03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فتنہ انگیز اور مضر میک اپ کا شرعی حکم
92670جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

اگر بیوٹی پارلر میں خواتین کا ایسا میک اپ یا آرائش کی جائے جس سے بے پردگی، بے حیائی یا فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، یا استعمال ہونے والی اشیاء سے جسمانی نقصان، الرجی یا سوجن پیدا ہوتی ہو، تو اس کام کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر بیوٹی پارلر میں ایسا میک اپ یا آرائش کی جائے جس کا مقصد یا غالب نتیجہ بے پردگی، بے حیائی، فتنہ یا غیر محرموں کے سامنے زینت کا اظہار ہو، تو ایسا میک اپ کرنا اور کروانا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ گناہ کے کام میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے۔

اسی طرح اگر استعمال ہونے والی کریمیں، کیمیکلز، انجیکشنز یا دیگر مصنوعات معتبر طبی تحقیق یا ماہرین کی رائے کے مطابق جسمانی نقصان، شدید الرجی، سوجن یا دیگر قابلِ ذکر مضر اثرات کا سبب بنتی ہوں، تو ان کا استعمال بھی شرعاً جائز نہیں، کیونکہ شریعتِ مطہرہ نے انسان کو اپنی جان اور جسم کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا نقصان دہ اشیاء کا استعمال کرنا یا دوسروں پر ان کا استعمال کرکے اجرت لینا بھی جائز نہیں۔

اسی طرح اگر میک اپ یا آرائش ایسی ہو جو وضو یا غسل کی صحت میں رکاوٹ بنے، اور اس کی وجہ سے نماز ترک کی جائے یا طہارت کے احکام میں کوتاہی ہو، تو ایسا عمل بھی شرعاً قابلِ اجتناب ہے۔

حوالہ جات

الصحیح البخاری2\878:   رقم الحدیث: 5931:

"عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن اللّٰہ الواشمات والمستوشمات، والمُتنمِّصات، والمتفلجات للحسن المغیرات خَلْقَ اللّٰہ تعالیٰ، مالي لا ألعنُ من لعن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھو في کتاب اللّٰہ {مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ} ."

حاشیہ ابن عابدین:6\407

"قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق."

حاشیہ ابن عابدین:6\373

"ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث."

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب