| 91983 | نماز کا بیان | مریض کی نماز کا بیان |
سوال
مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں مفتیانِ کرام شرعِ متین کی روشنی میں کیا فرماتے ہیں کہ:
1۔ زید کے والد بکر کا عرصہ دو، ڈھائی سال کی بیماری کے بعد انتقال ہوگیا۔ عرصۂ بیماری میں نمازیں بھی چھوٹی ہیں، جو متعین تعداد میں معلوم نہیں، اور اس کے بارے میں کوئی وصیت بھی نہیں۔ ان نمازوں کا حساب اور ادائیگی کس طرح کی جائے؟
2۔ پسماندگان میں ایک بیوہ اور اولاد پانچ بیٹے، جن میں تین شادی شدہ، اور آٹھ بیٹیاں، جن میں تین غیر شادی شدہ ہیں۔ اولاد سب بالغ ہیں۔ کل ترکہ میں 17 دکانیں، 4 بالائی کمرے، اور رہائشی گھر (جس میں زید کے ساتھ والدہ/بیوہ، بھائی اور غیر شادی شدہ بہنیں پہلے کی طرح ایک ساتھ مشترک رہ رہے ہیں، جیسے والد کی حیات میں رہ رہے تھے) اور ایک خالی پلاٹ (غیر مشترک/تقسیم شدہ)، اور ایک اور خالی پلاٹ/زمین (نصف یا تہائی مشترک، غیر تقسیم شدہ)، اور ایک الگ فلیٹ (اسکیم میں جو ابھی بنا بھی نہیں، صرف فارم یا فائل میں ہے)، اور اس کے ساتھ ایک مارکیٹ میں بقدر ایک دکان کی جگہ، ساتھ میں بقدر ایک اور دکان کی دوسری جگہ (جو سرکاری اسکیم کمیٹی کی طرف سے بونس میں دی جائے گی، ابھی وہ اسکیم اور مارکیٹ بنی نہیں)، اور کچھ اور شرکاء کے ساتھ مشترکہ زمین ہے۔
3۔ کیا صرف سہام اور حصوں کا فی الحال تعین کافی ہوگا، پھر جب فروختگی ہوگی تب سب کی ایک دوسرے کی کمی زیادتی کا حساب کیش میں کیا جائے گا، یا بھائی دکانیں وغیرہ مارکیٹ قیمت میں اپنے لیے رکھیں اور بہنوں کو آہستہ آہستہ ان کے حصوں کی بقدر قیمت ادا کرتے رہیں؟
4۔ اگر فی الحال سب کسی جگہ کے نہ بیچنے پر متفق ہوتے ہیں تو کیا پھر ان دکانوں کی کرایہ آمدن کو بھی بقدرِ سہام تقسیم کیا جانا ضروری ہے؟
5۔اور رہائشی گھر، جس میں رہ رہے ہیں، اس کا فی الحال کس طرح طریقہ کیا جائے کہ گلوخلاصی بھی ہو اور انتظامی مشکل بھی نہ ہو؟ وہ اس طرح کہ اس کا بھی کوئی کرایہ مقرر کیا جائے ان پر جو اس میں رہ رہے ہیں، یا صرف شادی شدہ بہنوں کا اپنے اپنے حصوں میں ہماری رہائش پر رضامند ہونا فی الحال کافی ہوگا، پھر جب فروختگی یا وسعت ہوگی بقدرِ حصہ سب کو دیا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
:واضح رہے کہ اگر مریض قیام کر سکتا ہے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھنا لازم ہے، چاہے سہارا لے کر ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کھڑے ہونے سے بیماری بڑھنے یا شدید تکلیف ہونے کا غالب اندیشہ ہو تو بیٹھ کر رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھے، اور اگر رکوع اور سجدہ نہ کر سکتا ہو تو بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے، اور سجدے کا اشارہ رکوع سے زیادہ جھک کر کرے۔ اور اگر بیٹھنا بھی ممکن نہ ہو تو چِت لیٹ کر، ورنہ دائیں یا بائیں کروٹ لیٹ کر اشارے سے نماز ادا کرے۔
اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو:
1۔ اگر اسی حالت میں اس کا انتقال ہو جائے تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں۔ لیکن اگر بیماری کے بعد وہ تندرست ہو گیا تو:
2۔ اگر بیماری ایک دن اور ایک رات سے زیادہ ہو اور اس کو ہوش نہ ہو تو قضا بھی لازم نہیں اور فدیہ بھی نہیں۔ اور اگر بیماری ایک دن اور ایک رات یا اس سے کم ہو تو قضا لازم ہے، اور نماز ادا نہ کرنے کی صورت میں وصیت کرنا لازم ہے۔
3۔ اگر بیماری ایک دن اور ایک رات یا اس سے کم ہو اور اس کو ہوش ہو تو نماز کی قضا لازم ہے۔ اگر نماز ادا نہ کر سکے تو وصیت بھی لازم ہے، اور اگر وصیت کی تو ورثاء پر ثلثِ ترکہ سے فدیہ ادا کرنا لازم ہے۔
4۔ اگر بیماری ایک دن اور ایک رات سے زیادہ ہو اور وہ ہوش میں ہو تو تندرست ہونے کے بعد نہ قضا لازم ہے اور نہ وصیت؛ لہٰذا فدیہ بھی نہیں۔ نیز اگر درمیان میں کسی بھی وقت اتنی قدرت حاصل ہوئی کہ سر کے اشارے سے نماز ادا کر سکتا تھا تو ان دنوں کی قضا لازم ہوگی۔ اگر ادا نہ کر سکا تو موت سے پہلے وصیت کرنا لازم ہے، اور اگر وصیت کی تو ورثاء پر فدیہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر زید کے والد کے بیماری کے سالوں میں کوئی دن بھی ایسا نہیں تھا جس میں انہیں سر کے اشارے سے نماز پڑھنے کی قدرت حاصل ہوئی ہو، خواہ اس کے بعد وہ تندرست ہو گئے ہوں یا اسی حالت میں ان کی وفات ہو گئی ہو، تو ان کے ذمے بیماری کے ان دنوں کی نمازیں لازم نہیں تھیں؛ لہٰذا ایسی صورت میں ان نمازوں کا فدیہ بھی لازم نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ان دنوں میں کوئی ایک دن بھی ایسا گزرا ہو جس میں اتنا افاقہ ہوا ہو کہ وہ سر کے اشارے سے نماز پڑھ سکتے تھے، لیکن انہوں نے نماز نہیں پڑھی، تو ان دنوں کی نمازوں کا اندازہ لگا کرکے ان کا فدیہ ادا کر دیا جائے۔ ایک دن میں وتر کے ساتھ کل چھ نمازیں ہوتی ہیں، جن کے چھ فدیے دینے ہوتے ہیں۔
چونکہ مرحوم نے وصیت نہیں کی، تو ایسی صورت میں ورثاء کے ذمے فدیہ ادا کرنا لازم نہیں۔ البتہ اگر ورثاء اپنی خوشی سے ان کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کر دیں تو یہ مرحوم کے ساتھ نیکی ہوگی، بشرطیکہ ورثاء میں کوئی نابالغ نہ ہو۔ بصورتِ دیگر بالغ ورثاء اپنے اپنے حصوں سے اپنی خوشی سے فدیہ ادا کر سکتے ہیں۔
ہر نماز اور ہر روزے کا فدیہ ایک صدقۂ فطر کے برابر ہوتا ہے، جو گندم کے اعتبار سے پونے دو کلو گندم یا پونے دو کلو گندم کی مارکیٹ کی قیمت ہے۔ احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت ادا کی جائے۔
فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے؛ یعنی ایسا مسلمان فقیر جو سید یا ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو۔ لہٰذا ورثاء مرحوم کی نمازوں اور روزوں کے حساب سے ان کی کل قضا شدہ نمازوں اور روزوں کا اندازہ لگا کر، فی نماز اور فی روزہ پونے دو کلو گندم یا اس کا آٹا یا اس کی موجودہ قیمت کسی ایسے مسلمان فقیر کو، جو سید یا ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو، ادا کر دیں تو فدیہ ادا ہو جائے گا۔
2: میراث کا شرعی حساب (سہام کی تقسیم):
مرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو تو سب سے پہلے ترکے سے اس کی ادائیگی کی جائے گی، اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو ادائے قرض کے بعد بقیہ ترکے کے ایک تہائی (1/3) سے اسے نافذ کیا جائے گا ۔ اس کے بعد مرحوم کا تمام ترکہ 144 حصوں (سہام) میں تقسیم ہوگا ، جس میں سے بیوہ (والدہ) کو 18 حصے، جو کہ کل ترکے کا 12.50000%ہے ۔
ہر ایک بیٹے (کل 5 بیٹے) 14، 14 حصے، جو کہ کل ترکے کا 9.7222%(پانچوں بیٹوں کے مجموعی 70 حصے) بنتا ہے ۔
ہر ایک بیٹی (کل 8 بیٹیاں)کو 7، 7 حصے، جو کہ کل ترکے کا 4.8611% بنتا ہے (آٹھوں بیٹیوں کے مجموعی 56 حصے) ۔
میت کے کل ترکہ میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاء کو ان کے حصے دیئے جائیں گے:
مورثِ اعلیٰ کا چارٹ – کل ترکہ: 144عددی حصے
|
نمبر شمار |
ورثاء14 |
عددی حصے144 |
فیصدی حصے 100 |
|
1 |
بیوہ |
18 |
12.5% |
|
2 |
بیٹا |
14 |
9.7222% |
|
3 |
بیٹا |
14 |
9.7222% |
|
4 |
بیٹا |
14 |
9.7222% |
|
5 |
بیٹا |
14 |
9.7222% |
|
6 |
بیٹا |
14 |
9.7222% |
|
7 |
بیٹی |
7 |
4.8611% |
|
8 |
بیٹی |
7 |
4.8611% |
|
9 |
بیٹی |
7 |
4.8611% |
|
10 |
بیٹی |
7 |
4.8611% |
|
11 |
بیٹی |
7 |
4.8611% |
|
12 |
بیٹی |
7 |
4.8611% |
|
13 |
بیٹی |
7 |
4.8611% |
|
14 |
بیٹی |
7 |
4.8611% |
3:واضح رہے کہ والدِ مرحوم کے انتقال پر ان کا چھوڑا ہوا تمام ترکہ خود بخود تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت (شرکتِ املاک) بن چکا ہے۔لہٰذا فی الوقت تمام جائیدادوں، دکانوں اور اراضی میں تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے ان کے شرعی سہام اور ملکیت کا قانونی و شرعی تعین کر لینا بھی درست ہے۔اور اگر بھائی دکانیں یا دیگر جائیدادیں اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تو دکانوں وغیرہ کی موجودہ مارکیٹ قیمت (بازاری قیمت) کا تخمینہ لگوایا جائے، اور بہنوں کی باہمی رضامندی سے ان کے حصوں کی قیمت طے کر کے بھائی آہستہ آہستہ یا اقساط میں بہنوں کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کرتے رہیں، یہ بھی درست ہے۔
4:جب تک جائیدادیں فروخت نہیں ہوتیں یا باقاعدہ تقسیم نہیں ہو جاتیں، 17 دکانوں سے حاصل ہونے والا ماہانہ کرایہ تمام ورثاء کے درمیان ان کے شرعی سہام کے مطابق (بیوہ 18/144، ہر بیٹا 14/144، اور ہر بیٹی 7/144) تقسیم کرنا شرعاً لازم ہے، الا یہ کہ تمام ورثاء اپنی خوشی سے اس بات کی اجازت دیں کہ اس کرایہ کو کسی کام میں استعمال کیا جائے۔
5:رہائشی مکان میں بھی تمام ورثاء (بیوہ، 5 بیٹے اور 8 بیٹیاں) اپنے شرعی سہام کے مطابق حصہ دار ہیں۔
لہٰذا اگر تمام شادی شدہ بہنیں اور غیر مقیم بھائی خوش دلی سے والدہ، زید، دیگر غیر شادی شدہ بہنوں اور بھائیوں کو اس گھر میں بغیر کرایے کے رہنے کی اجازت دیں تو یہ حسنِ سلوک ہے۔ اور اس صورت میں مقیم افراد پر کوئی کرایہ عائد نہیں ہوگا، اور بعد میں جب وسعت حاصل ہو یا گھر فروخت ہو تو اس وقت تمام ورثاء کو ان کے شرعی حصے کے مطابق قیمت ادا کر دی جائے گی۔البتہ اگر کوئی وارث (مثلاً شادی شدہ بہنیں) رضامند نہ ہو اور اپنے حصے کے کرایے کا مطالبہ کرے تو پھر ان کے حصے کے بقدر مناسب کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ یا اگر سب ورثاء رہنے والوں پر کرایہ مقرر کر دیں تو ان پر پورے گھر کا کرایہ مقرر نہیں کیا جائے گا، بلکہ نہ رہنے والوں کے حصوں کے بقدر کرایہ دینا ہوگا، الا یہ کہ رہائشی ورثاء اس پر راضی ہوں۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (1/ 107):
«ثم إذا سقطت عنه الصلاة بحكم
العجز فإن مات من ذلك المرض لقي الله تعالى ولا شيء عليه؛ لأنه لم يدرك وقت القضاء.
وأما إذا برئ أو صح فإن كان المتروك صلاة يوم وليلة أو أقل فعليه القضاء بالإجماع، وإن كان أكثر من ذلك فقال بعض مشايخنا: يلزمه القضاء أيضا؛ لأن ذلك لا يعجزه عن فهم الخطاب فوجبت عليه الصلاة فيؤاخذ بقضائها، بخلاف الإغماء؛ لأنه يعجزه عن فهم الخطاب فيمنع الوجوب عليه، والصحيح أنه لا يلزمه القضاء؛ لأن الفوائت دخلت في حد التكرار، وقد فاتت لا بتضييعه القدرة بقصده، فلو وجب عليه قضاؤها لوقع في الحرج، وبه تبين أن الحال لا يختلف بين العلم أو الجهل؛ لأن معنى الحرج لا يختلف، ولهذا سقطت عن الحائض وإن لم يكن الحيض يعجزها عن فهم الخطاب، وعلى هذا إذا أغمي عليه يوما وليلة أو أقل ثم أفاق قضى ما فاته، وإن كان أكثر من يوم وليلة لا قضاء عليه عندنا استحسانا»
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ .........وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ ربیع الثانی /8144
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


