| 92671 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
اگر امامِ مسجد نماز کے وقت دو یا تین منٹ تاخیر سے پہنچے، تو مقتدیوں کو انتظار کرنا چاہیے یا کسی دوسرے اہل شخص کو امامت کے لیے آگے بڑھا دینا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعتِ کی رو سے مسجد کا امامِ راتب اپنی مسجد میں امامت کا سب سے زیادہ حق دار ہوتا ہے، اگرچہ اس سے زیادہ علم یا بہتر قراءت رکھنے والا شخص بھی موجود ہو۔ لہٰذا اگر امام معمولی طور پر دو، تین یا چند منٹ تاخیر سے پہنچ رہا ہو اور اس کے آنے کی توقع ہو تو اس کا انتظار کیا جائے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کو امامت کے لیے آگے نہ کیا جائے۔
البتہ اگر امام کے آنے میں غیر معمولی تاخیر ہو، نماز کا وقت تنگ ہونے لگے، یا امام نے پہلے سے کسی شخص کو اپنی غیر موجودگی میں امامت کی اجازت دے رکھی ہو، تو شرعاً اہل شخص کو امامت کے لیے آگے کیا جاسکتا ہے۔ نیز امام اگر کبھی کبھار معمولی تاخیر کرے تو اس پر طعن و تشنیع سے اجتناب کیا جائے، البتہ مستقل بلاعذر تاخیر کی صورت میں حکمت کے ساتھ اسے وقت کی پابندی کی تلقین کی جائے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1 / 57):
وينتظر المؤذن الناس ويقيم للضعيف المستعجل ولا ينتظر رئيس المحلة وكبيرها، كذا في معراج الدراية.
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


