| 92519 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
نکاح میں لڑکی کا رضامندی کے بغیر "قبول ہے "کہنا
بندہ ایک اہم شرعی مسئلے میں آپ سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میری بیٹی کا نکاح سن 2019 میں ہوا تھا۔ جس میں اس کی مرضی شامل نہ تھی۔ میری بیٹی کی عمر اس وقت 16 سال ہو گی۔ میری بیوی نے اس وقت خاندان کے دباؤ میں آ کر میری بیٹی کا نکاح کر دیا تھا اپنے بھانجے کے ساتھ ۔
لڑکی سے بھی اقرار کروا لیا گیا تھا اس وقت،لیکن اب لڑکی انکار کر رہی ہے ،ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی۔ اگر ہم اب زبردستی رخصتی کر دیتے ہیں تو گھر نہیں بسے گا اور ہمیں اندیشہ ہے کہ میری بیٹی اپنے ساتھ کچھ کر نا لے، خود کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے کیوں کہ وہ لڑکے کو نا پسند کرتی ہے،ہم پچھلے 4 سال سے لڑکے اور اس کی فیملی کو منت کر کر تھک گئے ہیں لیکن وہ رشتہ ختم نہیں کر رہے ہیں ،وہ ضد پر ہے کہ ہم ختم نہیں کریں گے، لڑکا طلاق نہیں دے رہا ۔
آج تک میری بیٹی کی رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ازدواجی تعلق قائم ہوا۔اب ہم اس رشتے کو برقرار نہیں رکھنا چاہتے۔ اس وقت ہم نے اسے آزادانہ فیصلہ نہیں کرنے دیا تھا،اب ہم چاہتے ہیں کہ ابھی رخصتی نہیں ہوئی تو اس رشتے کو ختم کر لیتے ہیں۔اس صورت حال میں بظاہر ہمارے پاس عدالت کے ذریعے تنسیخ نکاح کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا، ہم نے ابھی تک عدالت سے رجوع نہیں کیا،ہم سب سے پہلے شریعت مطہرہ کی روشنی میں درست رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
براہ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں:
- کیا مذکورہ صورت حال میں شریعت کے مطابق عدالت یا کسی مجاز شرعی اتھارٹی کے ذریعے تنسیخ نکاح کروانا جائز ہے؟اگر جائز ہے تو اس کا درست شرعی طریقہ کار کیا ہے؟
- اگر عدالت کے ذریعے شرعی اصولوں کے مطابق تنسیخ نکاح ہو جائے، تو کیا اس کے بعد لڑکی کا کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا؟ کیا ایسا نکاح مکمل طور پر صحیح اور معتبر شمار ہوگا؟
ہم صرف شریعت کی روشنی میں صحیح رہنمائی چاہتے ہیں ۔
تنقیح :سائل کا کہناہے کہ لڑکی نے نکاح کے وقت نکاح نامہ پر دستخط کے ساتھ" قبول ہے ،قبول ہے "کے الفاظ بھی کہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدین پر اولاد کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ رشتہ طے کرتے وقت ان کی پسند اور رضا مندی کا لحاظ رکھیں۔ تاہم پوچھی گئی صورتِ حال کے مطابق جب لڑکی نے باقاعدہ اپنی زبان سے "قبول ہے" کے الفاظ ادا کر دیے تو شرعاً نکاح منعقد ہو چکا ہے۔ حتی الامکان نکاح کو برقرار رکھنا اور گھر بسانا مناسب ہے۔ اگر جدا کرنا ہی مناسب لگے تو لڑکے کی رضامندی سے طلاق یاخلع ہو سکتی ہے ،یکطرفہ عدالتی خلع کافی نہ ہوگی۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (3/ 21):
أن نكاح المكره صحيح كطلاقه وعتقه مما يصح مع الهزل، ولفظ المكره شامل للرجل والمرأة فمن ادعى التخصيص فعليه إثباته بالنقل الصريح.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(2/ 310):
وأما الطوع فليس بشرط لجواز النكاح عندنا خلافا للشافعي، فيجوز نكاح المكره عندنا.
المبسوط للسرخسي (6/ 173):
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 145):
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
27/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


