| 92360 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
سوال 1: اگر میں میزان بینک کے حصص (شیئرز) خریدوں، پھر انہیں زیادہ قیمت پر بیچ کر کیپٹل گین استعمال کروں، اور اسی طرح اس کا ڈیوڈنڈ بھی استعمال کروں، تو کیا یہ میرے لیے مکمل طور پر حلال ہے؟ کیا مجھے ڈیوڈنڈ یا کیپٹل گین میں سے کوئی رقم تطہیر یا صدقے کے طور پر نکالنی ہوگی؟
سوال 2: اگر میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کسی ایسی کمپنی کے حصص خریدوں جو شریعت کے مطابق (شریعہ کمپلائنٹ) قرار دی گئی ہو، لیکن کمپنی نے کچھ سود پر مبنی قرض حاصل کیا ہو یا اس کی کچھ آمدنی غیر شرعی ہو، تو جب میں اس کے حصص بیچ کر کیپٹل گین حاصل کروں تو کیا اس منافع میں سے بھی غیر شرعی رقم نکالنا ضروری ہے؟ مثال کے طور پر میں نے 50 روپے میں شیئر خریدا اور 150 روپے میں بیچا، تو 100 روپے کے منافع میں سے کیا کوئی مخصوص فیصد رقم نکالنی ہوگی؟
سوال 3: ایسی شریعت کے مطابق کمپنی کا ڈیوڈنڈ وصول کرنے کی صورت میں کیا اس میں موجود غیر شرعی آمدنی کے تناسب کو صدقہ کرنا ضروری ہے؟ اگر ضروری ہے تو اس کا فیصد کیسے حساب کیا جائے؟
سوال 4: اگر شریعت کے مطابق کمپنی نے سود پر مبنی قرض لیا ہو، تو کیا شیئر ہولڈر (حصص دار) پر سالانہ اجلاس (AGM) میں جا کر اس سودی معاملے کے خلاف آواز اٹھانا یا انتظامیہ سے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرنا شرعاً ضروری ہے؟ اگر حصص دار ایسا نہ کرے تو کیا اس کے حصص یا منافع کے حلال ہونے پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
سوال 5: اگر ممکن ہو تو براہِ کرم حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے اصول و فتاویٰ کی روشنی میں ان تمام سوالات کا جواب عنایت فرما دیں، خصوصاً کیپٹل گین اور ڈیوڈنڈ کی تطہیر کے بارے میں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱:میزان بینک ایک مکمل اسلامی بینک ہے ،علماء کے زیر نگرانی کام کرتا ہے اور اس میں کوئی غیر شرعی یا سودی آمدنی شامل نہیں ہوتی۔ اس لیے میزان بینک کے شیئرز کی خرید و فروخت، اس سے حاصل ہونے والا کیپٹل گین اور اس کا ڈیویڈنڈ حلال ہے۔اس میں سے کوئی رقم بھی بطورِ تطہیر (صدقہ) نکالنا واجب نہیں ہے۔
۲: اگر کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو اور شریعہ کمپلائنس کی شرائط پوری کی گئی ہوں، تو شیئر فروخت کرنے سے حاصل ہونے والا تمام کیپٹل گین (مثال کے طور پر ۵۰ روپے میں خرید کر ۱۵۰ روپے میں بیچنے پر حاصل ہونے والا ۱۰۰ روپے نفع) حلال ہے اور اس ۱۰۰ روپے میں سے کوئی فیصد نکالنا واجب نہیں ہے لہذا کیپٹل گین میں سے کوئی رقم تطہیر یا صدقے کے طور پر نکالنا ضروری نہیں ہے۔
۳: اگر کسی شریعہ کمپلائنٹ کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو، لیکن اس کی آمدنی میں کچھ حصہ بینکوں کے سودی کھاتوں یا سودی ڈیپازٹس سے حاصل شدہ نفع کا شامل ہو، تو اس کمپنی کے ڈیویڈنڈ میں سے سودی آمدنی کے تناسب کے بقدر رقم کو بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے ۔
کمپنی کی سالانہ یا سہ ماہی انکم اسٹیٹ منٹ (Income Statement) کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کمپنی کی کل مجموعی آمدنی (Total Revenue) کا کتنا فیصد حصہ سودی ڈیپازٹس یا ناپاک ذرائع سے حاصل ہوا ہے ،مثلا اگر انکم اسٹیٹ منٹ کے مطابق کمپنی کی کل آمدنی میں ۵ فیصد حصہ سودی کھاتوں کی آمدنی کا ہے، تو شیئر ہولڈر کو وصول ہونے والے کل ڈیویڈنڈ کا ۵ فیصد حصہ بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہوگا ۔
۴: سودی قرض رکھنے والی کمپنی میں سرمایہ کاری کے جواز کے لیے شیئر ہولڈر پر لازم ہے کہ وہ کمپنی کے سودی معاملات پر اپنی ناپسندیدگی اور عدمِ رضا کا اظہار کرے ۔
سالانہ اجلاس عام (AGM) میں شرکت کر کے یا کمپنی کی انتظامیہ کو تحریری خط/ای میل بھیج کر یہ موقف ریکارڈ کرایا جائے کہ "ہم کمپنی کے سودی قرضوں اور سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۵: حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے مطابق جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت کے جواز کے لیے درجہ ذیل بنیادی شرائط ہیں:
۱:اصل کاروبار حلال ہویعنی کمپنی کا بنیادی عمل شرعاً حلال ہو ۔
۲: کمپنی کے پاس صرف نقد رقم یا دیون نہ ہوں، بلکہ کچھ جامد اثاثے (زمین، بلڈنگ، مشینری) موجود ہوں ۔
۳: اگر کمپنی نے سودی قرض لیا ہے یا سودی کھاتے رکھے ہیں، تو AGM یا تحریر کے ذریعے اس کے خلاف عدمِ رضا کا اظہار کیا جائے ۔
۴: ڈیویڈنڈ میں سے سودی آمدنی کا متناسب حصہ بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیا جائے ۔
۵: کیپٹل گین کی صورت میں اگر شیئر کا واقعی شرعی قبضہ CDC ڈلیوری/سیٹلمنٹ حاصل کرنے کے بعد بیچا گیا ہو،تو حاصل ہونے والا کیپٹل گین حلال ہے اور اس کی تطہیر کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية (3/ 212):
"رجل اشترى أمة بيعا فاسدا وقبضها فباعها ثم قضى عليه القاضي بالقيمة للبائع الأول فأداها إليه ورده البائع الأول من الثمن وفي الثمن الثاني فضل على القيمة التي أداها فإنه يتصدق بذلك الفضل"
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 183):
"والبيع الذي فيه ربا فاسد؛ لأن الربا حرام بنص الكتاب الكريم قال الله عز وجل: - {وحرم الربا} [البقرة: 275] . "
الجامع الكبير لمحمد بن الحسن (ص240):
"رجل اشترى عبدا ولم يقبضه حتى أعاره أو آجره من البائع، لم يجز،"
عابدالرحمٰن بن عیدرحمن
دارالافتا ءجامعۃالرشید ،کراچی
۲۳/ربیع الثانی/۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابدالرحمٰن بن عید رحمن | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


