| 92529 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک کمپنی نے کچھ گروپس بنائے ہوئے ہیں، جن میں بہت سے ری سیلرز موجود ہیں۔ کمپنی اپنی مصنوعات کی تصاویر ان گروپس میں شیئر کرتی ہے اور ان پر قیمت بھی درج ہوتی ہے، لیکن وہ اس انداز میں لکھی ہوتی ہے جسے صرف ری سیلرز ہی سمجھ سکتے ہیں، عام شخص نہیں سمجھ سکتا۔ری سیلرز کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ کمپنی کی طرف سے اس چیز کی کیا قیمت مقرر کی گئی ہے۔ کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ: "آپ نے ہماری بتائی گئی قیمت ہمیں دینی ہے، اس سے اوپر جتنا چاہیں منافع رکھیں ۔"اب ری سیلرز اس چیز کی تصویر لگا کر قیمت بڑھا کر آگے گاہکوں کو پیش کرتے ہیں۔ جب کوئی گاہک آتا ہے تو وہ اس کی تفصیلات کمپنی کو بھیج دیتے ہیں۔ کمپنی براہِ راست اس خریدار کو چیز بھیج دیتی ہے۔مثال کے طور پر: اگر کسی چیز کی اصل قیمت 28 ڈالر تھی اور ری سیلر نے اسے گاہک کو 40 ڈالر بتایا ، اور کمپنی نے وہ چیز گاہک کو بیچ دی ،تو اب 28 ڈالر کمپنی کے ہو گئے اور 5 ڈالر شپنگ کے، بقیہ بچنے والے 7 ڈالر کمپنی بعد میں ری سیلر کے اکاؤنٹ میں بھیج دیتی ہے۔سوال:کیا اس طرح تجارت کرنا شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکور صورت بھی ڈراپ شپنگ کی ایک شکل معلوم ہوتی ہے، جس میں ری سیلر دراصل کمپنی کے کمیشن ایجنٹ یا وکیل کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کا اصل کام کمپنی کے لیے گاہک تلاش کرنا ہوتا ہے، جبکہ خریدار کو سامان کی فروخت اور فراہمی کمپنی خود براہِ راست کرتی ہے۔ کمیشن ایجنٹ (وکیل) کے طور پر کام کرنے کے لیے معاہدہ کرتے وقت اجرت (کمیشن) کا پہلے سے متعین ہونا ضروری ہے؛ مثلاً یہ طے کر لیا جائے کہ میں آپ کو گاہک لا کر دوں گا اور اس کے بدلے متعین اجرت لوں گا۔ ہر پروڈکٹ پر الگ الگ اجرت مقرر کرنا ضروری نہیں، ایک دفعہ معاہدہ کرنا بھی کافی ہے۔ اجرت میں اصل یہ ہے کہ لم سم رقم کی شکل میں طے ہو، مثلا ہر پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، یا فلاں پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، فلاں پر بیس روپے ۔ اگر پروڈکٹ کی کل قیمتِ فروخت کا فیصدی حصہ (مثلا ٪10) بطورِ اجرت مقرر کریں تو یہ بھی درست ہے ۔
لہٰذا ، صورت مسئولہ میں اگر ایجنٹ کی اجرت مندرجہ بالا طریقہ پر پہلے سے مقرر نہ ہو تو یہ معاملہ فاسد ہو گا، اور اس کا حل یہ ہے کہ کمپنی اپنے کمیشن ایجیٹ کی اجرت متعین کر کے ازسر نو نیا معاہدہ کرے ۔
حوالہ جات
رد المحتار (6/ 63):
مطلب في أجرة الدلال، تتمة: قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


