| 91570 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
ضیاء چاچو نے دادا ابو کی اجازت سے دکان دار پر دکان خالی کروانے کے لیے کیس کیا، تاکہ وہاں خود کام کر سکیں۔کیس کمزور ہونے پر چاچو نے دادا ابو کو بتائے بغیر دکان دار سے خفیہ بات چیت کی اور کیس ختم کرنے کے بدلے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کرایہ بڑھا کر نیا معاہدہ کر لیا۔ تمام بیٹوں نے دادا ابو سےجھوٹ بولا کہ کیس کمزور ہونے کی وجہ سے ختم ہوا اور دکان دار پرانا کرایہ ہی دے رہا ہے۔ اب ضیاء چاچو دکان دار سے پورا کرایہ خود لیتے ہیں، اس میں سے پرانا کرایہ دادا ابو کو دیتے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ پانچوں بھائی آپس میں 30، 30 ہزار روپے لے کر بانٹ لیتے ہیں۔کیا ان کا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چچا ضیاء اور دیگر بھائیوں کا دادا ابو سے جھوٹ بولنا اور حقیقت کو چھپانا ، ان سےخیانت اور دھوکہ ہے۔ دکان چونکہ دادا ابو کی ملکیت ہے،لہذا تمام بھائیوں پر لازم ہے کہ اب تک جو پیسے وہ استعمال کرچکے ہیں، وہ یا تو اپنے والد سے معاف کروائیں یا ان کو واپس کریں۔
حوالہ جات
سورۃ النساء ،رقم الایۃ :29
{يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم}.
الموسوعة الفقهية الكويتية (45/ 37):
تتعلق بالوكيل أحكام، منها :الأول: أن يقوم الوكيل بتنفيذ الوكالة في الحدود التي أذن له الموكل بها أو التي قيده الشرع أو العرف بالتزامها.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07 / صفر المظفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب |


