| 76811 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتیان کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ ہم کل چھ بھائی اور تین بہنیں ہیں ۔بھائیوں کے نام یوں ہیں محمد سلیم،عبدالستار،احمد حسین،یامین،،عمران اور فرقان۔بہنوں کے نام یوں ہیں:خیر النساء،نور النساء اور صائمہ۔
والد صاحب نے اپنی حیاتی میں سن 2004میں اس وقت کی موجود تمام جائیداد کا حساب کرکے اور ضروری اخراجات یعنی باقی رہ جانے والے بھائیوں کی شادی اخراجات کی رقم مائنس کرکے اور بہنوں کی رقم بھی فرضی طور پر مائنس کرکے باقی ماندہ رقم 69لاکھ روپے کے برابر 8حصے کرکے تقریبا866666روپے اور والدین نے اپنے حصوں میں سے یعنی 1732000روپے میں سے نواں حصہ یعنی 192944روپے ملا کر ٹوٹل رقم 1059110روپے تیسرے نمبر والے بھائی احمد حسین کو اس کی رضامندی اور مطالبے پہ ایک ایگریمنٹ(سوال نامے کے ساتھ یہ ایگریمنٹ منسلک ہے) کے ذریعے دے دیے جس کے الفاظ یوں ہیں:
”میرا حصہ میرے والد مجھ کومیرے مطالبے پہ ادا کررہے ہیں اور یہ کہ والدین کے انتقال کے بعد میرا اب کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا اور یہ کہ میں نا والدین کی حیات میں اور نا ہی بعد ازاں کبھی بھی کوئی مطالبہ برائے ترکہ ورثہ بابت جائیداد مذکورہ بالا دیگر وارثان سے کروں گا۔“
کیایہ بھائی والدین کی وفات کے بعد ان کے اب کسی بھی قسم کے ترکے میں وراثت کا حقدار رہے گا؟جبکہ اس بھائی کو اپنا حصہ بھی مل گیا اور والد اپنے بعد جو کچھ ترکہ چھوڑ جاتے اس کا بھی نواں حصہ وصول کرلیاہے.
اسی طرح 2006میں اس وقت کی موجود جائیداد کا حساب کتاب کرکے اور ضروری اخراجات یعنی باقی رہ جانے والے بھائیوں کی شادی کے اخراجات کی رقم مائنس کرکے اور بہنوں کی فرضی رقم مائنس کرکے باقی ماندہ رقم تقریبا 61لاکھ روپے کے 7برابر حصے کرکے فی حصہ 871428روپے اور والدین نے اپنے حصوں میں سے یعنی 1742856روپے کا آٹھواں حصہ یعنی 217856روپے اور 2005کا منافع 100000روپے ملا کر ٹوٹل رقم 1189284روپے پہلے نمبر والے بڑے بھائی محمد سلیم کو اس کی رضامندی سے ایک ایگریمنٹ (سوال نامے کے ساتھ یہ ایگریمنٹ منسلک ہے)کے ذریعے دے دیے جس کے الفاظ یوں ہیں:
”میرا حصہ میرے والد مجھ کو ادا کررہے ہیں والدین کی حیات کے بعد میرا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا اور یہ کہ والدین کی حیات میں اور نا ہی بعد ازاں کبھی بھی کوئی مطالبہ ترکہ ورثہ بابت جائیداد مذکورہ بالا دیگر وارثان سے نہیں کروں گا۔“
کیایہ بھائی والدین کی وفات کے بعد ان کے اب کسی بھی قسم کے ترکے میں وراثت کا حقدار رہے گا؟جبکہ اس بھائی کو اپنا حصہ بھی مل گیا اور والد اپنے بعد جو کچھ ترکہ چھوڑ جاتے اس کا بھی آٹھواں حصہ وصول کرلیاہے۔
اسی طرح سن 2009میں اس وقت کی موجود جائیداد کا حساب کتاب کرکے چار بھائیوں عبدالستار،محمد یامین،محمد عمران اور محمد فرقان کو 8لاکھ روپے فی کس کا حساب بنا کر ہر دو بھائیوں کے بیچ میں ایک گودام اور ایک دوکان کردی، سوال نامے کے ساتھ منسلک ایگریمنٹ میں اس کی مکمل تفصیل درج ہے۔اور ان چار بھائیوں کے ایگریمنٹ کے الفاظ یوں ہیں:
”میں چاروں بیٹوں کو اپنے اپنے حصے کے طور پر دوکان و گودام دے رہا ہوں جو کہ وہ وصول پارہے ہیں اور آئندہ میری کسی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد میں کسی قسم کا حصہ لینا باقی نہیں رہے گا۔“
کیایہ چاروں بھائی والدین کی وفات کے بعد ان کے اب کسی بھی قسم کے ترکے میں وراثت کا حقدار رہیں گے؟
اسی طرح تین بہنوں کو بھی سن 2011میں الگ الگ چار لاکھ روپے کیش اور ایک ایک عدد پلاٹ دے کر انہیں بھی حیاتی والا حصہ دے دیا،جس کی تفصیل سوال نامے کے ساتھ منسلک ایگریمنٹ میں موجود ہے، البتہ ان بہنوں کو بھی پہلے والے دونوں بھائیوں کی طرح بعد الوفات والا حصہ نہیں ملا۔
پھر 2011میں ہی والد صاحب نے بیٹیوں کو حصہ دینے کےبعد یہ مکان خریدا تھا، اور یہ آخری مکان جو اس وقت موجود ہے والد صاحب کو خریدتے وقت اس میں پیسوں کی کمی کا سامنا تھا تو وہ چار بھائی جنہیں بعد الوفات والا حصہ نہیں ملا تھا انہوں نے بغیر کسی معاہدے کے والد صاحب کو گھر خریدنے کے لیے اپنے پیسے انہیں دے دیے صرف اس غرض سے کہ والد صاحب کا بھی گھر ہوجائے۔ اس وقت کے حساب سے 1850000روپے میں یہ مکان خریدا تھا۔
اور 2015میں والد صاحب نے چار بھائیوں کو جنہیں بعد الوفات والا حصہ نہیں دیا گیا تھا اس مکان سے دستبردار کرنے کے لیے ان سے پیپر پہ دستخط کروائے کہ اس گھر سے تمہارا اب کوئی حق نہیں ہوگا۔مگر چار بھائیوں میں سے صرف دو بھائیوں نے والد صاحب کے بے حد اصرار پہ دستخط کیے اور باقی دو نے نہیں کیے۔
اورپھر اس گھر سے متعلق یہ کہا کہ یہ گھر والدہ اور تین بہنوں کا ہے،تم بہنیں والدہ کے حصے کی رقم ادا کردو یہ مکان میں تمہارے نام پہ کردوں گا ،مگر قبضہ اور اس گھر کی فائل ہماری وفات کے بعد ملے گی ،مگراس پہ والد صاحب کی زندگی میں بھی اور والدہ کی زندگی میں بھی عمل نا ہوسکا۔والدہ کا انتقال والد کے انتقال کے تقریبا تین ماہ بعد ہوا۔
مذکورہ بالا تمام تر تفصیلات کے بعد اب مختصر خلاصہ یہ ہے کہ والدصاحب ایک مکان چھوڑ کر گئے ہیں اس مکان میں شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟
سوال نمبر 1: کیاپہلے والے دونوں بھائی اس میں شرعی حق رکھتے ہیں جبکہ وہ حیاتی والا حصہ بھی وصول کرچکے اور بعد الوفات والا حصہ بھی وصول کرچکے اور وہ اپنے ایگریمنٹ میں یہ طے کرچکے ہیں کہ وہ آئندہ کسی بھی قسم کے ترکے مطالبہ نہیں کریں گے؟
سوال نمبر 2: کیا بعد والے چاروں بھائی والد صاحب کے اس متروکہ مکان میں شرعی حق رکھتے ہیں جبکہ انہوں نے والد صاحب سے صرف حیاتی والا حصہ وصول کیا ہے اور پہلے والے دونوں بھائیوں کی طرح بعد الوفات والا حصہ وصول نہیں کیا؟ مگر ان کے ایگریمنٹ میں بھی یہ لکھا ہواہے کہ آئندہ ان کا کوئی حصہ لینا باقی نہیں رہے گا۔
سوال نمبر 3۔ پہلے والے دونوں بھائیوں کا موقف یہ ہے کہ اگر ایگریمنٹ ہمارا ہوا ہے اور اس کی بنیاد پہ ہم اب میراث میں حصے دار نہیں بن سکتے تو ایگریمنٹ چار بھائیوں کے ساتھ بھی ہوا ہے پس اس لحاظ سے وہ بھی حصے دار نہیں بن سکتے۔جبکہ یہ چار بھائی کہہ رہے ہیں کہ پہلے والے دونوں بھائیوں نے بعد الوفات والا حصہ بھی والد صاحب سے حیاتی میں ہی وصول کرلیا ہے اور ہم نے وصول نہیں کیا ہے، اس فرق کی وجہ سے اب ان کا حق باقی نہیں رہتا اور ہماراحق باقی رہتا ہے،شرعی طور پر راہنمائی کردیں کہ کون سی بات شریعت کے مطابق ہے؟
تمام ورثاء نے اس سوال نامے کو بغور پڑھ لیا اور حلفیہ اقرار کرتے ہیں کہ اس سوال کا جوبھی شرعی فیصلہ آئے گا وہ سب کو دل وجان سے منظور ہوگا اور اس پر عملدرآمد کرنے میں ذرا بھی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والدنے زندگی میں معاہدہ کرکے میراث کا جو بدل دیا (خواہ وہ زندگی اور موت کے بعد والے دونوں حصوں کے نام پر تھا یا صرف زندگی والے حصے کے نام پر) وہ میراث کا بدل نہیں ہوسکتا، کیونکہ وارث کی ملکیت میراث میں مورث کے مرنے کے بعدآتی ہے اس سے پہلے نہیں، لہذا جب زندگی میں بطور میراث بچے حق دار ہی نہیں تھے تو وہ اس کا بدل لیکرمعاملہ کس بنیاد پرکر سکتے ہیں ؟چنانچہ جوکچھ والد نے ان کواپنی زندگی میں دیاتھا وہ سب کچھ بطور تحفہ شمار ہوگا اور مسئولہ صورت میں میراث کا بدل لے کر اپنا حق چھوڑنے والے بچوں کا حق والد کی موت کے بعد بھی میراث میں باقی رہا اور معاہدہ کرنے سےساقط نہیں ہوا۔
البتہ جن بچوں نے والد صاحب سےحساب بے باق کرتےوقت یہ وعدہ و معاہدہ کیا تھا کہ (والدکی وفات کے بعد) وہ ترکہ میں سے اپنا حصہ نہیں لیں گے(خواہ انہوں زندگی اور موت کے بعد والے دونوں حصوں کے نام پربدل لیا تھا یا صرف زندگی والے حصے کے نام پر) اوریہ وعدہ ومعاہدہ انہوں نے خوشی سے کیاتھا تو انہیں چاہیےکہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں اور ترکہ میں سےتھوڑا مال لے کر اپنے باقی حصے سے دیگرورثاء کے حق میں دستبردار ہوجائیں۔ تاہم اس حوالے سے ان پر جبر نہیں ہوسکتا۔
کسی وارث کاترکہ میں سے کچھ لیکراپنے حصے کا باقی ترکہ ورثہ کو معاف کردینے کو شریعت کی اصطلاح میں "تخارج" کہتے ہیں جس کی جائز صورت یہ ہے کہ وراثت میں اپنا حق چھوڑنے والا اگر بدلے میں سامان کی شکل میں کوئی چیز لے تو چاہے وہ سامان تھوڑا ہو یازیادہ یہ تخارج صحیح ہوگا۔ اوراگرنقد رقم لے اور باقی ماندہ میراث میں بھی نقدرقم موجود ہوتو اس میراث والی نقدی میں جتنا حصہ اس نکلنے والے وارث کا بنتا ہے، بطوربدل لی جانے والی نقد رقم اس سے زائدہو۔ تخارج کے صحیح ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ میت کا کسی پر قرض نہ ہو یا ہو مگرجو شخص میراث سےنکل رہاہے اپنا حصہ اس مقروض کو معاف کردے یا فی الحال اتنی ہی مقدار باقی ورثاء سے قرض لے لے اورپھر اپنے حصے کا قرضہ وصول کرنا ان ورثاء کے حوالہ کردے تاکہ وہ وقت پرقرض وصول کرکے اپنے قرضے میں شمارکرلے۔
اس تفصیل کے بعد آپ کے سوالات کا مختصر جواب درج ذیل ہے۔
1،2،3۔تمام بچے میراث میں حق رکھتے ہیں،لیکن جن بچوں نے وعدہ ومعاہدہ کرکے والد کی وفات کے بعد ملنے والے اپنے حق سے دستبرداری کا اظہار کیا تھا انہیں چاہیے کہ وہ وعدے کی تکمیل کے لیے کہ ترکہ میں سےتھوڑا مال لے کر اپنے باقی حصے سے دیگرورثاء کے حق میں دستبردار ہوجائیں۔ اور وعدہ کی تکمیل کے اس حکم میں وہ تمام بچے برابر ہیں جنہوں نے بخوشی وعدہ کیا تھا خواہ پھر انہوں نے زندگی کے بعد والا حصہ وصول کیا تھا یا نہیں ۔تاہم اس حوالے سے ان پر جبر نہیں ہوسکتا۔
حوالہ جات
تكملة حاشية رد المحتار ( 2 / 208)
ولو قال: تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه ا ه
الدر المختار للحصفكي ( 5 / 203)
فصل في التخارج (أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف نسبه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطى له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا، ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه.شرنبلالية وجلالية.ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا، كذا لو أنكروا إرثه لانه حينئذ..... (وبطل الصلح إن أخرج أحد الورثة وفي التركة ديون بشرط أن تكون الديون لبقيتهم) لان تمليك الدين من غير من عليه الدين باطل.ثم ذكر لصحته حيلا فقال (وصح لو شرطوا إبراء الغرماء منه) أي من حصته لانه تمليك الدين ممن عليه فيسقط قدر نصيبه عن الغرماء (أو قضوا نصيب المصالح منه) أي الذين (تبرعا) منهم (وأحالهم بحصته أو أقرضوه قدر حصته منه مصالحوه عن غيرهم) بما يصلح بدلا (وأحالهم بالقرض على الغرماء) وقبلوا الحوالة، وهذه أحسن الحيل
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16شوال1443 ہجری
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


