| 91228 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
ہمارا مدرسہ ایک کمپنی چلا رہا ہے۔کمپنی کا نام شمس گروپ آف کمپنیز ہے،کمپنی جہازوں کے کاروبار میں ہے۔ کمپنی نے مدرسہ کے لیے دو جہاز اور ایک عمارت عطیہ کی ہے۔ جہازوں اور عمارتوں سے حاصل ہونے والا کرایہ مدرسہ پر خرچ ہوتا ہے۔ کمپنی مدرسہ کے مختلف اخراجات بھی برداشت کرتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ شروع میں مدرسہ میں پراویڈنٹ فنڈ اختیاری طور پر جاری تھا۔ بعد میں جب مدرسہ کے ذمہ دار حضرات کو معلوم ہوا کہ اختیاری پراویڈنٹ فنڈ اور اس سے حاصل ہونے والا اضافی حصہ جائز نہیں ،تو انہوں نے کمپنی کو لازمی قرار دینے کی درخواست دی پس وہ اسے لازمی قرار دیا۔ کمپنی نے ہر ایک کی تنخواہ سے مخصوص حصہ کاٹنے کا اصول بنایا۔ تاکہ کسی کو حصہ نہ دینے کا موقع نہ ملے۔ اس طرح پراویڈنٹ فنڈ کئی سالوں تک چلتا رہا۔ پھر کمپنی نے پراویڈنٹ فنڈ بند کر دیا۔ اس طرح تین چار سال تک بند رہا۔ پھر مدرسہ کے مہتمم نے ایک ایجنڈے کی شکل میں مجلس عاملہ میں پراویڈنٹ فنڈ شروع کرنے کی درخواست پیش کی، کمپنی نے اس کو قبول کرتے ہوئے پراویڈنٹ فنڈ دوبارہ شروع کر دیا۔ جہاں ہر ماہ ہر ایک کی تنخواہ سے ایک مخصوص حصہ کاٹا جا رہا ہے۔ مدرسہ کے ذمہ دار حضرات نے کہا ہے کہ یہ لازمی ہوگا۔۱۔ سوال ہےکہ کیا ملازمین کے لیے یہ رقم بعد میں حکومتی (لازمی) پراویڈنٹ فنڈ کی طرح اضافے کے ساتھ لینا جائز ہو گا؟۲۔پراویڈنٹ فنڈ سے متعلق مدرسہ کے آئین میں کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ پراویڈنٹ فنڈ ہوگا یا نہیں یا یہ اختیاری ہوگا یا لازمی ہوگا؟۔ نیز ہماری یہ تجویز درست ہے یا نہیں ؟۳۔ اگر کمپنی مہتمم کی درخواست کی وجہ سے اسے دوبارہ شروع کرتی ہے ،تو کیا یہ حکومت کے لازمی پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہو گا؟ یا یہ رضا کارانہ پر اویڈنٹ فنڈ کی طرح ہو گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پراویڈنٹ فنڈ میں اضافے کے طور پر جو رقم دی جاتی ہے،وہ شرعی اصطلاح میں غیر ادا شدہ تنخواہ میں موجر کی طرف سے یک طرفہ اضافہ ہے، سود نہیں۔کیونکہ سودصرف دوطرفہ معاوضات میں ہوتاہے۔
لازمی پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں غیر ادا شدہ تنخواہ، اضافےکے ساتھ لینے میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں،یہ تمام رقم ملازمین کے لیے حلال ہے ۔ کیونکہ ملازمین کا اس معاملے میں کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ مجبوراً ان کی تنخواہ سے رقم کی کٹوتی کرلی جاتی ہے۔
اختیاری فنڈ میں بھی ملازمین کو غیر اداشدہ تنخواہ ہی اضافے کے ساتھ ملتی ہے، لہذا یہ بھی شرعاً سود نہیں ہے۔تاہم اختیاری کٹوتی کی اجازت دینے سے فی الجملہ سودی لین دین سے مشابہت پائی جاتی ہے ۔سود کی سخت ممانعت کی وجہ سےیہ عمل بھی ناپسندیدہ ہے ۔لہذا اگر بہت زیادہ مالی تنگی نہ ہو،تو بہتر صورت یہ ہے کہ اضافی رقم کو صدقہ کردیاجائے۔البتہ اگر خود ضرورت مند ہے،تو سود نہ ہونے کی بنیاد پر اسے اپنے استعمال میں بھی لاسکتاہے ۔
صورت مسئولہ میں جب لازمی پراویڈنٹ فنڈ کو طے کر دیا گیا ہے ،تو اس میں غیر ادا شدہ تنخواہ ، اضافے کے ساتھ لینابغیر کسی شک و شبہ کے ملازمین کے لیے حلال ہے۔
حوالہ جات
كنز الدقائق (ص431):
باب الربا هو فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال وعلته القدر والجنس فحرم الفضل والنساء بهما.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 300):
(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها.
تبيين الحقائق (4/ 196):
ثم اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا .
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
25 / محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


