| 92254 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
عرض یہ ہے کہ بندے کے جاننے والے ایک گھر میں بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک عورت ہے، اس کے پانچ بچے ہیں، اور اس کا شوہر کئی مرتبہ مختلف جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے، حتیٰ کہ تھانے بھی جا چکا ہے۔ جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے، ان میں نشہ بھی شامل ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس مرد کی دو سگی بہنیں ہیں۔ ان کی والدہ وفات پا چکی ہیں، جبکہ والد حیات ہیں۔ اب معاملہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنی بیوی کے سامنے پورنوگرافی دیکھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی ایسی حرکات کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ شوہر کی دو سگی بہنیں ہیں۔ ان میں سے بڑی بہن (جو 24 سے 26 سال کی ہے)،ان کو مرگی کے دورے بھی آتے ہیں ۔
حد درجہ افسوس اور سنگین صورتِ حال یہ ہے کہ اس بیمارلڑکی کا باقاعدہ جنسی استحصال کیا جا رہا ہے، اور اس کا استحصال کرنے والے باہر کے یا محلے کے افراد نہیں، بلکہ اس کے اپنے گھر کے افراد ہیں،یعنی اس کا والد، اس کا بھائی اور اس کا چچا زاد بھائی ۔ جو اس گھناؤنے عمل میں شریک ہیں۔
وہ عورت یہ بات کسی کو بتا نہیں سکتی، کیونکہ اس کے پاس کوئی ثبوت یا گواہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اس معاملے کی گواہ ہے کہ اس کم ذہن اور بیمار لڑکی کے ساتھ اس کا باپ ملوث تھا۔
اب تو معاملہ یہاں تک جا پہنچا ہے کہ اب وہ شخص اپنی بہن سے تجاوز کرنے کے بعد اپنی بیٹیوں تک بھی پہنچ چکا ہے، اور ان کے ساتھ بھی نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔لہٰذا اس صورتِ حال میں شریعتِ مطہرہ اور قانونِ پاکستان کی روشنی میں کیا حکم ہے؟
نوٹ: سائل سے تنقیح پر معلوم ہوا کہ شوہر نے بیٹی کو چھونے کی کوشش کے بارے میں شک ہوا ہے یقینی طور پر معلوم نہیں کہ کس نیت سے اپنی بیٹی کو سر پر بوسہ دیاہے، شفقت سے یا شہوت سے؟اور اسی طرح شوہر کی مریضہ بہن کو ابھی بھی ان کے باپ سے اس کا جنسی استحصا ل کاخطرہ ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کسی غیر محرم کے ستر یا فحش مناظر کو دیکھنا شرعاً حرام اور ملعون ترین عمل ہے۔ شوہر کا خود ایسا مواد دیکھنااور اپنی بیوی کو ایسی ناپاک حرکات پر مجبور کرنا حرام ہے۔ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق (چاہے شوہر ہی کیوں نہ ہو) کی اطاعت جائز نہیں۔ لہٰذا بیوی پر لازم ہے کہ وہ شوہر کی ایسی ناجائز خواہشات کا بائیکاٹ کرے اور ان میں ہرگز اس کا ساتھ نہ دے۔
شریعت میں محارم ( ایسے رشتہ دار جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے،جیسے ماں ،بہن، بیٹی وغیرہ ) کے ساتھ زنا یا کسی بھی قسم کا جنسی استحصال و نازیبا حرکت کرنا بد ترین گناہ اور اکبر الکبائر (سب سے بڑے گناہوں) میں سےہے۔محارم کے ساتھ زنا کی حرمت و قباحت عام اجنبیہ عورت کے ساتھ زنا کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور قبیح ترین عمل ہے۔
شریعت میں محارم کے ساتھ زنا کرنے والےپر حد زنا لازم ہے،لیکن اس کے نفاذ کا اختیار صرف حکومت اور عدلیہ کو ہے۔اگر کسی سے یہ فعل سر زد ہوجائے تو مسلمانوں پر لازم ہےکہ وہ کہ زجرا و توبیخا ایسے شخص سے تعلقات اسلامیہ (دعا ، سلام کلام، میل جول وغیرہ ترک کر دیں اور جب تک وہ توبہ نہ کرے اوراس کی توبہ کا خلوص قرائن سے معلوم نہ ہو جائے یا حکومت و عدلیہ اس پرسزاء نافذ نہ کر دے، اس وقت تک اس سے تعلقات بحال نہ کیے جائیں۔(خلاصہ از کفایت المفتی:2/178)
بیمار و لاچار بہن پر جنسی زبردستی/استحصال کرنا انتہائی سنگین جرم او رحرام کام ہے۔ اس مظلومہ عورت کا دفاع کرنا اور اس کی آبرو کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا شرعاً واجب ہے۔نیز، جو بھی شخص اس ظلم کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس پر واجب ہے کہ وہ حتی الامکان مظلوم کو ظالم کے ظلم سے بچائے۔
ظالم شخص کے مظالم کو دور کرنے کے لیے اس کی شکایت حکام یا بااختیار افراد سے کرنا جائز، بلکہ نہی عن المنکر اور ظلم سے روکنے کی خاطر واجب ہے، اور یہ غیبت میں شمار نہیں ہوتا۔اسی طرح اس مظلوم عورت کا اپنے اوپر سے ظلم ہٹانے کے لیے حاکم سے شکایت کرنا اور صاحبِ قدرت سے مدد چاہنا شرعاً جائز ہے۔
جب شوہر کی طرف سے بیٹیوں اور اس کی مریضہ بہن کی عفت و آبرو کو شدید خطرہ لاحق ہو، تو سب سے پہلے گھر کے اندر ہی ان کی مکمل حفاظت کا تدبیری انتظام کیا جائے۔ مثلاً: ان کے لیے الگ اور محفوظ ترین کمرے ہوں، جہاں نگران کی عدم موجودگی میں والد کو جانے نہ دیا جائے، اور خاص طور پر رات کو دروازے اندر سے مضبوطی سے لاک رہیں جن کی چابیاں ماں، دادی یا کسی ذمہ دار فرد کے پاس ہوں۔
بچیوں اور بیمار بہن کو دن یا رات کسی بھی وقت اس شخص کے ساتھ اکیلا نہ چھوڑا جائے، اوراگرکسی وقت گھر میں بڑے نہ ہوں تو وہ کسی بااعتماد پڑوسی یا رشتہ دار (نانی، خالہ) کے ہاں چلی جائیں۔نیز، گھر کے دیگر بالغ افراد (مثلاً بڑے بھائی) کو باخبر کر کے اس شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔ بچیوں کو ہدایت ہو کہ کسی بھی زبردستی پر فوراً شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کریں۔ ممکن ہو تو موبائل ریکارڈنگ یا خفیہ کیمرے سے ثبوت بنا کر اسے ڈرایا جائے، اور بالغ بچیوں کی جلد مناسب جگہ شادی کی کوشش کی جائے تاکہ وہ اس ماحول سے مستقل محفوظ ہو سکیں۔
درج بالا تمام تراحتیاطی تدابیر کے باوجود بھی اگر گھر کے اندر بیٹیوں اور بہن کی عزت و آبرو محفوظ نہ رہے اور خطرہ بدستور برقرار ہو، تو ان کو فوراً اس گھر سے نکال کر کسی محفوظ جگہ( مثلاً کسی بااعتماد دار الامان، ویمن شیلٹر یا میکے)منتقل کر دیا جائے، تاکہ بچیاں کسی بھی مزید ناگہانی خطرے یا بدکاری کا شکار ہونے سے مکمل طور پر محفوظ رہ سکیں۔
متاثرہ لڑکی کا قانونی تحفظ:
متاثرہ لڑکی پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو فورا مطلع کرے۔پاکستان کے قانون (PPC Section 376, 377A اور Child Protection Laws) کے تحت محارم سے زنا، بچوں پر جنسی تشدد اور جنسی ہراسانی سنگین قابلِ دست اندازیِ پولیس جرائم ہیں۔ گواہ نہ ہونے کے باوجود بھی عورت اور دیگر ذرائع سے پولیس کے "ویمن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن سیل" (Women & Child Protection Cell) یا چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو خفیہ شکایت درج کرائی جا سکتی ہے، جو کہ قانونی طور پر معائنہ، میڈیکل ٹیسٹ اور خفیہ نگرانی کے ذریعے ثبوت اکٹھے کرنے کے پابند ہیں۔
اگرقریبی تھانے جانے کی صورت میں پولیس یا اپنے رشتہ داروں کی طرف سے خطرہ ہو، یا اسے خدشہ ہو کہ تھانے جانے سے اس کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے، تو وہ 1099 پر کال کرکے قانونی رہنمائی اور دستیاب معاونت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہے۔ 1099 وزارتِ انسانی حقوق کی Legal Aid Helpline (قانونی معاونت کی ہیلپ لائن) ہے۔ ضرورت کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن بیورو یا پولیس کے Women & Child Protection Cell (خواتین و بچوں کے تحفظ کے شعبہ) سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر اس عورت کو اپنی بیٹوں کی عزت و آبرو کا بھی خدشہ ہوتو پاکستان کے قانون، بالخصوص Pakistan Penal Code (PPC) کی متعلقہ دفعات اور Child Protection Laws (بچوں کے تحفظ کے قوانین) کے تحت بچوں پر جنسی زیادتی اور دیگر سنگین جنسی جرائم قابلِ گرفت جرائم ہیں۔
Anti-Rape (Investigation and Trial) Act, 2021 کی دفعہ 6 کے تحت متاثرہ شخص کو Legal Assistance (قانونی معاونت) فراہم کرنے کا انتظام ہے۔ دفعہ 8 میں Victim and Witness Protection (متاثرہ شخص اور گواہ کا تحفظ) کے تحت مختلف حفاظتی اقدامات کا ذکر ہے، جن میں Special Security Arrangements (خصوصی حفاظتی انتظامات)، Concealment of Identity (شناخت مخفی رکھنا)، Re-location (محفوظ دوسری جگہ منتقل کرنا) اور Safe Houses / Dar-ul-Amans (محفوظ پناہ گاہیں/دارالامان) شامل ہیں۔
اگر متاثرہ عورت کو دارالامان منتقل کیا جائے تو صرف دارالامان پہنچا دینا کافی نہیں، بلکہ وہاں اس کی عملی حفاظت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ خاص طور پر جب خطرہ والد، بھائی یا کسی بااثر رشتہ دار سے ہو تو درج ذیل ضروری انتظامات کا جائز ہ لے کر متعلقہ دارلامان تحفظ کی خاطر منتقل کیا جا سکتاہے:
1. دارالامان کا مقام اور متاثرہ عورت کی معلومات خفیہ رکھی جائیں۔
2. مبینہ ملزمان کو اس سے ملاقات یا رابطے کی اجازت نہ دی جائے۔
3. 24 گھنٹے Security (حفاظتی انتظام) اور مناسب نگرانی موجود ہو۔
4. رہائشی حصے میں غیر متعلقہ مردوں کی رسائی نہ ہو۔
5. کسی ملازم یا دوسرے رہائشی کی طرف سے بدسلوکی کی صورت میں مؤثر Complaint System (شکایتی نظام) موجود ہو۔
6. خطرہ برقرار رہنے کی صورت میں Re-location (دوسری محفوظ جگہ منتقلی) کا انتظام موجود ہو۔
7. متاثرہ عورت کو Legal, Medical and Psychological Support (قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت) تک رسائی حاصل ہو۔
حوالہ جات
(القرآن الکریم:النور،2):
"الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ." [النور: 2]
و قال تعالی فی مقام آخر"قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہُ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ․ " [الرمز:53]
و قال تعالی فی مقام آخر: "اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَآءُ "․ [النسآء:116]
(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع:122/5):
فأما عن شهوة فلا يحل لقوله - عليه الصلاة والسلام - «العينان تزنيان» وليس زنا العينين إلا النظر عن شهوة ولأن النظر عن شهوة سبب الوقوع في الحرام فيكون حراما إلا في حالة الضرورة ....وإن كان لو نظر إليها لاشتهى أو كان أكبر رأيه ذلك لأن الحرمات قد يسقط اعتبارها لمكان الضرورة ألا ترى أنه خص النظر إلى عين الفرج لمن قصد إقامة حسبة الشهادة على الزنا؟ ومعلوم أن النظر إلى الفرج في الحرمة فوق النظر إلى الوجه .
(وأما) المرأة فلا يحل لها النظر من الرجل الأجنبي ما بين السرة إلى الركبة ولا بأس أن تنظر إلى ما سوى ذلك إذا كانت تأمن على نفسها والأفضل للشاب غض البصر عن وجه الأجنبية وكذا الشابة لما فيه من خوف حدوث الشهوة والوقوع في الفتنة يؤيده المروي عن عبد الله بن مسعود - رضي الله عنهما - أنه قال في قوله تبارك وتعالى {إلا ما ظهر منها} [النور: 31] أنه الرداء والثياب فكان غض البصر وترك النظر أزكى وأطهر وذلك قوله عز وجل {قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك أزكى لهم}. [النور: 30]
(فیض القدیر شرح جامع الصغیر لعلامہ جلال الدین سیوطی :65/4):
(زنا العينين النظر) يعني أن النظر یريد الزنا ورائد الفجور والبلوى فيه أشد وأكثر ولا يكاد يقدر على الاحتراس منه وإسناد الزنا إلى العين لأن لذة النكاح في الفرج تصل إليها. قال الغزالي: ونبه به على أنه لا يصل إلى حفظ الفرج إلا بحفظ العين عن النظر وحفظ القلب عن الفكرة وحفظ البطن عن الشبهة وعن الشبع فإن هذه محركات للشهوة ومغارسها قال عيسى عليه السلام: إياكم والنظر فإنه يزرع في القلب الشهوة وكفى بها لصاحبها فتنة ثم قال الغزالي: وزنا العين من كبار الصغائر وهو يؤدي إلى الكبيرة الفاحشة وهي زنا الفرج ومن لم يقدر على غض بصره لم يقدر على حفظ دينه.
(المبسوط للسرخسی:10/149):
وحرمة الزنا بذوات المحارم أغلظ وكما لا يحل له أن يعرض نفسه للحرام لا يحل له أن يعرضها للحرام فإذا كان يخاف عليها فليجتنب ذلك ولا يحل له أن ينظر إلى ظهرها وبطنها ولا أن يمس ذلك منها.
(البناية شرح الهداية: 12/156):
وحرمة الزنا بذوات المحارم أغلظ فيجتنب) ش: أي النظر والمس عند الخوف لأنه ربما يوقعه في الزنا، والزنا بالمحرم أغلظ من الزنا بالأجنبية.
(فتاوی حقانیہ :5/509):
"کسی بھی عورت کے ساتھ زنا کرنا قطعی حرام ہےاور بیٹی تو محرمات میں سے ہےاس کے ساتھ زنا کرنا تو اور بھی سخت جرم ہےاور زنا کو حلال سمجھناموجب کفر ہے،برادری کےلوگ ایسے شخص کے ساتھ قطع تعلق کریں اور حکومت وقت اس پر حدزنا جاری کرے"
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 57):
وأما شرائط جواز إقامتها: فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام، وهذا عندنا.
(الممحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی:3/194 ):
ألا ترى أن رجلاً لو قطع الطريق على رجل ليأخذ ماله، أو ليقتله، أو أراد امرأة ليفجر بها، وقد حضر ذلك رجل يظن أن به قوة عليه أو أنه ينتصف منه، لم يسعه إلا أن يمنع المظلوم ممن يريد الظلم عليه، وإن كان مع الرجل الذي يريد أن يعينه أبواه فنهياه عن ذلك، فليس ينبغي له أن يطيعهما، ولا يسعهما أن يمنعاه إلا أن يكون به قوة عليه.
(الاختيار لتعليل المختار: 4/154):
وَالنَّظَرُ إِلَى الْعَوْرَةِ حَرَامٌ إِلَّا عِنْدَ الضَّرُورَةِ... وَقَالَ عليه الصلاة والسلام: «مَلْعُونٌ مَنَ نَظَرَ إِلَى سَوْأَةِ أَخِيه.
(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: 2/553):
ولا إثم في السعي به) أي بالظالم إلى السلطان ليزجره لأنه من باب النهي عن المنكر ومنع الظلم (ولا غيبة إلا لمعلوم فاغتياب أهل قرية ليس بغيبة) …..وفي الدرر رجل يذكر مساوئ أخيه المسلم على وجه الاهتمام لا يكون غيبة إنما الغيبة أن تذكر على وجه الغضب يريد السب.
Section 375 — Rape
(b) inserts, to any extent, any object or a part of the body, not being the penis, into the vagina, the urethra or anus of B or makes B to do so with A or any other person; or
(c) manipulates any part of the body of B to cause penetration into the vagina, urethra, anus or any part of the body of B or makes B to do so with A or any other person; or
(d) applies his mouth to the vagina, anus, urethra or penis of B or makes B to do so with A or any other person, under the circumstances falling under any of the following seven descriptions, —firstly, against B’s will.
Secondly, without B’s consent; thirdly, with B’s consent, which has been obtained by putting B or any person in whom B is interested in fear of death or of hurt.
Fourthly, with B’s consent, when A knows that A is not B’s husband and that B’s consent is given because B believes that A is another man to whom B is or believes herself to be lawfully married.
Fifthly, with B’s consent when, at the time of giving such consent, by reason of unsoundness of mind or intoxication or the administration by A personally or through another of any stupefying or unwholesome substance, B is unable to understand the nature and consequences of that to which B gives consent. Sixthly, with or without B’s consent, when B is under sixteen years of age. or seventhly, when B is unable to communicate consent.
(Section 375, Pakistan Penal Code, 1860)
Section 375A — Gang Rape
Where a person is raped by one or more persons constituting a group or acting in furtherance of a common intention, each of those persons shall be guilty of the offence of gang rape and shall be punished with death or for imprisonment for the remainder period of natural life or imprisonment for life and fine.
(Section 375A, Pakistan Penal Code, 1860)
)Section 376 — Punishment for Rape(
Whoever commits rape shall be punished with death or imprisonment of either description for a term which shall not be less than ten years or more than twenty-five years or for imprisonment for the remainder period of his natural life and shall also be liable to fine.
(Section 376(1), Pakistan Penal Code, 1860)
Section 6 — Legal Assistance
The legal aid and justice authority established under the Legal Aid and Justice Authority Act, 2020 (Act XVI of 2020) shall provide legal assistance to victims of scheduled offences.
«In addition to the legal assistance under sub-section (1), the special committee shall, in consultation with the Ministry of Human Rights, approve panels of advocates and volunteers in each district or, if necessary, in any tehsil, for the provision of legal, financial or other assistance either on pro bono or on a fee basis.»
(Section 6, Anti-Rape (Investigation and Trial) Act, 2021)
Section 8 — Victim and Witness Protection
«A victim and witness protection system may be established as prescribed in the rules notified by the Ministry of Law and Justice and shall, with a view to carrying out the purposes of this Act and without generality of the aforesaid, include the following, namely:
«(i) special security arrangements for witnesses and victims;
(ii) concealment of identity;
(iii) distance recording of testimonies through videoconferencing, audio-video links and using modern devices;
(iv) relocation of victims and witnesses;
(v) provision of reasonable financial assistance;
(vi) compensation to legal heirs of protected victims and witnesses;
(vii) safe-houses, dar-ul-amans, etc.;
(viii) such other measures as may be necessary and ancillary.
(Section 8, Anti-Rape (Investigation and Trial) Act, 2021)
فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
18/ربیع الثانی/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


