| 91263 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میری شادی ہو چکی ہے، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ۔نکاح کے بعد ہماری ملاقاتیں ہوئی ہیں، تاہم اس طرح تنہائی میں نہیں ملے کہ کسی بند کمرے میں اکیلے ہوں۔تقریباً11ماہ پہلے ایک دن کھانا کھاتے ہوئے میرے ذہن میں یا ممکنہ طور پر میری زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ "اگر یہ سالن یا روٹی گر گئی تو میری بیوی کو طلاق"۔ وہ روٹی یا سالن پلیٹ سے باہر گر گیا تھا۔ اس وقت میری بیوی میرے ساتھ موجود نہیں تھی، بلکہ دوسرے شہر میں تھی، اس لیے اس نے یہ الفاظ نہیں سنے۔ بعد میں بھی میں نے اسے اس واقعے کے بارے میں نہیں بتایا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مجھے یقین کے ساتھ یاد نہیں کہ میں نے یہ الفاظ حقیقتاً زبان سے ادا کیے تھے یا صرف دل میں سوچے تھے۔میں قسم کھا کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے یہ الفاظ زبان سے کہے تھے، البتہ اس وقت میرے ردِعمل کی وجہ سے کبھی مجھے گمان ہوتا ہے کہ شاید میں نے زبان سے کہا تھا، لیکن اس پر بھی مجھے یقین نہیں ہے۔ اسی طرح بعد میں بھی میں نے اس معاملے پر بہت غور کیا، اور ممکن ہے کہ کسی موقع پر میں نے خود بھی یہ سمجھ لیا ہو کہ شاید میں نے کہا تھا، لیکن اس بات پر بھی میں قسم کھا کر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس واقعے کے بعد ذہنی پریشانی اور شک و وہم کی وجہ سے کئی مرتبہ میرے ذہن میں تجدیدِ نکاح کا خیال آیا اور میں نے یہ بھی سوچا کہ شاید تجدیدِ نکاح کر لینی چاہیے، تاکہ دل مطمئن ہو جائے، لیکن میں نے عملاً تجدیدِ نکاح نہیں کیا۔ مجھے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں ۔
۱۔ایسی صورت میں جب کہ مجھے شک ہے کہ الفاظ زبان سے ادا ہوئے تھے یا نہیں، شرعاً طلاق کا کیا حکم ہے؟
۲۔ اگر بالفرض یہ الفاظ زبان سے ادا ہوئے ہوں اور ان سے طلاق واقع ہوتی ہو، تو کیا ایک طلاق شمار ہوگی یا کچھ اور حکم ہے؟
۳۔اگر تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہو تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ کیامیاں بیوی اور دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے یا ولی اور گھر والوں کی موجودگی بھی ضروری ہے؟
۴۔رخصتی سے پہلے طلاق واقع ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح کی ضرورت پیش آئے، تو حق مہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا پہلے نکاح کا حق ِمہر دوسرے نکاح سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے، یا بیوی کی رضامندی سے بعد میں ادا کیا جا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔اصول یہ ہے کہ اگر زبان سے الفاظ ِطلاق کی ادائیگی ہو ، تو طلاق واقع ہوتی ہے، محض سوچنے سے نہیں۔دوسری بات یہ کہ اگر یقین ہو کہ طلاق کے الفاظ کہے ہیں تو طلاق ہوتی ہے،محض شک سے نہیں ۔
۲۔ اگر زبان سے یہ الفاظ ادا ہو گئے ،تو ایک طلاق ہو جائے گی اور رخصتی نہ ہونے کی وجہ سے طلاق ہوتے ہی بیوی بائن ہو جائے گی۔ دوبارہ رجوع کافی نہیں ہوگا، بلکہ از سر ِنو نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا پڑے گا۔اور آئندہ صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
۳۔ دو مسلمان عاقل، بالغ مرد یا ایک مرد اور دوعورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرلینے سے نکاح ہوجاتا ہے۔
۴۔ رخصتی سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں شوہر پر لازم ہے کہ وہ فوراً نصف مہر اداکرے ۔ نئے نکاح کے لیے نیا مہر مقررکرنا لازم ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 373):
(الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول) إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 126):
عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك كحياة المفقود، أنها لما كانت ثابتة ووقع الشك في زوالها لا يحكم بزوالها بالشك حتى لا يورث ماله ولا يرث هو أيضا من أقاربه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 9):
(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك(قوله: وينعقد) قال في شرح الوقاية: العقد ربط أجزاء التصرف أي الإيجاب والقبول شرعا لكن هنا أريد بالعقد الحاصل بالمصدر، وهو الارتباط لكن النكاح الإيجاب والقبول مع ذلك الارتباط.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 104):
و فی الدر المختار (و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة)وفی رد المحتار(قوله ويجب نصفه) أي نصف المهر المذكور، وهو العشرة إن سماها أو دونها أو الأكثر منها إن سماه، والمتبادر التسمية وقت العقد، فخرج ما فرض أو زيد بعد العقد فإنه لا ينصف كالمتعة كما سيأتي۔۔۔) قوله بطلاق) الباء للمصاحبة لا للسببية لما مر من أن الوجوب بالعقد أفاده في الشرنبلالية(قوله قبل وطء أو خلوة) هو معنى قول الكنز قبل الدخول، فإن الدخول يشمل الخلوة أيضا لأنها دخول حكما كما في البحر.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 291):
(فصل بيان ما يتأكد به المهر)(وأما) بيان ما يتأكد به المهر فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة.الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، أما التأكد بالدخول فمتفق عليه، والوجه فيه أن المهر قد وجب بالعقد وصار دينا في ذمته، والدخول لا يسقطه؛ لأنه استيفاء المعقود عليه، واستيفاء المعقود عليه، يقرر البدل لا أن يسقطه كما في الإجارة؛ ولأن المهر يتأكد بتسليم المبدل من غير استيفائه لما نذكر فلأن يتأكد بالتسليم مع الاستيفاء أولى.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 113):
[تنبيه] في القنية: جدد للحلال نكاحا بمهر يلزم إن جدده لأجل الزيادة لا احتياطا اهـ أي لو جدده لأجل الاحتياط لا تلزمه الزيادة بلا نزاع كما في البزازية. وينبغي أن يحمل على ما إذا صدقته الزوجة أو أشهد، وإلا فلا يصدق في إرادته الاحتياط كما مر عن الجمهور.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
29/محرم الحرم /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


