| 92070 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
بندہ محمد عثمان کی ایک بیکری تھی ، جس میں اس کا بیٹا عمران بھی دیگر کئی ملازمین کی طرح کام کرتا تھا۔بندہ ہی اس بیکری کا واحد اور کلی مالک تھا۔ پھر ہم نے اسی بیکری کی آمدنی سے 2006 میں معمار میں ایک پلاٹ لیا اور اسے کچھ قانونی مسائل کی وجہ سے قانونی کارروائی میں عمران کے نام منتقل کیا ، بعد ازاں اسی پلاٹ میں مکان بھی تعمیر کیا جس میں اب ہم رہائش پذیر ہیں ۔ 2012 میں کسی حادثے میں عمران کا انتقال ہوگیا ۔ بعد میں اس مکان سے متصل دکانوں کی تعمیر سے ہمیں رہائشی پلاٹ پر کمرشل (تجارتی) تعمیرات کی ممانعت کے قانون کے باعث قانونی مسائل کا سامنا بھی رہا جس پر کیس لڑا اور اب یہ مکان قانونی طور پر ہم پانچ کے نام ہے ( بندہ عثمان، زوجہ عمران ، دو پوتے اور ایک پوتی جوکہ عمران کی اولاد ہیں ) ۔ اب میرا ایک پوتا ہے جس کا رویہ بھی بعض دفعہ میرے ساتھ ناروا رہتا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ یہ مکان تو ہمارا ہے چونکہ یہ ہمارے والد کے نام تھا ، آپ کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔ پوچھنا یہ تھا کہ کیا قانونی انتقال کی وجہ سے اس پلاٹ و مکان کی ملکیت حقیقت میں عمران کو منتقل ہوجاتی ہے جبکہ میرا کوئی ایسا ارادہ بھی نہ تھا محض قانونی مسائل کی وجہ سے عمران کے نام منتقل کیا تھا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی و فقہی نکتہ نظر کے مطابق محض قانونی و کاغذی کارروائی کے تحت کسی کے نام جائیداد منتقل کرنے سے وہ شخص اس کا مالک نہیں بن جاتا، جب تک کہ مالک کا واقعی اسے ہبہ (گفٹ) کرنے کا ارادہ نہ ہو، اور ہبہ بھی ایسا کہ دوسرے شخص کو اس چیز یا جائیداد کا مکمل و کامل قبضہ دے اور خود اس سے کلی طور پر لاتعلق ہو جائے ( یاد رہے کہ قبضہ قانونی انتقال کا نام نہیں) ۔
چونکہ آپ نے یہ پلاٹ اور مکان اپنی ذاتی کمائی سے خریدا، اور آپ کا ارادہ اسے یہ مکان تحفے میں دینے کا نہیں بلکہ صرف قانونی مجبوری کے تحت نام منتقل کرنے کا تھا، اس لیے یہ پلاٹ و مکان اصل ملکیت آپ (محمد عثمان) ہی کی ہے۔آپ کے بیٹے عمران یا ان کی اولاد کا اس مکان پر بطورِ مالک کوئی حق نہیں ہے۔آپ کے پوتے کا یہ دعویٰ شرعی اور اخلاقی طور پر غلط اور باطل ہے۔
حوالہ جات
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (2/ 396):
«تنعقد الهبة والهدية والصدقة بالإيجاب والقبول وتتم بقبض الهبة والهدية والصدقة قبضا كاملا أي بقبض الموهوب له أو نائبه ومعنى تتم أي يفيد الملكية، فعلى هذا الوجه يكون الإيجاب والقبول هما ركن الهبة والصدقة والهدية كما أن الإيجاب والقبول هما ركن البيع والإجارة والعقود الأخرى»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 376):
«ولو قال: أغرسه باسم ابني لا يكون هبة، كذا في فتاوى قاضي خان. قال الأب: جميع ما هو حقي وملكي فهو ملك لولدي هذا الصغير فهذا كرامة لا تمليك بخلاف ما لو عينه، فقال: حانوتي الذي أملكه أو داري لابني الصغير فهو هبة وتتم بكونها في يد الأب، كذا في القنية.»
عبدالغفار بن غلام اکبر
دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی
23/ربیع الثانی/1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


