03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گورنمنٹ اسکیم PAVE سے استفادہ کا حکم
91941خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

گورنمنٹ کی PAVE اسکیم سے لون لے کر ای بائیک (E-bike) خریدنا جائز ہے؟ بینک کی طرف سے یہ میسج آیا ہے:

"your loan application for e-bike/e-rickshaw/e-loader under GOP’s PAVE Scheme, received by The Bank of Punjab (BOP), has been approved digitally. For Further processing of your application, please visit https://ebusinessqarza.bop.com.pk/emobility/. JOLTA ELECTRIC PVT LTD JE 100L Down Payment Rs. 20,452 Vehicle Charges Vehicle Price Rs. 242,900 Down Payment Breakdown Lease Key Amount Rs. 0 Adhesive Stamp Charges Rs. 2,100 Tentative Registration Fee Rs. 6,000 First Year Insurance Fee Rs. 9,716 Physical Verification Charges Rs. 2,636 Total Down Payment Rs. 20,452"

اس اسکیم کے تحت صرف کنوینشنل (روایتی) بینک سے 12 یا 24 اقساط پر بائیک خریدی جاتی ہے، اور کچھ پیسے حکومت سبسڈی (رعایت) کے طور پر دیتی ہے، جبکہ کچھ رقم ایڈوانس بھی ادا کی جاتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 حکومت کی مذکورہ اسکیم سے متعلقہ ویب سائٹ (https://pave.gov.pk) پر موجود شرائط و ضوابط کا مطالعہ کرنے کے بعد، انہیں مدنظر رکھتے ہوئے اس کا شرعی حکم درج ذیل ہے:

اس اسکیم کو دو ورژن میں تقسیم کیا گیا ہے، ایک کا نام 'Bank Lease' اور دوسرے کا 'Self Finance' ہے۔ اس اسکیم میں حکومت کے پارٹنرز مینوفیکچرر کمپنیاں اور بینکس ہیں، جن میں کنوینشنل (روایتی) اور اسلامک دونوں قسم کے بینک شامل ہیں(صرف اسلامک بینک نہیں جیسا  کہ سوال میں ذکر ہے )۔

Bank Lease والے ورژن کی تفصیل یہ ہے کہ اس اسکیم کے تحت ملنے والی پروڈکٹ مثلاً الیکٹرک بائیک (جس کی قیمت 2,50,000 روپے ہے) کے لیے درخواست دہندہ کی درخواست منظور ہو جانے کے بعد متعلقہ بینک، مینوفیکچرر کمپنی سے بائیک لے کر درخواست دہندہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ بائیک کی قیمت میں سے 2,00,000 روپے بینک،   درخواست دہندہ کی طرف سے بطورِ قرض ادا کرتا ہے، جسے وہ(مقروض درخواست دہندہ) بعد میں دو سے تین سال کے عرصے میں قسطوں کی صورت میں بینک کو واپس کرتا ہے، جبکہ 50,000 روپے حکومت بطور سبسڈی ادا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت، درخواست دہندہ کو دیے گئے دو لاکھ روپے کے قرض پر بینک کو تیس ہزار روپے کا مارک اپ (یعنی سود) بھی ادا کرے گی۔

مزید یہ کہ، اس اسکیم کے تحت درخواست دہندہ پر قسطوں کی واپسی کے آغاز سے لے کر اختتام تک الیکٹرک بائیک کی انشورنس کروانا بھی لازم ہے، اور انشورنس کی رقم وہ ہر قسط کی ادائیگی کے وقت جمع کروائے گا۔ اسی طرح کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر پر بینک کی طرف سے مقرر کردہ جرمانہ بھی عائد ہوگا جسے کنوینشنل بینک اپنی آمدنی کا حصہ بناتے ہیں ۔ نیز، اس عرصے میں وہ تمام قسطیں ادا کرنے تک بائیک کو آگے فروخت بھی نہیں کر سکتا، یعنی ابتداء اجارہ اور قسطیں مکمل کرنے کے بعد وہ بیع میں تبدیل ہوجاتا ہے لیکن یہ دونوں عقد شروع میں ایک ساتھ ہی منعقد کرلیے جاتے ہیں ، قسطیں مکمل ہونے کے بعد عقد بیع      الگ سے نہیں کیا جاتا جس سے 'صفقہ فی الصفقہ' لازم آتا ہے۔

اس اسکیم میں حکومت کی طرف سے بینک کو سود کی ادائیگی، انشورنس کا لزوم، قسطوں میں تاخیر پر جرمانہ عائد کرنا اور ایک ہی وقت میں اجارہ و بیع کے دو معاہدوں کو جمع کرنا؛ ان تمام وجوہات کی بناء پر کنوینشنل بینکوں کے توسط سے اس اسکیم کے تحت الیکٹرک بائیک وغیرہ لینا جائز نہیں ہے۔

البتہ اس اسکیم میں موجود پارٹنر اسلامک بینکس (جیسے میزان بینک، بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ، البرکہ بینک لمیٹڈ، فیصل بینک) جو شرعی قواعد و ضوابط ( بیع المساومہ ، تکافل ، پروڈ کٹ پر فوری قبضہ و ملکیت کی منتقلی ،قسط  کی ادائیگی میں تاخیر پر معاوضے کو اپنی آمدنی کے بجائے چیریٹی فنڈ  کا حصہ بنانا ) کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان کی پابندی کرتے ہوئے اس اسکیم کا حصہ ہیں، ان کے ذریعے الیکٹرک بائیک وغیرہ لینا جائز ہے۔

اس اسکیم کا دوسرا ورژن جس کا نام 'Self Finance' ہے، اس میں بائیک کی مکمل قیمت درخواست دہندہ  پہلے سے ہی خود مینوفیکچرر کمپنی کو ادا کرتا ہے اور اسے اپنے نام رجسٹرڈ بھی کرواتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس بائیک کی خریداری کی رسید  و دیگر ڈاکومنٹس حکومت کے پورٹل پر اپ لوڈ کرتا ہے، جن کی تصدیق کے بعد حکومت کی طرف سے اس کے اکاؤنٹ میں 80,000 روپے کی سبسڈی منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس ورژن کے تحت شرعاً حکومتی سبسڈی کے ساتھ الیکٹرک بائیک وغیرہ لینا جائز ہے۔                                                                                                                                          

  سوال میں درج کردہ میسیج  بینک آف پنجاب کی طرف سے آپ کو موصول ہوا ہے  جو بنیادی طور پر ایک کنوینشنل بینک ہے۔  تو اس لیے آپ کو اس اسکیم  کے  Bank Lease والے  ورژن سے استفادہ کیلئے    یا تو اسلامک بینک کا انتخاب کرنا چاہئے یا پھر اس کی بجائے Self Finace کے تحت درخواست دینی چاہئے ۔

حوالہ جات

   «الاختيار لتعليل المختار» (2/ 30):

والأصل في تحريمه قوله تعالى:{وأحل الله البيع وحرم الربا} [البقرة: 275] وقوله: {لا تأكلوا الربا} [آل عمران: 130] والحديث المشهور، وهو قوله عليه الصلاة والسلام: «الذهب بالذهب مثلا بمثل، وزنا بوزن، يدا بيد، والفضل ربا، والحنطة بالحنطة مثلا بمثل، كيلا بكيل، يدا بيد، والفضل ربا، والشعير بالشعير، مثلا بمثل، كيلا بكيل، يدا بيد، والفضل ربا، والتمر بالتمر، مثلا بمثل، كيلا بكيل، يدا بيد، والفضل ربا، والملح بالملح، مثلا بمثل، كيلا بكيل، يدا بيد، والفضل ربا» وأجمعت الأمة على تعدي الحكم منها إلى غيرها إلا ما يروى عن عثمان البتي، وداود الظاهري ولا اعتماد عليه.

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (5/ 121):

«(باب الإجارة الفاسدة) قال رحمه الله (يفسد الإجارة الشروط) لأنها بمنزلة البيع. ألا ترى أنها تقال وتفسخ فتفسدها الشروط التي لا يقتضيها العقد كالبيع، وهذا لأن المنافع بالعقد يكون لها قيمة وتصير به مالا فتعتبر الإجارة بالمعاوضة المالية دون ما سواها من النكاح والخلع والصلح عن دم العمد وأشباهها قال رحمه الله (وله أجر مثله لا يجاوز به المسمى) هذا إذا لم يكن الفساد لجهالة المسمى أو لعدم التسمية، وإن كان لجهالة المسمى أو لعدم التسمية يجب أجر المثل بالغا ما بلغ وكذا إذا كان بعضه معلوما وبعضه غير معلوم مثل أن يسمي دابة أو ثوبا أو يستأجر الدار أو الحمام على أجرة معلومة بشرط أن يعمرها أو يرممها»

«الهداية في شرح بداية المبتدي» (4/ 380):

«فالميسر حرام بالنص وهو اسم لكل قمار، وإن لم يقامر فهو عبث ولهو. وقال عليه الصلاة والسلام: "لهو المؤمن باطل إلا الثلاث: تأديبه لفرسه، ومناضلته عن قوسه، وملاعبته مع أهله" وقال بعض الناس: يباح اللعب بالشطرنج لما فيه من تشحيذ الخواطر وتذكية الأفهام، وهو محكي عن الشافعي رحمه الله. لنا قوله عليه الصلاة والسلام: "من لعب بالشطرنج والنردشير فكأنما غمس يده في دم الخنزير" ولأنه نوع لعب يصد عن ذكر الله وعن الجمع والجماعات فيكون حراما لقوله عليه الصلاة والسلام: "ما ألهاك عن ذكر الله فهو ميسر" ثم إن قامر به تسقط عدالته، وإن لم يقامر لا تسقط؛ لأنه متأول فيه.»

«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 49):

«وقد نهى النبي عليه الصلاة والسلام عن صفقتين في صفقة»

عبدالغفاربن غلام اکبر

 دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی  

  ٢٧ /ربیع الاول/١٤٤٨ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب