| 92621 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک لڑکی نے اجنبی مردوں سے شرعی پردہ شروع کیاتھا ،لیکن خاندان میں جو نامحرم تھے ان سے پردہ نہیں کرتی تھی ،لیکن اب پردے کی وجہ سے اسنے رشتے داروں کے گھر یا کسی دعوت یا شادی محفل وغیرہ میں جانا چھوڑ دیا ہے ۔صرف اس لیے کہ کہیں پردے کاحکم پامال نا ہو جائے، کہیں میں پردے پر قائم نہ رہ سکوں کیوں کہ ان محفلوں شادی بیاہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے لئے الگ انتظام ہونے کے باوجود خاندان کے مرد وہی عورتوں میں گھسے آتے ہیں اور اکثر شادیوں میں ناچ گانا بجانا ہوتا ہے اسلئے بھی شادی میں شرکت کرنا ترک کردیں تو کیا یہ عمل درست ہے جب کہ شریعت تو صلہ رحمی رشتے داری جوڑنے کا حکم دیتا ہے؟ اور ممانی نے بھی دعوت دی ہے لیکن گھر میں انکے والد ہوتے ہیں ،لڑکی وہاں بھی نا جا رہی ہوکہ وہ بھی نامحرم کے لسٹ میں آتے ہیں اور اس بات سے ڈر رہی ہے بچپن سے انکے سامنےآتی جاتی رہتی تھی اب پردہ کیسے کریں گی؟ پردہ کرنے پر ممانی یا انکے والد کیا سوچیں گے کہ باپ دادا کی عمر باپ دادا جیسے شخص سے پردہ کر رہی ہے۔ تو کیا کریں وہ لڑکی؟ کیا ہر محفل میں شریک ہو جائے پردہ کرتے ہوئے لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کر کے یا اس ڈر سے گھر میں بیٹھی رہے کہ کہیں پردے پر قائم نہ رہ سکوں گی لوگو کی باتیں سہہ نا سکوں گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شادی بیاہ کی ایسی تقریب جو مخلوط ماحول، موسیقی و دیگر فضولیات سے آلودہ ہو ں، اس میں شرکت کرنا درست نہیں، اگر پہلے سے معلوم ہو کہ تقریب میں یہ سب خرافات ہوتی ہیں تو ایسی تقریب میں شریک ہونا بالکل درست نہیں، البتہ اگر پہلے سے اس بات کا علم نہ ہو اور وہاں پہنچنے پر یہ معلوم ہویا قریبی عزیز کی شادی ہو اور شرکت نہ کرنے پر قطع تعلقی کا اندیشہ ہو تو اس نیت سے جائے کہ ان منکرات کو حتی الوسع روکنے کی کوشش کرے گا،پھر وہاں جا کراگرروک سکےتوبہت اچھا،اوراگرروکنےکےباجود لوگ بازنہ آئیں توتقریب چھوڑدےاوراگرتقریب چھوڑکرجانےکی صورت میں قطع تعلقی اوراختلاف وانتشار کازیادہ خطرہ ہوتوشریک ہوجائےاور دل ہی د ل میں براسمجھ لے،امیدہے اس پرگنانہیں ہوگا۔ماخوز از تبویب:(82929)
ہاں اگر کسی تقریب میں اور خرافات تو نہ ہوں لیکن صرف نامحرم مرد کبھی کبھی داخل ہوتے ہوں ،تو اگر ان سےپردہ کرنا ممکن ہو(مثلا جیسے کوئی نامحرم داخل ہوچہرہ ڈھانپ لیں) توایسی تقریب میں شرکت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔نیز شریعت میں صلہ رحمی واجب ہے، لیکن صلہ رحمی کے لیے گناہ یا بے پردگی والی محفلوں میں شرکت کرنا بالکل لازم نہیں ہے۔ صلہ رحمی سلام، تحائف، احوال پرسی، فون یا خط کے ذریعے اور ایسے وقت میں ملنے سے بھی ادا ہو جاتی ہے جب وہاں کوئی غیر محرم مرد موجود نہ ہو۔
حوالہ جات
«درر الحكام شرح غرر الأحكام» (1/ 311):
«(قوله: دعي إلى وليمة فيها منكر وعلمه لم يحضر) أي سواء كان مقتد أو غيره.
(قوله: وغيره أي غير المقتدي إن قعد وأكل جاز) هذا إذا كان الغناء واللعب في ذلك المنزل لا على المائدة فإن كان على المائدة فلا ينبغي أن يقعد لقوله تعالى {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} [الأنعام: 68] .
(قوله: فإن إجابة الدعوة سنة. . . إلخ) تعليل لما إذا كان غير مقتد ولم يكن اللهو على المائدة ولم يعلم به قبل حضوره؛ لأنه لا يلزمه إجابة الدعوة إذا كان هناك منكر وفي جلوس المقتدى به فتح باب معصية وشين الدين كما في البرهان والكافي.»
«مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر» (2/ 550):
(وإن علم) المدعو (أن فيها لهوا لا يجيب) سواء كان ممن يقتدى به أو لا لأنه لا يلزمه إجابة الدعوة إذا كان هناك منكر «قال علي - رضي الله تعالى عنه - صنعت طعاما فدعوت رسول الله - صلى الله تعالى عليه وسلم - فرأى في البيت تصاوير فرجع» بخلاف ما هجم عليه لأنه قد لزمه.
(وإن لم يعلم) أن ثمة لهوا (حتى حضر فإن قدر على المنع فعل) المنع لأنه نهي عن منكر (ولا) أي وإن لم يقدر عليه (فإن كان مقتدى به أو كان اللهو على المائدة فلا يقعد) لأن في ذلك شين الدين وفتح باب المعصية على المسلمين وقال تعالى {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} [الأنعام: 68] (وإلا) أي وإن لم يكن مقتدى به ولم يكن اللهو على المائدة (فلا بأس بالقعود) والصبر فصار كتشييع الجنازة إذا كان معها نياحة حيث لا يترك التشييع والصلاة عليها لما عندها من النياحة كذا هنا.
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص665):
«(وصلة الرحم واجبة ولو)
كانت (بسلام وتحية وهدية) ومعاونة ومجالسة ومكالمة وتلطف وإحسان ويزورهم غبا ليزيد حبا، بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ولا يرد حاجتهم لانه من القطيعة،»
«درر الحكام شرح غرر الأحكام» (1/ 323):
(صلة الرحم واجبة) ولو بسلام وتحية وهدية وهي معاونة الأقارب والإحسان إليهم والتلطف بهم والمجالسة إليهم والمكالمة معهم ويزور ذوي الأرحام غبا، فإن ذلك يزيد ألفة وحبا بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ويكون كل قبيلة وعشيرة يدا واحدة في التناصر والتظاهر على من سواهم في إظهار الحق ولا يرد بعضهم حاجة بعض؛ لأنه من القطيعة في الحديث «صلة الرحم تزيد في العمر» وفي حديث آخر «لا تنزل الملائكة على قوم فيهم قاطع رحم» وفي بعض الأحاديث أن الله يصل من وصل رحمه ويقطع من قطعها، والله أعلم. .
محمد اسماعیل بن سید رحمان
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
۷،جمادی الثانیۃ ، ١٤٤۸
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن سید رحمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


