| 92375 | پاکی کے مسائل | معذور کے احکام |
سوال
کیا شرعی معذور شخص، مثلاً حج یا کسی سخت مجبوری کی صورت میں، ایک وضو سے جمعِ حقیقی کر سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاً "معذور" ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کو وضو توڑنے والے اسباب میں سے کوئی سبب (مثلاً: ریح، خون یا قطرہ وغیرہ) مسلسل لاحق رہتا ہو، اور ایک نماز کے پورے وقت میں اسے اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو کہ وہ کپڑے پاک کر کے اور باوضو ہو کر وقتی فرض ادا کر سکے۔
معذور کا حکم یہ ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے وقت کے لیے نیا وضو کر لیا کرے۔ اس وضو سے وہ اس وقت کے اندر جتنے چاہے فرائض و نوافل ادا کر سکتا ہے اور تلاوتِ قرآنِ کریم کر سکتا ہے۔ اس وقت کے دوران وہ مخصوص عذر جتنی بار بھی لاحق ہو، وہ بدستور باوضو ہی شمار ہوگا (بشرطیکہ وضو توڑنے والا کوئی دوسرا سبب پیش نہ آئے)۔ جیسے ہی اس فرض نماز کا وقت ختم ہوگا، اس کا وضو بھی ختم ہو جائے گا اور اگلی نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔
لہٰذا، کسی شدید مجبوری میں بھی ایک وقتی نماز کے اندر دوسری نماز کی جمعِ حقیقی نہیں کی جا سکتی۔ البتہ حج کے دوران صرف میدانِ عرفات میں (ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت میں) اور مزدلفہ میں (مغرب اور عشاء کو عشاء کے وقت میں) جمعِ حقیقی کی اجازت ہے، اور یہ حکم معذور اور غیر معذور تمام حجاج کے لیے یکساں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 305)
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبهونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه. وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر.(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى، وكذا مريض لا يبسط ثوبه إلا تنجس فورا له تركه (و) المعذور (إنما تبقى طهارته في الوقت) بشرطين (إذا) توضأ لعذره و (لم يطرأ عليه حدث آخر، أما إذا) توضأ لحدث آخر وعذره منقطع ثم سال أو توضأ لعذره ثم (طرأ) عليه حدث آخر، بأن سال أحد منخريه أو جرحيه أو قرحتيه ولو من جدري ثم سال الآخر (فلا) تبقى طهارته.
محمدایاز بن اللہ نور
دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
۲۲/ربیع الثانی/۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ایاز بن اللہ نور | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


