| 91674 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
تین افراد مل کر شراکت (مشارکہ) کے اصول پر ایک دکان چلا رہے ہیں، ان تینوں میں سے ایک شریک (Partner) نے دکان کا تمام تر انتظام، دیکھ بھال اور فیصلے کرنے کا مکمل اختیار باقی دو شرکاء (پارٹنرز) کو دے دیا ہے، کیا اس شریک کے مکمل اختیار دے دینے کے بعد باقی دو شرکاء کا دکان سے متعلق کوئی بھی تجارتی کام، خرید و فروخت یا فیصلہ اس کی غیر موجودگی يا بغیر مشورے کے کرنا شرعاً درست ہوگا؟ نیزکیا مکمل اختیار دینے سے وہ دو شرکاء شرعاً اس کے "وکیل مطلق" بن جاتے ہیں؟ اور کیا ایسے فیصلوں سے جن میں مالی نقصان یا بڑا خطرہ ہو، مشورہ نہ کرنا اس تیسرے شریک کے حق میں جائز ہوگا؟شراکت داری کو شرعی اصولوں کے مطابق محفوظ اور شفاف رکھنے کے لیے ان دو شرکاء کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ بعد میں کسی نزاع، بدگمانی یا شرعی خرابی کا اندیشہ نہ رہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر ایک شریک نے دیگر دو شرکاء کو کاروبار میں کام کرنے کا مکمل اختیار دیا ہے تو اس صورت میں یہ دونوں شرکاء اس کی طرف سے کاروبار چلانے کے وکیل ہوں گے، لیکن فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ کسی بھی کام میں وکالت کا معاملہ اس کام کے عرف کے ساتھ مقید ہوتا ہے، یعنی موکل کی طرف سے خاموشی کے باوجود وکیل اس کام کو عرف کے مطابق ہی کام کرنے کا پابند ہوتا ہے، لہذا مذکورہ صورت یہ دونوں شرکاء کاروباری عرف کے مطابق ہی کاروبار چلانے کے پابند ہوں گے اور ان کے لیے کوئی بھی ایسا کام کرنا جائز نہیں ہو گا جو کاروباری عرف کےخلاف ہو یا اس میں نقصان کا غالب اندیشہ ہو۔
باقی ان کے لیے کاروباری حدود میں رہتے ہوئے تیسرےشریک کی عدم موجودگی میں کوئی بھی تجارتی کام کرنا، کوئی چیز کرایہ پرلینا، کسی سے کوئی چیز ادھار پر خریدنا یا اس کو بیچنا سب جائز ہے، البتہ اگر کاروباری حوالے سے کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہو، جیسے دکان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا یا کوئی اور کاروبار شروع کرنا وغیرہ تو ایسی صورت میں تیسرے شریک کو بھی اس میں شریک کرنا چاہیے، اسی طرح کاروبار کو امانت داری کے ساتھ چلانے اور محنت کے ساتھ اس کوآگے بڑھانے کی کوشش کی جائے، تاکہ فریقین کے درمیان اعتماد کی فضاقائم رہے اوردرمیان میں کسی قسم کا جھگڑا اور نزاع پیدا ہو۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 291) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة (1498) للوكيل المطلق بالبيع أن يبيع مال موكله نقدا أو نسيئة لمدة معروفة بين التجار في حق ذلك المال وليس له أن يبيعه لمدة طويلة مخالفة للعرف والعادة وأيضا إن كان قد وكل بالبيع بالنقد صراحة أو دلالة فليس له أن يبيع نسيئة. مثلا لو قال: الموكل: بع هذا المال نقدا أو بع مالي هذا وأد ديني فليس للوكيل أن يبيع ذلك المال بالنسيئة.
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2997) الناشر: دار الفكر - سوريَّة – دمشق:
الوكالة بأجر: تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات، ويجعل لهم عمولة. فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير، أي أنه يلزم الوكيل بتنفيذ العمل، وليس له التخلي عنه بدون عذر يبيح له ذلك، وإذا لم يذكر الأجر صراحة حكم العرف: فإن كانت مأجورة عادة كتوكيل المحامين وسماسرة البيع والشراء، لزم أجر المثل، ويدفعه أحد العاقدين بحسب العرف. وإن كانت غير مأجورة عرفاً، كانت مجاناً، أو تبرعاً، عملاً بالأصل في الوكالات: وهو أن تكون بغير أجر على سبيل التعاون في الخير. وهذا النوع لا يلزم فيه المضي في العمل، بل للوكيل التخلي عنه في أي وقت. وهذا مذهب الحنفية والمالكية والحنابلة. وقال الشافعية: الوكالة ولو بجُعل جائزة أي غير لازمة من الجانبين.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
25/صفرالخیر1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


