| 91638 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
ایک بھائی کا کہنا ہے کہ جو بہن بھائی اس سابقہ تقسیم کو شرعاً درست سمجھتے ہیں، وہ گناہگار ہیں۔ کیا واقعی اس تقسیم کو
درست سمجھنے والے بہن بھائی گناہگارہوں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سابقہ تقسیم سے مراد والدہ کی اولین تقسیم ہے تو وہ اپنی اصل کے اعتبار سے جائز تھی، لیکن والدہ کی زندگی
برابر تقسیم نہ کرنے کی وجہ سے شرعاً نافذ نہیں ہوئی ،لیکن والدہ کی اس تقسیم کو جائز سمجھنے والے بہن بھائی گناہ گار نہیں ہوں گے۔لہذا والدہ کی وفات کے بعد اس کی تقسیم شریعت کے مقرر کردہ قانونِ میراث کے مطابق ہوگی۔
البتہ اگر مراد وہ تقسیم ہے جو بڑے بھائی نے بعض ورثاء کو حصہ دے کر بعض کو محروم رکھااور سب کو برابر حصے نہیں دیئے، تو مذکورہ صورت میں ایک بھائی کا بڑے بھائی کی تقسیم کے بارے میں یہ کہنا کہ " جو بہن بھائی اس سابقہ تقسیم(بڑے بھائی کی تقسیم ) کو شرعاً درست سمجھتے ہیں، وہ گناہگار ہیں " درست ہے، کیونکہ وراثت کے حصے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں اور کسی وارث کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنا یا مقررہ حصوں میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔
البتہ جن بہن بھائیوں نے مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ بات کی، تو ان شاء اللہ وہ کناہ گار نہیں ہوں گے، لیکن جب مسئلہ معلوم ہو گیا ، توآئندہ اس طرح کی بات سےاجتناب کرنا لازم ہے ۔
حوالہ جات
(العناية شرح الهداية 10/423)
قَالَ: (وَلَا تَجُوزُ لِوَارِثِهِ) لِقَوْلِهِ عليه الصلاة والسلام: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، أَلَا لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»... وَلِأَنَّهُ حَيْفٌ.
(روح المعانی :28/159)
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللَّہِ تَوْبَةً نَصُوحًا ․․․․ قال الآلوسی: أخرجہ ابن مردویہ عن ابن عباس قال: قال معاذ بن جبل: یا رسول اللہ ما التوبة النصوح؟ قال: أن یندم العبد علی الذنب الذی أصاب فیعتذر إلی اللہ تعالی ثم لا یعود إلیہ کما لا یعود اللبن إلی الضرع․ وقال نقلا عن الإمام النووی: التوبة ما استجمعت ثلاثة أمور: أن یقلع عن المعصیة وأن یندم علی فعلہا وأن یعزم عزما جازما علی أن لا یعود إلی مثلہا أبدا.
(سنن ابن ماجہ: 2/1419)
عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب، كمن لا ذنب له».
سنن الترمذی :4/659)
"عن أنس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «كل ابن آدم خطاء وخير الخطائين التوابون»."
فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
14/صفر المظفر/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


