| 92334 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھانے پینے کے مسائل |
سوال
ہمارے ملک میں تیار ہونے والی بعض اشیاء غیر معیاری اور کم پائیدار ہوتی ہیں، اس لیے عوام و خواص بعض اوقات اسرائیلی، امریکی اور یورپی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کسی غیر ملکی، اسرائیلی یا ان سے متعلق کمپنی کی تیار کردہ اشیاء کا مقامی طور پر معیاری اور قابلِ استعمال متبادل وافر مقدار میں دستیاب نہ ہو، اور لوگوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان اشیاء کے استعمال کی حاجت ہو، تو ایسی صورت میں بقدرِ ضرورت ان کا استعمال جائز ہوگا۔ اسی طرح اگر ملکی مصنوعات موجود تو ہوں، لیکن معیار، پائیداری یا ضرورت پوری کرنے کے اعتبار سے قابلِ اعتماد متبادل دستیاب نہ ہو، تو محض اس وجہ سے کہ وہ چیز غیر ملکی کمپنی کی تیار کردہ ہے، اس کے استعمال کو مطلقاً ناجائز نہیں کہا جائے گا۔
البتہ جہاں مناسب اور معیاری ملکی متبادل دستیاب ہو، وہاں بلا ضرورت غیر مسلموں، خصوصاً ان کمپنیوں کی مصنوعات خریدنے سے اجتناب کرنا چاہیے جن کے بائیکاٹ کی شرعی وجہ معتبر طور پر ثابت ہو؛ کیونکہ مسلمانوں کو حتی الامکان اپنے باہمی معاملات اور ملکی مصنوعات کو ترجیح دینی چاہیے۔
موجودہ جنگی حالات میں، جبکہ فلسطینی مسلمان بھائیوں پر شدید مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، اگر کسی کمپنی کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ اسرائیلی کمپنی ہے یا اسرائیل کے مفادات کی حمایت و تقویت میں شریک ہے، تو ایسی کمپنیوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا ضروری ہے ، اور اپنے معاشی وسائل کو ان کمپنیوں کی حمایت سے بچانا چاہیے جو ظلم و جارحیت کی تقویت کا ذریعہ بن رہی ہوں۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر للسيوطي (ص: 60):
"قاعدة: الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على التحريم."
جواہر الفقہ (362/355/5):
"بلا ضرورت مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات نہ کیے جائیں.. روایاتِ حدیث و فقہ کے دیکھنے اور حالاتِ موجودہ پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوا کہ اس وقت باوجود اباحت فی نفسہا کے مسلمانوں کے لیے اپنی دکانیں چھوڑ کر غیر مسلموں سے سامان خریدنا ہرگز جائز نہیں"۔
محمدحمزہ بن غلام مصطفی
دار الاِفتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۶/ربیع الثانی/۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ بن غلام مصطفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


