| 91436 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میں ایک مرد ٹیچر ہوں اور ایک گھر میں آٹھ دس سال سے پڑھا رہا ہوں۔ ایک دوست کی وساطت سے ان کے بڑے بیٹے کو پڑھانے کے لیے میرا ان کے ہاں جانا ہوا تھا، اس وقت ان کی چھوٹی بیٹی پہلی کلاس کی طالبہ تھی۔ چونکہ میرا آنا جانا تسلسل سے رہا، اس لیے ان بچوں کے ساتھ میرا تعلق بہت گہرا، یعنی منہ بولے بہن بھائیوں جیسا ہو گیا۔
اب مسئلہ یہ درپیش آ رہا ہے کہ میں ان کی چھوٹی بیٹی کو پڑھا رہا ہوں اور اپنے وقت کے عوض ان سے حسبِ معمول پیسے بھی لے رہا ہوں۔ میں نے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ پیسے لینا اور میرے لیے خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ حرام پیسوں کے حکم میں ہوں گے؟ اور چونکہ میں ان سے کچھ پیسے لے چکا ہوں، تو اگر یہ حرام ہیں تو مجھے ان پیسوں کا کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں ان سے کوئی ایسی اشیاء خرید سکتا ہوں جن کا پڑھانے سے تعلق ہو؟ یا ایسی جگہ جہاں پیسے لگانے پڑتے ہوں، مثلاً پینا فلیکس، چارٹ بنوانا یا سکول و اکیڈمی کے لیے اپنی جیب سے کچھ خریدنا؟
اختصار کے ساتھ میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو منہ بولی بہن کہہ دینا، اسے پڑھانا اور اس کے عوض اپنے وقت کے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر یہ پیسے جائز نہیں تو انہیں کہاں خرچ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ میں نے اس ضمن میں کچھ پیسے لے رکھے ہیں لیکن شک کی وجہ سے ابھی خرچ نہیں کیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسؤولہ میں تعلیم کی مد میں آپ نے جتنے پیسے بھی لیے ہیں وہ سب آپ کیلئے حلال اور جائز ہیں ، جہاں چاہیں خرچ کرسکتے ہیں ۔ جہاں تک کسی کو منہ بولے بہن بھائی بنالینے کی بات ہے تو اس سے وہ حقیقی بہن بھائی نہیں بن جاتے اور نہ ہی شرعی احکام تبدیل ہوتے ہیں ۔ اس لیے آپ کے دوست کی بیٹی اگر بالغ یا قریب البلوغ ہو تو اسے حائل و پردے میں ہی تعلیم دیں بلا حائل و پردے کے اسے پڑھانا جائز نہیں ہوگا ۔
حوالہ جات
«أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي» (5/ 222):
«وما جعل أدعياءكم أبناءكم قيل إنه نزل في زيد بن حارثة وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد تبناه فكان يقال له زيد بن محمد وروي ذلك عن مجاهد وقتادة وغيرهما قال أبو بكر هذا يوجب نسخ السنة بالقرآن لأن الحكم الأول كان ثابتا بغير القرآن ونسخه بالقرآن وقوله تعالى ذلكم قولكم بأفواهكم يعني أنه لا حكم له وإنما هو قول لا معنى له ولا حقيقة،وقوله تعالى ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم فيه إباحة إطلاق اسم الأخوة وحظر إطلاق اسم الأبوة من غير جهة النسب ولذلك قال أصحابنا فيمن قال لعبده هو أخي لم يعتق إذا قال لم أرد به الأخوة من النسب لأن ذلك يطلق في الدين ولو قال هو ابني عتق لأن إطلاقه ممنوع إلا من جهة النسب،
وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 237):
«يجوز أخذ الأجرة عليه كما قالوا الفتوى على جواز أخذ أجرة على تعليم القرآن وغيره كما تقدم في كتاب الإجارة»
«الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي» (4/ 2654):
«وفي التعليم لما يجب تعلمه وتعليمه كالفاتحة وما يتعين من الصنائع المحتاج إليها، يجوز النظر بشرط فقد وجود أحد من جنس النساء أو محرم صالح، وتعذره من وراء حجاب، ووجود مانع الخلوة من محرم ونحوه.»
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (6/ 19):
«والمحرم من لا يحل له نكاحها على التأبيد بنسب أو سبب كالرضاع والمصاهرة»
عبدالغفاربن غلام اکبر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
٧ /صفرالمظفر/١٤٤٨
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


