03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وزیراعظم قرض اسکیم کے تحت قرض لینے کا شرعی حکم
92483سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

میں نے عسکری بینک سے پرائم منسٹر لون اسکیم کے تحت ایک کروڑ روپے کا قرض لینا ہے۔ جو کہ 10 سال تک ہر ماہ 1,06,000 روپے دینے ہیں، جو کہ 5 فیصد شرحِ سود پر ہے (اور اگر 20 سال کے لیے ہو تو کِیبور + 3 فیصد پر ہے)۔ میں اب کیا کروں؟ کیا یہ سود میں تو نہیں آ جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ "گھر قرضہ اسکیم بمع پانچ فیصد رعایتی اضافہ برائے پہلے دس سال" (وزیراعظم اپنا گھر پروگرام) کی شرعی حیثیت اس کے حقیقی معاہدے اور طریقۂ کار پر موقوف ہے۔

اگر اس اسکیم میں معاملہ یہ ہو کہ بینک درخواست گزار کو رقم بطورِ قرض فراہم کرتا ہے، اور پھر اصل رقم سے زائد رقم "مارک اَپ" یا "انٹرسٹ" کے نام سے وصول کرتا ہے، خواہ اس زائد رقم کا کچھ حصہ حکومت سبسڈی کی صورت میں ادا کرے، تو یہ شرعاً سود کے حکم میں داخل ہوگا؛ کیونکہ قرض پر مشروط اضافہ شریعتِ مطہرہ میں ناجائز اور حرام ہے۔ محض نام تبدیل کر دینے یا حکومت کی سبسڈی شامل ہونے سے سود کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔

البتہ اگر یہی اسکیم کسی اسلامی بینک کے ذریعے حقیقی شرعی فنانسنگ، مثلاً شرکتِ متناقصہ یا دیگر اسلامی عقود کے مطابق ہو، جہاں بینک اور صارف مشترکہ ملکیت قائم کرتے ہیں، اور کرایہ و ملکیت کی منتقلی کے مراحل شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہوں، تو اس کی گنجائش ہے۔

چنانچہ اگر مذکورہ قرض  عسکری بینک کے اسلامی ونڈو کے ذریعے شرعی اصولوں کے مطابق حقیقی شرعی فنانسنگ کی صورت میں ہو تو اس کی گنجائش ہے، اور اگر عسکری بینک کے کنونشنل بینکنگ سے قرض کی صورت میں ہو تو جائز نہیں، بلکہ سود ہے ۔

حوالہ جات

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 395):

وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام: «خيار الناس أحسنهم قضاء» .

اسداللہ بن قوت خان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

23/ ربیع الثانی /8144 ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب