| 92085 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
ایک عرصے سے میرے ذہن میں حُرمتِ مصاہرت سے متعلق ایک مسئلہ دریافت کرنے کی خواہش تھی۔ چند دن قبل اس مسئلے کی سنگینی اور اس کے احکام کے بارے میں معلوم ہوا، جس کی وجہ سے یہ سوال ذہن میں مزید اہمیت کے ساتھ پیدا ہوا۔ عرض یہ ہے کہ اگر ایک شخص نے نابالغی کی حالت میں اپنی حقیقی چھوٹی بہن کو ایک مرتبہ شہوت کے ساتھ چھوا ہو، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ خصوصاً درج ذیل امور کی وضاحت مطلوب ہے: 1. کیا نابالغی کی حالت میں اپنی بہن کو شہوت کے ساتھ چھونے سے حُرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے؟ 2. اگر ایسا واقعہ پیش آیا ہو تو کیا اس کی وجہ سے والدین کے نکاح پر کوئی شرعی اثر پڑتا ہے؟ 3. اگر والدین کا نکاح برقرار رہتا ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ 4. اگر مذکورہ واقعہ بہت کم عمری میں پیش آیا ہو اور اب وہ شخص بالغ ہوچکا ہو، تو موجودہ وقت میں اس کے لیے کیا شرعی حکم اور کیا لائحۂ عمل ہے؟ 5. کیا اس معاملے میں توبہ، کفارہ یا کسی اور احتیاطی اقدام کی ضرورت ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کی تفصیلی شرعی وضاحت اور حکم کی بنیاد کے ساتھ رہنمائی فرما دیں، تاکہ اطمینان کے ساتھ صحیح شرعی حکم پر عمل کیا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بہن چونکہ پہلے ہی نسبی طور پر محرم ہے ۔ لہذابہن (بالغہ ہویا نابالغہ) سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی ۔ آپ کے والدین کا نکاح بدستور قائم ہے۔ تاہم بہن کو شہوت کے ساتھ چھونا سخت گناہ ہے۔اس لیے آئندہ اس گناہ سے بچیں ، توبہ اور استغفارکریں ۔
حوالہ جات
تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي (ص116):
وإذا أذنب واحد منهم ذنبا، وجد على بابه أو على جسده أن فلان ابن فلان قد أذنب كذا، وتوبته كذا، فسهل الأمر على هذه الأمة فقال: {ومن يعمل سوءا أو يظلم نفسه ثم يستغفر الله يجد الله غفورا رحيما} [النساء: 110] ، فالواجب على كل مسلم أن يتوب إلى الله تعالى، حين يصبح وحين يمسي.
وقال مجاهد: من لم يتب إذا أمسى، وإذا أصبح، فهو من الظالمين.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 32): (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 258):
وأما النوع الثاني فالمحرمات بالمصاهرة أربع فرق.الفرقة الأولى: أم الزوجة وجداتها من قبل أبيها وأمها وإن علون فيحرم على الرجل أم زوجته بنص الكتاب العزيز وهو قوله عز وجل: {وأمهات نسائكم} [النساء: 23] معطوفا على قوله عز وجل: {حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم} [النساء: 23] سواء كان دخل بزوجته أو كان لم يدخل بها عند عامة العلماء.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
08/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


