| 92473 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
اگر کوئی شخص کہےکہ میں نے دکان کرائے پر لی ہے، آپ دکان کے مالک کو میری طرف سے ایڈوانس/کرایہ ادا کر دیں اور میں آپ کو یہ رقم ماہانہ اقساط میں واپس کر دوں گا،اب اگر میں دکان کے مالک کو براہ راست رقم ادا کردوں،کیا مذکورہ رقم کو اقساط کی صورت میں 40 فیصد اضافے کے ساتھ میرے لیے وصول کرنا شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں ،البتہ اس کامتبادل یہ ہےکہ پہلے آپ خود دکان کو ایک طے شدہ اجرت پر لیں، پھر مالک کی اجازت سے آپ اس دکان میں کوئی اصلاح یا قابل قدر اضافہ یعنی رنگ یا کوئی مرمت وغیرہ کا کام کریں ،پھر آپ ضرورت مند شخص کو پہلی اجرت سے زیادہ اجرت پردیں ، اگر کوئی قابل قدر اضافہ ، یعنی تعمیر وغیرہ کیے بغیر پہلی والی اجرت سے زیادہ پر دے دی تو اجارہ تودرست ہوگا ، لیکن اضا فی رقم فقراء پر صدقہ کرنا واجب ہوگا ۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 605):
(المادة 528) كما أنه يصح لمن استأجر دارا بدون بيان كونها لأي شيء أن يسكنها بنفسه كذلك يصح له أن يسكنها غيره أيضا …لمن استأجر دارا على الوجه المار في المادة السالفة بدون بيان كونها لأي شيء أن يستعملها على الإطلاق، أي أولا له أن يسكنها بنفسه، ثانيا أن يسكنها غيره على سبيل الإجارة أو الإعارة .
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 425):
وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتدا أو حفر فيها بئرا أو طينا أو أصلح أبوابها أو شيئا من حوائطها طابت له الزيادة.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


