| 92429 | حدود و تعزیرات کا بیان | تعزیر مالی کے احکام |
سوال
میرا تعلق جنوبی وزیرستان محسود قبیلہ سے ہے، ہمارے ہاں قبائلی جرگہ سسٹم رائج ہے، یعنی قوم کے ملکان (ذی رائے اشخاص) جمع ہو کر قبائل کو درپیش حالات کے بارے میں غور و فکر کر کے کسی ایک نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں اور جب یہ حضرات کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں، تو ہر قبیلہ اور ہر فرد پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور ہر شخص پر وہ فیصلہ لازم ہوتا ہے، بصورت دیگر انکار کرنے والے افراد یا جماعت کو اس انکار کے نتائج (برادری سے نکالے جانے یا کسی اور جرمانے کی صورت میں) بھگتنے پڑتے ہیں یا اگر کوئی زور زبردستی نہ بھی ہو، تو کم از کم کوئی شخص ویسے ہی انکار نہیں کر سکتا بلکہ ہر کوئی اس فیصلہ کو اپنے اوپر لازم جانتا ہے۔
اس تمہید کے بعد حالیہ صورت حال یہ ہے کہ ایک دو مہینے پہلے تمام قبائل کے ملکان نے کراچی میں جمع ہو کر یہ فیصلہ کیا کہ محسود قبائل میں سے کسی بھی خاتون کا حق مہر پانچ لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہو سکتا، اس فیصلہ کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے ہاں خواتین کے مہر بہت زیادہ بڑھ گئے تھے، لیکن خواتین کے مہر سے متعلق اس فیصلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے اور اسی پہلو کا شرعی حکم معلوم کرنا اس سوال کا مقصد ہے، وہ پہلو یہ ہے کہ کچھ رشتے ایسے بھی ہیں، جن کی نسبتیں (منگنی اور حق مہر کی تعیین کی صورت میں) جرگہ کے مذکورہ فیصلہ سے پہلے طے ہو چکی تھیں، لیکن نکاح اور رخصتی وغیرہ ابھی تک عمل میں نہیں آئی ہیں، جرگہ والے حضرات کا کہنا ہے کہ ہمارے مذکورہ فیصلہ کا اطلاق اس صورت پر بھی ہوگا، چنانچہ اگر کسی خاتون کا حق مہر جرگہ سے پہلے مثلاً دس لاکھ مقرر تھا، تو اس کو بھی کم کر کے پانچ لاکھ مقرر کرنا پڑے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ:
(1) مذکورہ صورت میں جب باہمی رضامندی سے مہر کی ایک مقدار مقرر ہو چکی تھی اور اب نہ لڑکی اس سے کم مہر پر راضی ہے، اور نہ ہی لڑکی کے اولیاء، تو کیا اس صورت میں شرعاً جرگہ کے مذکورہ فیصلہ کو زبردستی لڑکی والوں پر نافذ کرنا درست ہے یا نہیں؟
(2) اگر مذکورہ نکاح دس لاکھ روپے مہر پر ہی کیا جائے اور جرگہ کی مخالفت کی جائے، تو کیا شرعاً جرگہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ لڑکی کے اولیاء پر کوئی جرمانہ لگائے یا ان کو برادری سے ہی نکالے؟
وضاحتیں:
(1) واضح رہے کہ جرگہ کا مذکورہ فیصلہ جو مہر کی ایک متعین مقدار سے متعلق ہے، خوش آئند بھی ہے، کیوں کہ نکاح (جو ایک مسنون عمل ہے) مہر کی گرانی کی وجہ سے مشکل ہو گیا تھا، حتی کہ بیس اور پچیس لاکھ روپے مہر کا بھی سنا گیا ہے۔
(2) اوپر تمہید میں مذکور جرگہ کی مضبوط حیثیت اس وقت تھی، جب ہماری سرزمین پر خانہ جنگی شروع نہیں ہوئی تھی، لیکن جب سے خانہ جنگی کے نتیجے میں وہاں کے باشندوں نے ملک کے دوسرے علاقوں کا رخ کیا، اور وہیں رہنے لگے اور ایک اجتماعیت برقرار نہ رہ سکی، تو جرگہ کی حیثیت اب بہت کمزور پڑ چکی ہے، چنانچہ بارہا مشاہدہ میں آیا کہ جرگہ نے کوئی متفقہ فیصلہ کیا، لیکن کچھ مدت کے بعد اس فیصلہ کی مخالفت ہونا شروع ہو گئی اور آخر کار وہ فیصلہ ختم ہو گیا۔
(3) یاد رہے کہ ہمارے ہاں جب منگنی ہو جاتی ہے، تو اس کی حیثیت محض ایک وعدے کی نہیں ہوتی، بلکہ ایک بار نسبت طے ہونے کے بعد اس رشتے سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا، اگر کوئی انکار کرے، تو اس سے باہمی تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں، بلکہ بعض اوقات معاملہ باہمی قتل و قتال تک بھی پہنچ جاتا ہے۔
(4) منگنی میں جب مہر کی کوئی مقدار طے ہوتی ہے، تو نکاح میں بھی اسی مقدار کو لکھا جاتا ہے، ہمارے علم میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ منگنی کے وقت کوئی مقدار طے کی گئی اور پھر نکاح کے وقت دوسری مقدار، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ منگنی میں طے شدہ مہر اٹل ہوتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ جرگے کی حیثیت بذاتِ خود حاکم یا قاضی کی نہیں ہوتی کہ اسے ولایتِ عامہ حاصل ہو جس کی وجہ سے تمام لوگوں پر اس کا کیا ہوا فیصلہ قبول کرنا لازم ہو، لیکن چونکہ قبائلی جرگہ سسٹم میں برادری کے لوگ بالعموم جرگے کی بات کو اہمیت دیتے اور مانتے ہیں لہٰذا جرگے کے لیے مفادِ عامہ پر مبنی قواعد جاری کرنے کی گنجائش ہے۔ ایسے قواعد علمائے کرام سے مشورہ کر کے جاری ہونے چاہییں تاکہ ان میں کوئی شرعی خرابی پیدا نہ ہو۔
- منگنی میں اگر نکاح نہیں ہوا تو اب تک مہر کی طے شدہ رقم کی حیثیت محض ایک وعدے کی ہے۔ وعدہ عذر کی وجہ سے توڑا جاسکتا ہے، لہٰذا جرگے کے فیصلے کی رعایت کرتے ہوئے مہر بدل لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ تاہم اگر اسے بدلنے میں خاندانی مشکلات ہوں تو جرگے کو اعتماد میں لے کر استثناء بھی لیا جاسکتا ہے۔
- جرگے کے فیصلے کا مقصد نیک ہے کہ لوگ بہت زیادہ مہر کا مطالبہ ترک کر دیں تاکہ شادی کا مسئلہ آسان ہو، لہٰذا یہ ضابطہ جاری کرنا تو درست ہے اور اس کی حتی الامکان پابندی کے لیے جائز حدود میں کوشش بھی کرنی چاہیے۔ تاہم اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں سے مالی جرمانہ لینا یا انہیں برادری سے نکالنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
صحیح البخاری: (6076)
لا تباغضوا، ولا تَحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد اللَّه إخوانًا، ولا يَحِلُّ لِمُسلمٍ أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال.
صحيح مسلم (4/ 1980):
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله خلق الخلق حتى إذا فرغ منهم قامت الرحم فقالت: هذا مقام العائذ من القطيعة، قال: نعم ! أما ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك قالت بلى قال فذاك لك ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اقرؤوا إن شئتم ! "فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم أولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمى أبصارهم أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها".
ردالمحتار علی الدرالمختار: (4/ 61)
مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وسيذكر الشارح في الكفالة عن الطرسوسي أن مصادرة السلطان لأرباب الأموال لا تجوز إلا لعمال بيت المال: أي إذا كان يردها لبيت المال
البحر الرائق (5/ 44):
وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.
والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وأما التعزير بالشتم فلم أره إلا في المجتبى قال وفي شرح أبي اليسر التعزير بالشتم مشروع ولكن بعد أن لا يكون قاذفا اهـ.
كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوي: (4/ 55)
الأصل عدم الولاية لحر على حر مثله وثبوت الولاية للشخص على نفسه إذ الأصل رأيه لكن إذا عدم رأيه بالصغر أو الجنون أقيم رأي الغير مقام رأيه وانتقلت الولاية إلى الغير نظرا للمولى عليه...
زبیر احمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18 /04 /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


