| 92672 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
امامت کے اہل کون افراد ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو شخص نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہو، قرآنِ کریم صحیح پڑھتا ہو اور شرعی احکام و سنت کا پابند ہو، وہ امامت کا اہل ہے۔ فقہاء کرام نے امام کے انتخاب میں بعض صفات کو ترجیح کا ذریعہ قرار دیا ہے، یعنی جب کئی افراد امامت کے اہل ہوں تو ان میں جو شخص سنت کا زیادہ علم رکھنے والا، قرآنِ کریم بہتر پڑھنے والا، زیادہ متقی اور پھر عمر میں بڑا ہو، اسے ترجیح دی جائے۔
یہ صفات امامت کی صحت کی لازمی شرائط نہیں، بلکہ اہل افراد میں سے کسی کو ترجیح دینے کے لیے ہیں۔ نیز موجودہ زمانے میں اگر مسجد میں کوئی امامِ راتب باقاعدہ مقرر ہو تو وہی امامت کا زیادہ حق دار ہے، اگرچہ کوئی دوسرا شخص بعض صفات میں اس سے بہتر ہو۔
حوالہ جات
حاشیہ ابن عابدین:1\559
) و) اعلم أن (صاحب البيت) ومثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقا (قوله مطلقا) أي وإن كان غيره من الحاضرين من هو أعلم وأقرأ منه.
الدر المختار1\557:
(والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الأحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة، ثم الأورع) أي الأكثر اتقاء للشبهات. والتقوى: اتقاء المحرمات .
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


