| 92341 | حدود و تعزیرات کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ زنا بالجبر کی صورت میں متاثرہ عورت کو سزا دینے یا اس سے لاتعلقی اختیار کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اگر کسی عورت کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے، تو اسے سزا نہ ملنے کا حکم کس حدیث یا سند سے ثابت ہے؟
ہم نے جامعہ بنوری ٹاؤن کا ایک فتویٰ پڑھا ہے جس میں لکھا تھا کہ شرعی لحاظ سے زنا بالجبر میں متاثرہ عورت نہ تو گنہگار ہے اور نہ ہی کسی سزا کی حقدار۔ تاہم، وہاں ثبوت کے طور پر کوئی حدیث یا سند درج نہیں تھی۔ لہٰذا، براہِ کرم ہمیں دلائل کے ساتھ ثابت کریں کہ وہ کون سی حدیث یا سند ہے جس کی رو سے ایسی عورت کو شرعاً کوئی سزا نہیں دی جاتی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ زنا ایک گناہِ کبیرہ ہے اور اسی لیے قرآنِ کریم میں زانی اور زانیہ کی سزا سو کوڑے مقرر کی گئی ہے۔
تاہم، پوچھی گئی صورت کے مطابق، اگر کسی عورت کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے اور وہ آخر تک اس فعل پر راضی نہ ہو، تو شرعی لحاظ سے اس پر کوئی گناہ اور سزا نہیں ہے۔ چونکہ اس کے ساتھ یہ معاملہ زبردستی کیا گیا ہے، اس لیے وہ مظلوم ہے اور اس سے لاتعلقی اختیار کرنا، اسے طعنے دینا یا مجرم سمجھنا شریعت کے سراسر خلاف ہے۔
اس حوالے سے احادیث کی مستند ترین کتاب ”صحیح البخاری“ میں واضح اور قطعی دلائل موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسی عورت کو قطعا کوئی سزا نہیں دی جائے گی:
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں اس مسئلے کو صراحت کے ساتھ بیان کرنے کے لیے باقاعدہ ایک عنوان قائم کیا ہے، جس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جب عورت کو زنا پر مجبور کیا جائے یعنی اس کے ساتھ زبردستی کی جائے تو اس پر کوئی سزا نافذ نہیں ہوتی۔ اس بات کی دلیل کے طور پر انہوں نے قرآنِ مجید کی ایک آیت مبارکہ کا حوالہ دیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی کو کسی کام پر مجبور کر دیا جائے، تو بے شک اللہ تعالیٰ اس مجبوری کے بعد بہت بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
مزید برآں، صحیح البخاری میں خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک عملی اور تاریخی فیصلہ بھی منقول ہے جو اس اصول کی مکمل تائید کرتا ہے۔ روایت کے مطابق، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک غلام نے ایک لونڈی کے ساتھ زبردستی زیادتی کر کے اس کی پاکدامنی کو نقصان پہنچایا۔ جب یہ معاملہ عدالت میں پیش ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زیادتی کرنے والے اس مرد کو حد کے طور پر کوڑے لگائے اور اسے جلاوطن کر دیا، لیکن اس لونڈی کو بالکل کوئی سزا نہیں دی کیونکہ مرد نے اس کے ساتھ زبردستی کی تھی۔
لہٰذا، ان قطعی دلائل کی روشنی میں یہ بات مکمل طور پر ثابت ہے کہ زنا بالجبر کا شکار ہونے والی عورت شرعاً بے گناہ اور مظلوم ہے۔ تمام تر سزا کا اطلاق صرف اور صرف زیادتی کرنے والے درندہ صفت مجرم پر ہوگا۔
حوالہ جات
«صحيح البخاري» (9/ 62):
« باب إذا استكرهت المرأة على الزنا
فلا حد عليها في قوله تعالى: {ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم}.
«صحيح البخاري» (9/ 63):
• [6955] وقال الليث، حدثني نافع أن صفية ابنة أبي عبيد، أخبرته أن عبدا من رقيق الإمارة وقع على وليدة من الخمس، فاستكرهها حتى اقتضها، فجلده عمر الحد ونفاه، ولم يجلد الوليدة؛ من أجل أنه استكرهها. قال الزهري في الأمة البكر يفترعها الحر: يقيم ذلك الحكم من الأمة العذراء بقدر قيمتها ويجلد، وليس في الأمة الثيب في قضاء الأئمة غرم، ولكن عليه الحد.
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22 /ربیع الثا نی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


