا ان بھتیجوں پر شرعاً و دیانتاً لازم اور واجب ہے۔

4. سگے بھائیوں کی موجودگی میں سوتیلے (باپ شریک) بھائی کا وراثت میں کوئی حصہ شرعاً ہرگز نہیں بنتا، وہ مکمل طور پر محروم ہے۔

5. لاعلمی یا غلط فہمی کی بنا پر جو زمین سوتیلے بھائی کے نام لگی تھی، اس کو واپس لے کر اصل شرعی ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کرنا شرعاً فرض و لازم ہے۔

6. سوتیلے بھتیجوں کا مذکورہ طرزِ عمل، دوسروں کے حقوق دبانا اور مرحوم کی بیوہ سے زبانی دعویٰ کرکے زائد رقم وصول کرنا شدید گناہ اور ناجائز مال کھانا ہے، جس کا لوٹانا ان پر واجب ہے۔

7. اس کاروبار کے بنیادی سرمائے اور اس کے منافع سے جو نئے کاروبار قائم کیے گئے یا جائیدادیں خریدی گئیں، ان تمام کی مجموعی مالیت کا حساب کرکے مرحوم کے تمام شرعی ورثاء (دو بیویاں، دو بیٹیاں، دو سگے بھائی، تین سگی بہنیں) کو ان کے شرعی سہام کے مطابق حق ادا کردیا جائے، اور بھتیجوں کو صرف ان کی نوکری کا معاوضہ ادا کیا جائے۔

چنانچہ تمام جائیداد کو 336 حصوں میں تقسیم کیا جائے، جس میں سے:

ہر بیٹی کو 112 حصے، (دونوں کو مجموعی طور پر 224 حصے)،ہر ایک بیوی کو 21 حصے، (دونوں کو مجموعی طور پر 42 حصے)،

ہر ایک سگے بھائی کو 20 حصے، (دونوں کو مجموعی طور پر 40 حصے)،ہر ایک سگی بہن کو 10 حصے، (تینوں کو مجموعی طور پر 30 حصے) دیے جائیں۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 774):

«ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما وللشافعي.»

اسداللہ بن قوت خان

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 3/ ربیع الثانی /8144 ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب