03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز فجر کیلئے اٹھنے میں دشواری اور اس کی قضاء کا حکم
92052نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

حضرت مفتی صاحب! میری ایک سال کی بیٹی ہے جو تقریباً روزانہ رات ایک یا  دو بجے سوتی ہے۔ اس سے قبل اسے سلانے کی کتنی ہی کوشش کی جائے، وہ نہیں سوتی۔ بچی کے دیر سے سونے کی وجہ سے میری نیند پوری نہیں ہو پاتی، جس کے باعث ہفتے میں دو تین مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ فجر کے وقت میری آنکھ نہیں کھلتی۔ بیدار ہونے کے تمام ذرائع اور اسباب (الارم وغیرہ) اختیار کرنے کے باوجود فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے، جس کا مجھے دلی طور پر سخت رنج اور صدمہ ہے۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس مشکل میں  مجھے کیا کرنا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اگر کوئی شخص بیدار ہونے کے تمام ظاہری اسباب و تدابیر (مثلاً الارم لگانا، وقت پر سونے کی کوشش کرنا وغیرہ) اختیار کر لے اور پھر بھی شدید تھکاوٹ یا شیرخوار بچے کی دیکھ بھال کی مجبوری کی وجہ سے نیند کا غلبہ ہو جائے اور آنکھ نہ کھلے، تو شرعاً ایسا شخص گناہ گار نہیں ہوتا۔اگرچہ غلبۂ نیند کی وجہ سے مؤاخذہ اور گناہ نہیں ہوتا، لیکن جیسے ہی آنکھ کھلے، اس نماز کی قضا ادا کرنا فرض اور واجب رہتا ہے۔

اگر آنکھ عین طلوعِ آفتاب (سورج نکلنے) کے وقت کھلے، تو طلوع کے وقت نماز پڑھنا ممنوع و مکروہِ تحریمی ہے۔ لہٰذا سورج نکلنے کے بعد جب وہ کچھ بلند اور روشن ہو جائے (طلوع کے تقریباً 15 تا 20 منٹ بعد)، تو فوراً فجر کی قضا ادا کی جائے۔

اس مشکل سے بچنے کے لیے درج ذیل عملی تدابیر اختیار فرمائیں:

  • جاگنے کے لیے الارم کا سلسلہ جاری رکھیں اور اپنی اہلیہ یا گھر کے کسی فرد کی ذمہ داری لگائیں کہ وہ فجر کی اذان کے وقت آپ کو لازمی بیدار کر دیا کریں۔
  • رات کو سونے سے پہلے باوضو ہونے کا اہتمام کریں اور آیت الکرسی ،  تسبیحِ فاطمی (۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمد للہ، ۳۴ بار اللہ اکبر) پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے فجر میں وقت پر بیدار ہونے کی دعا مانگ کر سویا کریں۔
  • دن کے وقت بچی کی نیند کا دوارانیہ کم کریں تاکہ  وہ رات کو جلدی سونے کی عادی ہو سکے اور آپ کی نیند کا نظام سنبھل جائے۔
  • جس دن ان تمام تدابیر کے باوجود اتفاقاً فجر قضا ہو جائے، اس دن سورج نکل کر اونچا ہونے کے بعد (اشراق کے وقت) بطورِ تدارک و تنبیہ چار رکعات نفل ادا کر لیا کریں اور استغفار کیا کریں تاکہ دل کو بیداری حاصل رہے۔
حوالہ جات

«سنن أبي داود» (4/ 141 ت محيي الدين عبد الحميد):

«أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة، عن الصبي حتى يبلغ، وعن النائم حتى يستيقظ، وعن المعتوه حتى يبرأ»

«صحيح مسلم» (2/ 139):

«قال: أما إنه ليس في النوم تفريط، إنما التفريط على من لم يصل الصلاة حتى يجيء وقت الصلاة الأخرى، فمن فعل ذلك فليصلها حين ينتبه لها، فإذا كان الغد فليصلها عند وقتها ثم قال: ما ترون الناس صنعوا؟، قال: ثم قال: أصبح الناس فقدوا نبيهم»

«الاختيار لتعليل المختار» (1/ 64):

«من نام عن صلاة أو نسيها فليصلها إذا ذكرها، فإن ذلك وقتها لا وقت لها غيره» ، وقوله: كما فاتت لأن القضاء يحكي الأداء.

قال: (يقدمها على الوقتية إلا أن يخاف فوتها، ويرتب الفوائت في القضاء) والأصل أن الترتيب شرط بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت، لما روى ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من نسي صلاة فلم يذكرها إلا وهو مع الإمام فليصل مع الأمام ثم ليصل التي نسي، ثم ليعد الصلاة التي صلاها مع الإمام»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (1/ 262):

«رواه ابن دقيق العيد في الإمام عن عقبة قال «نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نصلي على موتانا عند طلوع الشمس» أطلق الصلاة فشمل فرضها ونفلها؛ لأن الكل ممنوع فإن المكروه من قبيل الممنوع؛ لأنها تحريمية لما عرف من أن النهي الظني الثبوت غير المصروف عن مقتضاه يفيد كراهة التحريم وإن كان قطعيه أفاد التحريم فالتحريم في مقابلة الفرض في الرتبة وكراهة التحريم في رتبة الواجب والتنزيه في رتبة المندوب والنهي في حديث عقبة من الأول فكان الثابت به كراهة التحريم»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

٧/ربیع الثانی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب