03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیماری کی وجہ سے پیشاب خارج ہونے پر نماز کا حکم
92536پاکی کے مسائلمعذور کے احکام

سوال

ایک شخص کو فالج کا مرض لاحق ہوا ہے،جس کی وجہ سے اس کے جسم کا ایک  طرف کام نہیں کرتا،  بیماری کی وجہ سے  اسے پیشاب پر  کنٹرول نہیں رہتا ہے،اور  کسی بھی وقت پیشاب خارج  ہوجاتا ہے۔کبھی کبھی  نماز کے دوران بھی  پیشاب خارج ہوتا ہے۔ایسی صورت میں اس  کی پاکی اور نماز پڑھنے کا کیا طریقہ ہوگا ؟دوسرا سوال  یہ ہے کہ بیماری کی وجہ سے  وضو بھی نہیں کرسکتے،تو کیا  وہ تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے؟تيسرا  سوال یہ ہے کہ بیماری کی وجہ سے   زبان  ميں لکنت ہے جس کی وجہ سے نماز میں صحیح قراءت پر قادر نہیں ہے ،تو اس کی قراءت کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1) بیان کردہ صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ مریض کو وضو کر کے نماز مکمل کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا ۔تا ہم      مزید اطمینان کے لیےایک بار  یہ تجربہ کر لیں کہ ایک بار وضو کر کے نماز پڑھائیں۔  اگر نماز کے دوران  پیشاب وغیرہ خارج نہ ہو ،تو یہ معذور نہیں ہوں گے،اور اگر نماز  کے درمیان پیشاب خارج ہوجائے، تو  دوبارہ کوشش کریں ۔اس طرح ایک نماز  کے پورے وقت  میں کوشش کر کے دیکھ لیں ۔اگر مریض کو اتنا وقت نہ ملتا ہو جس میں وضو کر کے نماز ادا  کر سکے، تو یہ شخص شرعی معذور بن جائے گا ۔ اس کے بعد اس کی نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور اس نماز کے وقت میں جتنی نمازیں پڑھ سکے    پڑھ لے۔ پیشاب کے خروج سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔  اگر اور کوئی ناقص  پایا گیا ،جیسے ہوا کا خارج ہونا یا خون کا نکل آنا ،تو اس سے وضو ٹوٹے گا ۔بدن اور کپڑے  کی صفائی  میں یہ  حکم ہے کہ اگر اسے یقین ہو کہ بدن اور کپڑے صاف کرنے کے بعد اتنا وقت مل سکتا ہے جس میں نماز پوری ادا ہو سکے گی، تو اس صورت میں بدن اور کپڑے کا صاف کرنا لازم ہے۔ اور اگر نماز   میں دوبارہ  کپڑے ناپاک ہونے  کاخطرہ  ہو تو پھر بدن اور کپڑے کا دھونا ضروری نہیں ہوگا۔

(2)اگر وہ بیماری کی وجہ سے  خود وضو نہیں کرسکتا تو دوسرا اس کو وضو کرائے، لیکن اگر وضو کی وجہ  سے  بیماری بڑھنے کا  خطرہ ہو    تو پھر وہ تیمم کرسکتا ہے  ۔

(3)بیماری کی وجہ سے اگر وہ نماز میں قراءت  صحيح نہیں کرسکتا  تو جس قدر   درست  قراءت کرنے کی قدرت ہو درست کرنے کی کوشش کرےاور نماز پڑھے تو اس کی  نماز ہوجائے گی  ۔

حوالہ جات

ملتقى الأبحر (ص84):

المستحاضة ومن به سلسل بول أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضؤن لوقت كل صلاة، ويصلون به في الوقت ما شاؤا من فرض ونفل ويبطل بخروجه فقط وقال زفر بدخوله فقط وقال أبو يوسف بأيهما كان...

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (1/ 139):

ومن به سلسل بول لا يقدر على إمساكه لضعف مثانته قيل السلسل بفتح اللام نفس الخارج وبكسرها من به هذا المرض أو استطلاق أي جريان بطن أو انفلات ريح ومن لا يملك جمع مقعدته لاسترخاء فيها أو رعاف وهو دم خارج....

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (1/ 232):

(من عجز) مبتدأ خبره تيمم (عن استعمال الماء) المطلق الكافي لطهارته لصلاة تفوت إلى خلف (لبعده)....

قوله من عجز) العجز على نوعين: عجز من حيث الصورة والمعنى، وعجز من حيث المعنى فقط، فأشار إلى الأول بقوله لبعده، وإلى الثاني بقوله أو لمرض، أفاده في البحر. وفيه عن المحيط المسافر يطأ جاريته وإن علم أنه لا يجد الماء؛ لأن التراب شرع طهورا حال عدم الماء؛ ولا تكره الجنابة حال وجوده فكذا حالة عدمه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 48):

(ولنا) قوله تعالى {وإن كنتم مرضى أو على سفر} [المائدة: 6] إلى قوله {فتيمموا صعيدا طيبا} [المائدة: 6] أباح التيمم للمريض مطلقا من غير فصل بين مرض، ومرض، إلا أن المرض الذي لا يضر معه استعمال الماء ليس بمراد فبقي المرض الذي يضر معه استعمال الماء مرادا بالنص.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(1/ 582):

وحرر الحلبي وابن الشحنة أنه بعد بذل جهده دائما حتما كالأمي، فلا يؤم إلا مثله، ولا تصح صلاته إذا أمكنه الاقتداء بمن يحسنه أو ترك جهده أو وجد قدر الفرض مما لا لثغ فيه، هذا هو الصحيح المختار في حكم الألثغ، وكذا من لا يقدر على التلفظ بحرف من الحروف أو لا يقدر على إخراج الفاء إلا بتكرار.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(1/ 582):

(قوله دائما) أي في آناء الليل وأطراف النهار، فما دام في التصحيح والتعلم ولم يقدر عليه فصلاته جائزة، وإن ترك جهده فصلاته فاسدة كما في المحيط وغيره. قال في الذخيرة وإنه مشكل عندي لأن ما كان خلقة فالعبد لا يقدر على تغييره اهـ وتمامه في شرح المنية (قوله حتما) أي بذلا حتما فهو مفروض عليه.

وسیم اکرم بن محمد ایوب

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

27  /ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب