03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تکبیرِ تحریمہ اور سلام کے مسائل سے لاعلمی کی وجہ سے سابقہ نمازوں کا حکم
92587نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

میں نے 2011ء سے باقاعدگی کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کی اور اب تک تقریباً تمام نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کرتا رہا ہوں، لیکن شروع میں مجھے نماز کے بعض ضروری مسائل کا علم نہیں تھا۔ مثلاً مجھے تکبیرِ تحریمہ کے فرض ہونے اور نماز کے آخر میں "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کہنے کے وجوب کا علم 21 سال کی عمر میں ہوا۔ اس سے پہلے میں تکبیرِ تحریمہ کہتا تھا یا نہیں، مجھے یاد نہیں۔ علم ہونے کے بعد میں نے تکبیرِ تحریمہ اتنی بلند آواز سے کہنا شروع کیا کہ اپنے کانوں سے سن سکوں، تاکہ شک نہ رہے۔اب میرے لیے گذشتہ نمازوں کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی گزشتہ  نمازیں درست ہیں ، قضاء کرنے کی ضرورت نہیں۔ نیز آئندہ  مزید وساوس کا  بھی شکار نہ ہوں۔

حوالہ جات

الجواهر من فقه الحنفية (ص243):

وكل صلاة صلاها خلف الإمام: جاز إن نوى صلاة الإمام، كذا ذكر أيضا في "الفتاوى الظهيرية"،"خف" إن كان يعرف الفرائض من السنن، ولكن لا يعرف ما في الصلاة من الفرائض والسنن: جازت صلاته، كذا أيضا في "الفتاوى الظهيرية".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 118):

وأشار المصنف إلى أنه لو شك في بعض وضوئه وهو أول ما عرض له غسل ذلك الموضع وإن كان يعرض له كثيرا لا يلتفت إليه كذا في معراج الدراية وفي المجتبى والمبتغى ومن شك أنه كبر للافتتاح أو لا أو هل أحدث أو لا أو هل أصابت النجاسة ثوبه أو لا أو مسح رأسه أم لا استقبل إن كان أول مرة وإلا فلا اهـ.

حنبل اکرم

دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

   03  /جمادی الاولی  /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب